لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) خیبرپختونخوا کے ضلع شمالی وزیرستان کی ایک کمسن بچی کی شاندار بولنگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس کے بعد پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے اسے اپنی لیگ میں شامل کرنے کا اعلان کر دیا۔
شمالی وزیرستان کی تحصیل شیوہ شگہ زالول خیل سے تعلق رکھنے والی آئینہ وزیر ایک مقامی بچوں کے ٹورنامنٹ میں اپنی ٹیم کی نمائندگی کر رہی تھیں کہ اسی دوران ان کی بولنگ کی ویڈیو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر شیئر کی گئی، جس نے دیکھتے ہی دیکھتے صارفین کی توجہ حاصل کر لی۔
یہ ویڈیو سوشل میڈیا صارف بادشاہ پشتین کی جانب سے شیئر کی گئی، جنہوں نے اپنے پیغام میں لکھا کہ آئینہ وزیر شہید عمر گل کی بیٹی ہیں۔ انہوں نے کیپشن میں افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر مناسب مواقع میسر ہوں تو ہمارے بچوں میں بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہے۔
ویڈیو میں آئینہ وزیر کو نہایت اعتماد، مہارت اور روانی کے ساتھ گیند کرواتے دیکھا جا سکتا ہے، جس پر سوشل میڈیا صارفین نے انہیں مستقبل کی باصلاحیت کھلاڑی قرار دیا۔
واو: ماشاءاللہ اس بچی کی باولنگ چیک کرے۔
آئینہ وزیر کا تعلق تحصیل شیواہ شگہ زالول خیل سے ہے اور شہید #عمرگل کی بیٹی ہے ، یہ بچوں کا ایک ٹورنامنٹ ہے جس میں آئینہ کی اپنی ٹیم ہے، افسوس مواقع نہیں ہے ورنہ ہمارے بچوں میں بہت ٹیلنٹ ہے، pic.twitter.com/cPzVBJ9ulk
— Badshah Pashteen (@badshahpashten) February 18, 2026
پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی نے وائرل ویڈیو پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ماشاءاللہ، آئینہ وزیر ایک غیر معمولی باصلاحیت کھلاڑی ہیں اور ایسا ٹیلنٹ یقیناً درست پلیٹ فارم کا حقدار ہوتا ہے۔ بعد ازاں انہوں نے اعلان کیا کہ آئینہ وزیر کو زلمی کی آنے والی ویمن لیگ میں شامل کیا جائے گا۔
جاوید آفریدی نے اپنے پیغام میں کہا کہ انہیں یہ خوشخبری شیئر کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ آئینہ وزیر اب زلمی ویمن لیگ کا حصہ ہوں گی، جہاں انہیں اپنی صلاحیتوں کو مزید نکھارنے کا موقع فراہم کیا جائے گا۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ آئینہ وزیر کی ویڈیو محض ایک کھیل کا منظر نہیں بلکہ یہ قبائلی علاقوں میں موجود خاموش ٹیلنٹ کی ایک مضبوط علامت ہے۔ شمالی وزیرستان جیسے خطے سے ایک کمسن بچی کا اس اعتماد کے ساتھ میدان میں اترنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مواقع کی کمی ہے، صلاحیتوں کی نہیں۔
انہوں نے کہا کہ جب ایک بچی محدود وسائل کے باوجود اس قدر مہارت دکھا سکتی ہے تو یہ ہمارے اسپورٹس سسٹم کے لیے ایک سوال بھی ہے کہ کیا ہم دور دراز علاقوں تک کھیلوں کی سہولیات پہنچا پا رہے ہیں؟ ایسے واقعات اس بات کی یاد دہانی کراتے ہیں کہ ٹیلنٹ کو تلاش کرنا اور اسے پلیٹ فارم دینا ریاستی اور نجی اداروں دونوں کی ذمہ داری ہے۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق پشاور زلمی کی جانب سے آئینہ وزیر کو لیگ میں شامل کرنا صرف ایک خوش آئند قدم نہیں بلکہ ایک پیغام بھی ہے کہ بڑے اسپورٹس برانڈز اگر سنجیدگی دکھائیں تو ملک کے ہر کونے سے ہیرے تلاش کیے جا سکتے ہیں۔ یہ اقدام دیگر اداروں کے لیے بھی مثال بن سکتا ہے کہ وہ نچلی سطح کے ٹیلنٹ کو قومی دھارے میں لانے کے لیے عملی کردار ادا کریں۔





















