عربی علم وتہذیب اور وحی الٰہی کی زبان ہے : پروفیسر ڈاکٹر حسن قادری

اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر منائے جانے والے عالمی دن ’’یوم عربی‘‘ کی مناسبت سے بیان میں گفتگو

لاہور(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے عربی زبان کے حوالے سے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم پر منائے جانے والے عالمی دن یوم عربی کی مناسبت سے اپنے بیان میں کہا ہے کہ عربی علم و تہذیب اور وحی الٰہی کی زبان ہے، یہ زبان صدیوں سے انسانیت کو علم و حکمت و دانائی کی عظیم الشان تاریخ سے جوڑے ہوئے ہے۔ انہوں نے کہا کہ میں فخر کے ساتھ یہ اعلان کررہا ہوں کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل کے تحت شاندار تعلیمی و تدریسی خدمات انجام دینے والے اعلیٰ تعلیمی ادارے کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز (جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن )کے تحت اس عالمی دن کی مناسبت سے بین الاقوامی عربی کانفرنس منعقد کی جارہی ہے، اس بین الاقوامی کانفرنس میں عربی زبان و ادب کی ممتاز شخصیات و سکالرز اور عرب شیوخ شرکت کریں گے،ان شاء اللہ تعالیٰ یہ کانفرنس عربی زبان کی ترویج و اشاعت کے ضمن میں ایک سنگ میل ثابت ہو گی۔

یہ کانفرنس منہاج یونیورسٹی لاہور میں منعقد ہو گی۔ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے کہا کہ شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر محمد طاہرالقادری دامت برکاتہم العالیہ عربی زبان میں کتب تصنیف فرمارہے ہیں جو عربی زبان و ادب کے فروغ و اشاعت میں اہم کردار ادا کررہی ہیں، انہوں نے حال ہی میں 8 جلدوں پر مشتمل ’’انسائیکلوپیڈیا آف سُنہ‘‘ عربی زبان میں تصنیف فرمایا ہے جسے عالم عرب میں بھی زبردست پذیرائی حاصل ہورہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی زبانوں کے ماہرین اس بات پر متفق ہیں کہ عربی زبان نے قدیم و جدید تہذیبوں کے درمیان علمی و فکری روابط کو مضبوط بنایا ہے اور انسانی علم کے ذخیرے میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ عربی زبان ایک زندہ و جاوید زبان ہے اور دنیا بھر میں کروڑوں افراد عربی زبان کے ذریعے اپنی علمی و تہذیبی شناخت کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عربی زبان صدیوں سے علوم دینیہ، فلسفہ، سائنس ادب اور قانون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کرتی آرہی ہے اور منہاج القرآن کے تعلیمی ادارے بالخصوص نظام المدارس پاکستان میں عربی زبان کے فروغ کے حوالے سے شاندار خدمت انجام پارہی ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری نے اپنے بیان میں عربی زبان کو نہ صرف وحی الٰہی کی زبان قرار دیا بلکہ اسے علم و تہذیب، حکمت و دانائی کے ساتھ جوڑتے ہوئے اس کی عالمی اہمیت کو اجاگر کیا۔ یہ زبان صدیوں سے انسانیت کو علمی، فکری اور ثقافتی لحاظ سے مربوط رکھ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عربی زبان نے قدیم و جدید تہذیبوں کے درمیان علمی روابط کو مضبوط کیا اور انسانی علم کے ذخیرے میں گراں قدر اضافہ کیا ہے۔

منہاج القرآن انٹرنیشنل کے تحت کالج آف شریعہ اینڈ اسلامک سائنسز (جامعہ اسلامیہ منہاج القرآن) کے زیر اہتمام عالمی دن کے موقع پر بین الاقوامی عربی کانفرنس منعقد کی جارہی ہے۔ اس کانفرنس میں عربی زبان و ادب کے ممتاز شخصیات، سکالرز اور عرب شیوخ شرکت کریں گے۔ پروفیسر قادری نے اس کانفرنس کو عربی زبان کی ترویج و اشاعت میں ایک سنگ میل قرار دیا۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ منہاج القرآن عالمی سطح پر علمی مکالمے اور ثقافتی تبادلوں کو فروغ دینے کے لیے متحرک ہے۔

پروفیسر قادری نے ذکر کیا کہ شیخ الاسلام پروفیسر ڈاکٹر طاہر القادری دامت برکاتہم العالیہ عربی زبان میں متعدد علمی کتب تصنیف کر رہے ہیں، جن میں حال ہی میں 8 جلدوں پر مشتمل ’’انسائیکلوپیڈیا آف سُنہ‘‘ شامل ہے۔ اس تصنیف کو عرب دنیا میں بھی زبردست پذیرائی حاصل ہے، جو منہاج القرآن کے علمی معیار اور عربی ادب کے فروغ میں کردار کو واضح کرتی ہے۔

چیئرمین نے عربی زبان کو ایک زندہ و جاوید زبان قرار دیا، جو دنیا بھر میں کروڑوں افراد کی علمی و تہذیبی شناخت کا ذریعہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ عربی زبان صدیوں سے علوم دینیہ، فلسفہ، سائنس، ادب اور قانون کے فروغ میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہے۔ اس بیان سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ عربی زبان محض مذہبی مطالعہ تک محدود نہیں، بلکہ یہ دنیا کی علمی اور فکری ترقی میں ایک مضبوط ستون کے طور پر کام کر رہی ہے۔

منہاج القرآن کے تعلیمی ادارے، خصوصاً نظام المدارس پاکستان، عربی زبان کے فروغ کے لیے شاندار خدمات انجام دے رہے ہیں۔ یہ ادارے نہ صرف عربی زبان کی تعلیم دے رہے ہیں بلکہ طلبہ میں علمی و تہذیبی شعور پیدا کرنے اور عالمی سطح پر عربی ادب کی پہچان بڑھانے کے لیے بھی کوشاں ہیں۔

پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری کا بیان عربی زبان کی تاریخی اور علمی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے اور یہ ظاہر کرتا ہے کہ منہاج القرآن انٹرنیشنل نہ صرف مذہبی اور اخلاقی تعلیمات بلکہ علمی اور ثقافتی ترقی میں بھی نمایاں کردار ادا کر رہا ہے۔ بین الاقوامی عربی کانفرنس جیسے اقدامات عالمی سطح پر عربی زبان کی اشاعت، علمی تبادلے اور بین الثقافتی روابط کو فروغ دینے میں سنگ میل ثابت ہوں گے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین