لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) قومی ٹیم کے اسپنر عثمان طارق نے اپنے منفرد بولنگ ایکشن کی وجہ بتاتے ہوئے کہا ہے کہ یہ انداز انہوں نے ٹینس بال کرکٹ کھیلتے ہوئے اپنایا، جس نے ان کی شناخت کو عالمی سطح پر نمایاں کر دیا۔
آئی سی سی ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران عثمان طارق اپنی غیر روایتی بولنگ ایکشن کے باعث شائقین اور ماہرین کرکٹ کی خصوصی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ ابتدائی میچز میں 8 وکٹیں حاصل کر کے انہوں نے نہ صرف اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا بلکہ یہ بھی ثابت کیا کہ ان کا منفرد انداز محض اسٹائل نہیں بلکہ ایک مؤثر ہتھیار ہے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عثمان طارق نے کہا کہ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کے بولنگ ایکشن کو اس قدر پذیرائی ملے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ہر لمحے سے لطف اندوز ہو رہے ہیں اور ٹیم کی کامیابی میں کردار ادا کرنا ان کے لیے باعثِ فخر ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ٹینس بال کرکٹ کھیلتے ہوئے انہوں نے یہ انداز اپنایا۔ اگر بولنگ کو سلو موشن میں دیکھا جائے تو ٹائمنگ مکمل طور پر درست نظر آتی ہے، صرف رفتار میں معمولی فرق ہوتا ہے۔ ان کے مطابق یہی فرق بیٹرز کے لیے مشکل پیدا کرتا ہے۔
عثمان طارق نے کہا کہ کمنٹیٹرز اور سابق کرکٹرز کی جانب سے ملنے والی تعریف ان کے لیے اعزاز ہے اور وہ مزید بہتر کارکردگی دکھانے کے لیے پرعزم ہیں۔ سپر ایٹ مرحلے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ پاکستانی اسپنرز نے واضح حکمت عملی ترتیب دے رکھی ہے اور اگر وکٹ سے مدد ملی تو منصوبہ بندی پر مؤثر عمل کیا جائے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہر میچ ایک نیا امتحان ہوتا ہے اور ٹیم کی مکمل توجہ اگلے مقابلے میں کامیابی حاصل کرنے پر مرکوز ہے۔
اپنے مخصوص ہیڈ بینڈ کے بارے میں بات کرتے ہوئے عثمان طارق نے بتایا کہ بولنگ کے دوران بال اکثر آنکھوں کے سامنے آ جاتی تھی جس سے توجہ متاثر ہوتی تھی، اس لیے انہوں نے ہیڈ بینڈ پہننا شروع کیا۔ ان کے مطابق شائقین اس انداز کو پسند کر رہے ہیں اور وہ اسے جاری رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس حوالے سے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ جدید کرکٹ میں روایتی تکنیک کے ساتھ ساتھ انفرادیت بھی اہمیت اختیار کر چکی ہے۔ عثمان طارق کا انداز اس بات کی مثال ہے کہ گلی محلوں کی کرکٹ بھی عالمی سطح کے ٹیلنٹ کو جنم دے سکتی ہے۔ اگر وہ مستقل مزاجی برقرار رکھتے ہیں تو مستقبل میں قومی ٹیم کے اہم اثاثے ثابت ہو سکتے ہیں۔





















