لاہور (خصوصی رپورٹ: محمد وسیم جوکھیو) پنجاب میں بچوں پر تشدد اور استحصال کے بڑھتے ہوئے واقعات پر ایگرز فورم نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ سسٹین ایبل سوشل ڈیولپمنٹ آرگنائزیشن (SSDO) کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق فیکٹ شیٹ میں سامنے آنے والے اعداد و شمار معاشرے اور نظامِ انصاف دونوں کے لیے لمحۂ فکریہ ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جنوری تا جون 2025 کے دوران روزانہ اوسطاً 23 بچے تشدد کا شکار ہوئے جبکہ ہزاروں مقدمات زیرِ سماعت رہنے کے باوجود سزا کی شرح نہایت کم رہی۔
ترجمان ایگرز فورم نے کہا کہ جنسی استحصال، چائلڈ بیگری اور چائلڈ ٹریفکنگ جیسے سنگین جرائم میں سزا نہ ہونا اداروں کی ناکامی اور بچوں کے لیے غیر محفوظ ماحول کو ظاہر کرتا ہے۔ بچوں سے متعلق 4 ہزار سے زائد مقدمات میں صرف چند سزائیں ہونا انتہائی افسوس ناک ہے۔
اسے بھی پڑھیں: پنجاب میں بچوں پر تشدد کے واقعات میں تشویشناک اضافہ، سزا کی شرح انتہائی کم
ترجمان کے مطابق تفتیشی عمل کی کمزوریاں، ثبوتوں کا درست حصول نہ ہونا اور مقدمات کے التواء کی وجہ سے جرائم پیشہ عناصر کو کھلی چھوٹ مل رہی ہے۔ سزا کا خوف ختم ہونے سے بچوں کے خلاف جرائم میں اضافہ ہورہا ہے جس پر بروقت اور موثر اقدامات کی فوری ضرورت ہے۔
ایگرز نے عدلیہ، پولیس اور متعلقہ اداروں کو اس طرف توجہ دلاتے ہوئے کہا کہ تفتیشی نظام کو مضبوط بنایا جائے، فوری ٹرائل یقینی بنائے جائیں، چائلڈ پروٹیکشن یونٹس کو فعال کیا جائے اور معاشرتی سطح پر آگاہی مہمات چلائی جائیں تاکہ بچوں کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔





















