واشنگٹن / تل ابیب (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) اسرائیل میں امریکا کے سفیر مائیک ہکابی کے ایک حالیہ انٹرویو نے مشرقِ وسطیٰ کی سیاست میں نئی بحث چھیڑ دی ہے، جس میں انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل خطے کے وسیع علاقوں پر کنٹرول حاصل کر لے تو انہیں اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق مائیک ہکابی نے یہ بیان امریکی تجزیہ کار ٹکر کارلسن کے ساتھ ایک پروگرام میں دیا۔ گفتگو کے دوران جب اسرائیل کی ممکنہ جغرافیائی حدود سے متعلق سوال کیا گیا تو انہوں نے بائبل کی آیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خدا نے یہ زمین اسرائیلیوں کو دی ہے اور پورے خطے پر قبضہ کرنا اسرائیل کا حق ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کا دریائے نیل سے دریائے فرات تک کے علاقوں پر کنٹرول حاصل کرنا قابلِ اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔
ماہرین کے مطابق نیل سے فرات تک کا تصور ایک نظریاتی سوچ سے منسلک ہے جسے بعض حلقے “گریٹر اسرائیل” کے نام سے جانتے ہیں۔ اس تصور میں لبنان سے سعودی عرب کے صحراؤں تک اور بحیرہ روم سے عراق کے دریائے فرات تک وسیع جغرافیائی علاقہ شامل کیا جاتا ہے، تاہم یہ تصور بین الاقوامی سطح پر انتہائی متنازع سمجھا جاتا ہے۔
یاد رہے کہ مائیک ہکابی کو گزشتہ سال امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیل میں امریکا کا سفیر مقرر کیا تھا۔ ان کا شمار ان امریکی سیاسی شخصیات میں ہوتا ہے جو اسرائیل کے لیے سخت حمایت کا اظہار کرتی رہی ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب اسرائیل کی جانب سے مغربی کنارے (ویسٹ بینک) میں زمین کو نام نہاد “ریاستی اراضی” قرار دینے کے اقدام پر عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ تقریباً 100 ممالک اور تین بڑے عالمی و علاقائی بلاکس اس اقدام پر تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔
اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ مغربی کنارے میں زمین کو ریاستی ملکیت قرار دینے کا نیا اقدام واپس لے۔ ان کے مطابق یہ فیصلہ غیر قانونی ہے اور خطے میں مزید عدم استحکام پیدا کر سکتا ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایک سفارتی منصب پر فائز شخصیت کا اس نوعیت کا بیان نہ صرف سیاسی بلکہ مذہبی اور جغرافیائی حساسیت کو بھی چھیڑ دیتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی تنازعات اور کشیدگی کا شکار ہے، ایسے میں “نیل سے فرات” جیسے نظریات کا ذکر علاقائی ممالک کے لیے تشویش کا باعث بن سکتا ہے۔
ان کے مطابق سفارتی زبان عموماً محتاط اور متوازن ہوتی ہے، لیکن اگر مذہبی حوالوں کے ذریعے جغرافیائی توسیع کی حمایت کی جائے تو اس کے اثرات صرف بیانات تک محدود نہیں رہتے بلکہ یہ سفارتی تعلقات، علاقائی امن اور عالمی سیاست پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔
غلام مرتضیٰ کے نزدیک اس بیان کا اصل پہلو یہ ہے کہ عالمی سیاست میں مذہبی بیانیہ اور جغرافیائی دعوے جب یکجا ہو جائیں تو تنازع کی شدت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس بیان پر عالمی ردعمل آنے کا امکان بھی موجود ہے، خصوصاً ایسے وقت میں جب فلسطین اور اسرائیل کے مسئلے پر عالمی برادری پہلے ہی تقسیم کا شکار ہے۔





















