ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ: سپر ایٹ کا آغاز، پاکستان اور نیوزی لینڈ آج مدِ مقابل

نیوزی لینڈ کو اس میچ میں سب سے بڑا چیلنج وینیو کی تبدیلی کا درپیش ہوگا

کولمبو (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے سپر ایٹ مرحلے کا آغاز آج پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان اہم مقابلے سے ہوگا، جو کولمبو کے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

سپر ایٹ کے ابتدائی میچ میں دونوں ٹیموں کو ایونٹ کے ایک بڑے امتحان کا سامنا ہوگا۔ گروپ مرحلے میں پاکستان اور نیوزی لینڈ نے نسبتاً کمزور حریفوں کے خلاف کامیابیاں حاصل کر کے اگلے مرحلے تک رسائی حاصل کی، تاہم اپنے اپنے گروپ کے مضبوط حریفوں کے خلاف دونوں کو شکست کا سامنا بھی کرنا پڑا۔

اعداد و شمار کے مطابق اکتوبر 2022 سے اپریل 2025 کے دوران پاکستان اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں مجموعی طور پر 41 مرتبہ آمنے سامنے آ چکی ہیں، جس سے دونوں سائیڈز ایک دوسرے کے کھیل سے بخوبی واقف ہیں۔

نیوزی لینڈ کو اس میچ میں سب سے بڑا چیلنج وینیو کی تبدیلی کا درپیش ہوگا، کیونکہ کیوی ٹیم نے ایونٹ کے اپنے چاروں گروپ میچز چنئی اور احمدآباد میں کھیلے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے آر پریماداسا اسٹیڈیم میں بھارت کے خلاف ایک میچ کھیلا ہے، جبکہ باقی تین میچز بھی کولمبو میں ہی سنہالیز اسپورٹس کلب میں منعقد ہوئے، جس سے گراؤنڈ کنڈیشنز سے واقفیت پاکستانی ٹیم کے حق میں جا سکتی ہے۔

میچ کا سب سے اہم پہلو پاکستان کی اسپن بولنگ اور نیوزی لینڈ کی مستحکم بیٹنگ لائن کے درمیان مقابلہ ہوگا۔ کیوی ٹیم نے اب تک چار میچز میں صرف 14 وکٹیں گنوائی ہیں، جو ان کی بیٹنگ کی مضبوطی کو ظاہر کرتا ہے۔

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان یہ اہم میچ پاکستان وقت کے مطابق شام ساڑھے 6 بجے شروع ہوگا، جہاں دونوں ٹیمیں سپر ایٹ مرحلے میں اپنی مہم کا مضبوط آغاز کرنے کی کوشش کریں گی۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس حوالے سے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ سپر ایٹ مرحلہ دراصل ٹورنامنٹ کا اصل امتحان ہوتا ہے، جہاں معمولی غلطی بھی ٹیم کو باہر کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ مڈل اوورز میں اسکورنگ ریٹ کو برقرار رکھتے ہوئے نیوزی لینڈ کی منظم بیٹنگ کو دباؤ میں لائے۔

انہوں نے کہا کہ اگر پاکستانی اسپنرز وکٹ کے مطابق لائن و لینتھ برقرار رکھنے میں کامیاب رہے تو میچ کا پلڑا سبز شرٹس کی جانب جھک سکتا ہے، تاہم نیوزی لینڈ کی ٹیم دباؤ میں بھی منظم کھیلنے کے لیے جانی جاتی ہے۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ مقابلہ محض ایک میچ نہیں بلکہ سیمی فائنل کی راہ ہموار کرنے کا ابتدائی سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین