امریکا میں ممکنہ تاریخی برفانی طوفان کی پیش گوئی، دو کروڑ سے زائد افراد متاثر ہونے کا خدشہ، ہزاروں پروازیں منسوخ

اطلاعات کے مطابق کم از کم 6 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) شمال مشرقی امریکا ایک شدید برفانی طوفان کی لپیٹ میں آنے والا ہے جسے ماہرین حالیہ برسوں کا ممکنہ بدترین “بم سائیکلون” قرار دے رہے ہیں۔ پیش گوئی کے مطابق اس طاقتور طوفان سے دو کروڑ سے زائد افراد براہِ راست متاثر ہو سکتے ہیں جبکہ فضائی اور زمینی نظام بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ طوفان I-95 کوریڈور کے ساتھ واقع علاقوں میں 18 سے 24 انچ تک برف باری کر سکتا ہے۔ برفیلے ہواؤں کی رفتار 70 میل فی گھنٹہ تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے، جس کے باعث بجلی کی فراہمی، ٹرانسپورٹ اور روزمرہ زندگی شدید متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

اب تک 6 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کی جا چکی ہیں جبکہ سینکڑوں پروازیں تاخیر کا شکار ہیں۔ مجموعی طور پر تقریباً 7 ہزار پروازیں اس طوفان سے متاثر ہوئی ہیں۔ سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ہوائی اڈوں میں نیویارک، بوسٹن، نیو جرسی، فلاڈیلفیا، بالٹی مور اور واشنگٹن ڈی سی شامل ہیں۔

اطلاعات کے مطابق کم از کم 6 ریاستوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے اور شہریوں کو گھروں میں رہنے اور غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایت کی گئی ہے۔ نیویارک، بوسٹن اور فلاڈیلفیا میں 18 سے 24 انچ تک برف باری متوقع ہے جبکہ واشنگٹن ڈی سی اور بالٹی مور میں 5 سے 8 انچ تک برف گرنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔ جرسے شور میں 2 فٹ سے زائد برف باری کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

یہ طوفان تقریباً 600 میل سے زائد ساحلی پٹی کو متاثر کر سکتا ہے اور 29 ملین سے زائد امریکی شہری شدید موسمی وارننگ کے تحت ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر ہواؤں کی شدت برقرار رہی تو ساحلی علاقوں میں سیلابی صورتحال بھی پیدا ہو سکتی ہے۔

امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ یہ طوفان شمال مشرقی ساحل کی معمول کی زندگی کو تقریباً مفلوج کر سکتا ہے، اور حکام مسلسل صورتحال کی نگرانی کر رہے ہیں۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ خوراک، پانی اور ہنگامی سامان کا ذخیرہ رکھیں اور سرکاری اعلانات پر عمل کریں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس صورتحال پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے دور میں اس نوعیت کے شدید طوفانوں کی شدت اور تکرار میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق امریکا جیسے ترقی یافتہ ملک میں بھی قدرتی آفات کے اثرات بڑے پیمانے پر نظامِ زندگی کو متاثر کر سکتے ہیں، جو عالمی موسمیاتی چیلنجز کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ لاکھوں افراد کو متاثر کرنے والا یہ طوفان صرف ایک موسمی واقعہ نہیں بلکہ عالمی سطح پر ماحولیاتی پالیسیوں اور ہنگامی تیاریوں کے نظام کا امتحان بھی ہے۔ آنے والے دنوں میں اس طوفان کے معاشی اور سماجی اثرات پر بھی گہری نظر رکھی جائے گی۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین