بنوں (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سیکیورٹی فورسز نے اپنے قافلے پر ہونے والا بڑا دہشت گرد حملہ ناکام بنا دیا، تاہم مقابلے کے دوران لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ شہید ہو گئے جبکہ پانچ دہشت گرد مارے گئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق 21 فروری کو ضلع بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کیا جا رہا تھا، جب سیکیورٹی فورسز کے قافلے کو بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے نشانہ بنانے کی کوشش کی۔ آپریشن علاقے میں خودکش بمبار اور خوارج عناصر کی موجودگی کی اطلاع پر کیا گیا تھا۔
ترجمان کے مطابق بارود سے بھری گاڑی پر سوار خودکش بمبار کو فورسز کے اگلے دستے نے بروقت روک لیا اور اس کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ دہشت گردوں کا مقصد بنوں شہر میں معصوم شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کو نشانہ بنانا تھا۔
شدید فائرنگ کے تبادلے میں سیکیورٹی فورسز نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں کا سراغ لگا کر پانچ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ تاہم حملے کے دوران بارودی مواد سے بھری گاڑی فورسز کی ایک گاڑی سے ٹکرا دی گئی، جس کے نتیجے میں لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ نے جامِ شہادت نوش کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اپنی جرات مندانہ قیادت کے لیے جانے جاتے تھے اور اگلے مورچوں سے دستوں کی قیادت کر رہے تھے۔ بیان میں کہا گیا کہ دہشت گرد ماہِ رمضان کے مقدس مہینے کے دوران افغان سرزمین استعمال کر کے پاکستان میں کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں، جو اس امر کا ثبوت ہے کہ ان کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ افغان حکومت پر بھی زور دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے سے روکے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وژن “عزمِ استحکام” کے تحت غیر ملکی سرپرستی میں جاری دہشت گردی کے خاتمے کے لیے آپریشنز پوری قوت سے جاری رہیں گے اور شہداء کی قربانیاں قوم کے عزم کو مزید مضبوط کرتی ہیں۔
صدرِ مملکت آصف علی زرداری، وزیراعظم اور وزیر داخلہ نے اس بزدلانہ حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ صدر زرداری نے لیفٹیننٹ کرنل شہزادہ گل فراز اور سپاہی کرامت شاہ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ شہداء کی قربانیاں قوم کا سرمایہ ہیں۔
وزیراعظم نے بھی شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کر کے بڑے نقصان سے شہر کو بچایا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پوری قوم افواج پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے پرعزم ہے۔
وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی نے شہداء کو زبردست الفاظ میں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ کرنل شہزادہ گل فراز نے جرات اور شجاعت کی نئی تاریخ رقم کی اور اپنی جان دے کر دشمن کے مذموم عزائم ناکام بنائے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس واقعے پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بنوں کا واقعہ اس حقیقت کی یاد دہانی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ ابھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی۔ ان کے مطابق سیکیورٹی فورسز کی بروقت کارروائی نے ممکنہ بڑے جانی نقصان کو روکا، لیکن دو افسران کی شہادت اس بات کی گواہی ہے کہ امن کی قیمت مسلسل ادا کی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ماہِ رمضان جیسے مقدس مہینے میں ایسے حملے یہ واضح کرتے ہیں کہ دہشت گردی کا کوئی مذہب نہیں ہوتا۔ غلام مرتضیٰ کے مطابق علاقائی سلامتی کے تناظر میں سرحدی نظم و نسق اور انٹیلی جنس تعاون مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔





















