مالدیپ: ہندوستانی محيط کے اندرونی جزائر پر مبنوس یہ خوبصورت جزیرہ نما ملک جو اپنی سرخ فام لگاؤ اور عالمی سیاحوں کی جنت کے طور پر مشہور ہے اب صحت کی حفاظت کی ایک نئی مثال قائم کرنے کی طرف گامزن ہے جہاں اس نے رواں ماہ سے ایک ایسا قانون نافذ کر دیا ہے جو 1 جنوری 2007 یا اس کے بعد پیدا ہونے والے تمام افراد کو تمباکو استعمال کرنے، خریدنے یا فروخت کرنے سے مکمل طور پر محروم کر دیتا ہے اور یہ پابندی نہ صرف مقامی شہریوں بلکہ ہر سال لاکھوں کی تعداد میں آنے والے سیاحوں پر بھی یکساں طور پر لاگو ہوگی جو اس ملک کی صحت مند مستقبل کی تعمیر کی ایک تاریخی کاوش ہے۔ یہ قانون جسے تمباکو کنٹرول ایکٹ کا دوسرا ترمیم قرار دیا گیا ہے صدر محمد موئیزو کی قیادت میں منظور ہوا اور اس کا مقصد ایک تمباکو فری جنریشن کی تشکیل ہے جو دنیا بھر میں صحت کی تنظیمی اداروں کی ایک بڑی فتح سمجھا جا رہا ہے خاص طور پر اس لیے کہ مالدیپ اس طرح کی جنریشنل پابندی عائد کرنے والا عالمی سطح پر پہلا ملک بن گیا ہے۔
اس قانون کی تفصیلات سے ظاہر ہوتا ہے کہ 2007 کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو کبھی بھی قانونی طور پر تمباکو مصنوعات کی فراہمی نہیں کی جائے گی اور یہ پابندی سگریٹ، سگار، چبانے والے تمباکو سمیت تمام اقسام پر محیط ہے جو ان کی صحت کو طویل مدتی خطرات سے محفوظ رکھنے کی ایک پائیدار حکمت عملی ہے۔ مالدیپ کی وزارت صحت نے ایک سرکاری بیان میں واضح کیا کہ یہ اقدام عوامی صحت کی حفاظت اور تمباکو فری نسل کی فروغ کے لیے ناگزیر تھا کیونکہ ملک کی کل آبادی کا تقریباً ایک پانچواں حصہ تمباکو استعمال کرتا ہے اور یہ شرح خاص طور پر نوجوانوں میں تیزی سے بڑھ رہی تھی جو مستقبل کی صحت مند نسل کے لیے ایک سنگین خطرہ تھی۔ اس قانون کا اطلاق تمام زائرین اور سیاحوں پر بھی ہوگا جو ہر مہینے لاکھوں کی تعداد میں اس جزیرے پر آتے ہیں اور جن کے لیے یہ پابندی ایک نئی حقیقت بن جائے گی جیسے کہ انہیں تمباکو خریدنے یا استعمال کرنے کی کوشش پر روک لگا دی جائے گی جو ملک کی صحت کی پالیسی کو عالمی سطح پر پروموٹ کرنے کا ایک ذہین طریقہ ہے۔
اس قانون کی نفاذ کو یقینی بنانے کے لیے ریٹیلرز اور دکانداروں پر ایک اہم ذمہ داری عائد کی گئی ہے کہ وہ ہر خریدار کی عمر اور پیدائش کی تاریخ کی تصدیق کریں اور اگر کوئی 2007 یا اس کے بعد پیدا ہونے والا شخص تمباکو خریدنے کی کوشش کرے تو اسے انکار کر دیں ورنہ ان پر 50 ہزار روپیہ کا بھاری جرمانہ عائد کیا جائے گا جو تقریباً 3200 ڈالر کے برابر ہے اور یہ جرمانہ نہ صرف دکانداروں کی احتیاط کو یقینی بنائے گا بلکہ قانون کی خلاف ورزی کو روکنے میں بھی مؤثر ثابت ہوگا۔ یہ تصدیق کا عمل آئی ڈی کارڈ یا پاسپورٹ کی بنیاد پر ہوگا اور اس سے متعلقہ حکام کو تربیت دی جائے گی تاکہ غلطیوں کی کوئی گنجائش نہ رہے جو تمباکو کی غیر قانونی فروخت کو روکنے کی ایک مضبوط رکاوٹ بنے گی۔ اس کے علاوہ مالدیپ نے ای سگریٹ اور ویپنگ ڈیوائسز پر بھی سخت ترین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں جو 2024 میں مکمل طور پر نافذ ہوئیں اور ان کی درآمد، استعمال، فروخت یا قبضے پر 5 ہزار روپیہ کا جرمانہ ہے جو تمباکو کی تمام جدید شکلوں کو روکنے کی ایک جامع حکمت عملی ہے۔
یہ قانون عالمی صحت تنظیم کی تمباکو کنٹرول کی فریم ورک سے ہم آہنگ ہے جو تمباکو کی وجہ سے ہر سال ہونے والی 70 لاکھ اموات کو روکنے کی عالمی مہم کا حصہ ہے اور مالدیپ نے اسے اپنی پالیسیوں میں شامل کرکے ایک مثبت مثال قائم کی ہے جو دیگر ممالک کے لیے راہنمائی کا باعث بن سکتی ہے جیسے کہ برطانیہ اور نیوزی لینڈ جہاں اسی طرح کی جنریشنل پابندیوں پر کام جاری ہے مگر مالدیپ نے اسے سب سے پہلے نافذ کر دیا ہے۔ ملک میں تمباکو مخالف کلینک قائم کرنے کے منصوبے بھی زیر غور ہیں جہاں چھوڑنے والوں کو ادویات اور مشاورت فراہم کی جائے گی جو اس مہم کو مزید مؤثر بنانے کا ذریعہ ہوگا اور نوجوان نسل کو تمباکو کی لت سے پاک رکھنے میں مددگار ثابت ہوگا۔
یہ قانون مالدیپ کی صحت کی پالیسیوں میں ایک انقلابی تبدیلی ہے جو تمباکو کی لت کو ختم کرنے کی طرف ایک طویل مدتی حکمت عملی کا اعلان کرتا ہے مگر اس کی کامیابی نفاذ اور عوامی شعور پر منحصر ہوگی کیونکہ سیاحتی ملک ہونے کی وجہ سے غیر ملکی زائرین کی تعداد بہت زیادہ ہے جو اس پابندی کو چیلنج کر سکتے ہیں۔ ایک طرف تو یہ قدم نوجوانوں کی صحت کو محفوظ بنائے گا اور تمباکو سے ہونے والی بیماریوں جیسے پھیپھڑوں کے کینسر اور دل کی بیماریوں کو کم کرے گا مگر دوسری طرف سیاحتی صنعت پر اس کا اثر بھی ہو سکتا ہے اگرچہ حکام کا کہنا ہے کہ لوگ مالدیپ اس کی خوبصورتی اور آرام کی وجہ سے آتے ہیں نہ کہ سگریٹ پینے کے لیے۔ عالمی سطح پر یہ قانون WHO کی رہنمائی کی پیروی کرتا ہے مگر اسے کامیاب بنانے کے لیے تعلیم اور جرمانوں کی سختی ضروری ہے جو مستقبل میں دیگر ممالک کو متاثر کر سکتا ہے۔
عوامی رائے سوشل میڈیا اور عالمی فورمز پر ایک جوشیلے ردعمل کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں مالدیپ کے شہری اسے ایک بہادرانہ قدم قرار دے رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ قانون ہماری آنے والی نسلوں کو تمباکو کی لت سے بچائے گا اور صحت مند معاشرے کی بنیاد رکھے گا جبکہ سیاح اور نوجوان صارفین میں کچھ ناراضی ہے جو اسے ذاتی آزادی پر حملہ سمجھتے ہیں مگر مجموعی طور پر تعریف کی لہر ہے کہ یہ دنیا کا پہلا جنریشنل بن ایک مثبت مثال ہے اور لوگ امید کر رہے ہیں کہ اس سے تمباکو کی شرح میں نمایاں کمی آئے گی۔





















