واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے عالمی ٹیرف منصوبے کو غیر قانونی قرار دیے جانے کے بعد امریکی صدر نے فوری ردعمل دیتے ہوئے تمام ممالک سے آنے والی درآمدات پر 10 فیصد نیا عالمی ٹیرف عائد کرنے کا ایگزیکٹو آرڈر جاری کر دیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق امریکی سپریم کورٹ نے گزشتہ روز اپنے فیصلے میں قرار دیا کہ صدر نے قانون سازی کے مناسب عمل کے بغیر وسیع پیمانے پر ٹیرف نافذ کیے، جو آئینی اختیارات سے تجاوز کے مترادف ہے۔ عدالت نے اپنے حکم میں واضح کیا کہ تجارتی پالیسی اور محصولات کے معاملات میں کانگریس کا کردار بنیادی حیثیت رکھتا ہے۔
عدالتی فیصلے کے فوراً بعد صدر ٹرمپ نے سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے نیا ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا، جس کے تحت دنیا کے تمام ممالک سے درآمد ہونے والی اشیا پر 10 فیصد ٹیرف عائد کر دیا گیا۔ یہ حکم نامہ 150 دن تک نافذ العمل رہے گا، تاہم اگر کانگریس چاہے تو اس مدت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔
نئے حکم کے مطابق 10 فیصد ٹیرف عمومی طور پر تمام درآمدات پر لاگو ہوگا، البتہ بعض مخصوص اشیا اور چند ممالک کے لیے محدود استثنیٰ کی گنجائش رکھی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق کینیڈا اور میکسیکو کے لیے کچھ رعایتی نکات بھی زیر غور ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق سپریم کورٹ کا فیصلہ ٹرمپ کی تجارتی پالیسی کے لیے ایک بڑا قانونی دھچکا سمجھا جا رہا ہے، کیونکہ عدالت نے واضح طور پر اقتصادی و کارپوریٹ معاملات میں قانون سازی کے اختیار کو کانگریس کے دائرہ کار میں رکھا ہے۔ اس کے باوجود صدر کی جانب سے فوری نیا حکم جاری کرنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ اپنی تجارتی حکمت عملی سے پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں۔
بین الاقوامی سطح پر اس اقدام پر مختلف ردعمل سامنے آئے ہیں۔ بعض ممالک نے اسے عالمی تجارتی توازن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے جبکہ کچھ نے اسے بڑھتے ہوئے تجارتی تناؤ کی ایک نئی لہر کا آغاز کہا ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ محض ٹیرف کی شرح کا نہیں بلکہ امریکی آئینی توازنِ اختیارات کا بھی امتحان ہے۔ سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں قانون سازی کے اختیار کو واضح کیا، لیکن صدر کا فوری ایگزیکٹو آرڈر اس بات کی علامت ہے کہ وائٹ ہاؤس اپنی اقتصادی حکمت عملی کو سیاسی طاقت کے ذریعے برقرار رکھنا چاہتا ہے۔
ان کے مطابق 10 فیصد عالمی ٹیرف بظاہر محدود دکھائی دیتا ہے، مگر اس کے اثرات عالمی سپلائی چین، مہنگائی کی شرح اور بین الاقوامی تجارتی تعلقات پر دور رس ہو سکتے ہیں۔ اگر دیگر ممالک نے جوابی اقدامات کیے تو عالمی منڈیوں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہو سکتی ہے۔
غلام مرتضیٰ کے نزدیک یہ پیش رفت امریکی سیاست میں عدلیہ اور انتظامیہ کے اختیارات کے درمیان کشمکش کی ایک اور مثال ہے، جس کے اثرات نہ صرف امریکا بلکہ عالمی معیشت پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔





















