قبول اسلام کے بعد امریکی کاروباری شخصیت کی مسجد الحرام میں پہلی حاضری سوشل میڈیا پر وائرل

جان باگانو کا نام سعودی عرب کے اہم سیاحتی اور ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ نمایاں طور پر منسلک ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:غلام مرتضیٰ)امریکا کی معروف کاروباری شخصیت اور ریڈ سی گلوبل کے چیف ایگزیکٹو آفیسر John Pagano کے قبولِ اسلام کے بعد مسجد الحرام میں گزارے گئے ابتدائی لمحات کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے۔

العربیہ ڈاٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق سعودی عرب کے بڑے سیاحتی پروگرام سے وابستہ کمپنی Red Sea Global کے سربراہ جان باگانو کی مسجد الحرام میں حاضری کے دوران بنائی گئی ویڈیوز نے صارفین کی بھرپور توجہ حاصل کی ہے۔

یاد رہے کہ جان باگانو کا نام سعودی عرب کے اہم سیاحتی اور ترقیاتی منصوبوں کے ساتھ نمایاں طور پر منسلک ہے۔ انہوں نے اکتوبر 2025 میں سعودی شہریت حاصل کی، جس کے بعد مسجد الحرام کے اندر ان کے پہلے لمحات کو کیمرے کی آنکھ نے محفوظ کیا۔ یہی ویڈیو اب دوبارہ منظرِ عام پر آ کر وائرل ہو رہی ہے۔

وائرل ویڈیو میں انہیں مسجد الحرام کی راہداریوں میں پُرسکون انداز میں چلتے، روحانی فضا میں ڈوبے ہوئے خانۂ کعبہ کا مشاہدہ
کرتے اور عقیدت و انکسار کے جذبات کے ساتھ اس تاریخی مقام کی حاضری دیتے دیکھا جا سکتا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مسجد الحرام کا یہ دورہ محض ایک رسمی حاضری نہیں بلکہ مملکتِ سعودی عرب کے ساتھ ان کے مضبوط اور قلبی تعلق کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ تعلق اب صرف پیشہ ورانہ وابستگی تک محدود نہیں رہا بلکہ ایک ایسے وطن سے جڑ چکا ہے جس کی شہریت وہ اختیار کر چکے ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نےاظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ امریکا کی معروف کاروباری شخصیت اور Red Sea Global کے چیف ایگزیکٹو آفیسر John Pagano کے قبولِ اسلام کے بعد Masjid al-Haram میں حاضری کے مناظر یقیناً ایک گہرا اور متاثر کن پیغام رکھتے ہیں۔ ایسے واقعات محض سوشل میڈیا کی خبروں تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ تہذیبی، روحانی اور انسانی سطح پر کئی پہلوؤں کو اجاگر کرتے ہیں۔

میرے خیال میں سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ ایک عالمی سطح کے کاروباری رہنما کا اسلام قبول کرنا اور پھر مسجد الحرام میں اپنی پہلی حاضری دینا اس بات کی علامت ہے کہ مذہب صرف روایت یا جغرافیہ کا پابند نہیں بلکہ دل کی کیفیت اور باطنی اطمینان سے جڑا ہوا معاملہ ہے۔ ایک ایسے شخص کے لیے جو بین الاقوامی کاروباری دنیا میں نمایاں مقام رکھتا ہو، روحانی سفر کا انتخاب کرنا اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ مادی کامیابی کے باوجود انسان کے اندر ایک روحانی خلا موجود رہ سکتا ہے جس کی تکمیل ایمان اور یقین سے ہوتی ہے۔

مسجد الحرام میں ان کے پہلے لمحات کی ویڈیو محض ایک ذاتی تجربہ نہیں بلکہ ایک علامتی منظر بھی ہے۔ خانۂ کعبہ کے سامنے کھڑا ہر انسان اپنی حیثیت، عہدے اور شناخت سے بالاتر ہو جاتا ہے۔ وہاں نہ کوئی سی ای او ہوتا ہے اور نہ کوئی عام فرد—سب ایک ہی صف میں کھڑے ہوتے ہیں۔ یہی مساوات اسلام کی بنیادی تعلیمات میں سے ایک ہے، جو دنیا بھر کے لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہے۔

مزید برآں، چونکہ جان باگانو سعودی عرب کے بڑے ترقیاتی منصوبوں سے وابستہ رہے ہیں، اس لیے ان کا سعودی شہریت اختیار کرنا اور مسجد الحرام میں حاضری دینا پیشہ ورانہ تعلق کو ایک ذاتی اور روحانی رشتے میں بدلنے کی علامت بھی ہے۔ یہ اس بات کا اظہار ہے کہ بعض اوقات کام کی جگہ انسان کے لیے محض ملازمت نہیں رہتی بلکہ وہ اس معاشرے اور ثقافت کا حصہ بن جاتا ہے۔

سوشل میڈیا پر اس ویڈیو کا وائرل ہونا بھی ایک اہم پہلو ہے۔ آج کے دور میں مذہب، شناخت اور عالمی تعلقات جیسے موضوعات پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں، لیکن ایسے مناظر ایک مثبت اور نرم پہلو کو سامنے لاتے ہیں۔ یہ بتاتے ہیں کہ مکالمہ، احترام اور باہمی تعلقات کے ذریعے ثقافتی فاصلے کم کیے جا سکتے ہیں۔

میرے نزدیک اس واقعے کا اصل پیغام یہی ہے کہ ایمان ایک ذاتی سفر ہے، اور جب کوئی شخص اپنی زندگی کے اس اہم مرحلے کو اختیار کرتا ہے تو وہ صرف ایک مذہبی تبدیلی نہیں بلکہ ایک فکری اور روحانی تبدیلی بھی ہوتی ہے۔ مسجد الحرام میں ان کے ابتدائی لمحات دراصل اسی اندرونی تبدیلی کی جھلک پیش کرتے ہیں۔ایک ایسا لمحہ جہاں دنیاوی شناختیں پس منظر میں چلی جاتی ہیں اور انسان اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین