60 سالہ حکیم نے محبت کی داستان سنادی،ویڈیو سوشل میڈیا پر آگ کی طرح وائرل

پہلے ہم ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے، محبت ہوئی اور پھر باقاعدہ نکاح کیا گیا

کراچی(خصوصی رپورٹ:غلام مرتضیٰ )سوشل میڈیا پر گزشتہ روز سے ایک 60 سالہ حکیم اور کم عمر خاتون کی شادی کی ویڈیو تیزی سے وائرل ہو رہی ہے، جس کے بعد مختلف حلقوں میں بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ ویڈیو میں نوبیاہتا جوڑا خوشگوار موڈ میں دکھائی دے رہا ہے جبکہ دلہن اور اہلِ خانہ بھی اس رشتے پر اطمینان اور خوشی کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں۔

وائرل ویڈیو کے بعد سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے ملا جلا ردعمل سامنے آیا۔ بعض افراد نے عمر کے فرق کو موضوعِ بحث بنایا اور دلچسپ و تنقیدی تبصرے کیے، جبکہ دیگر صارفین نے اس رشتے کو ذاتی معاملہ قرار دیتے ہوئے اسے مثبت قدم قرار دیا۔

واقعے کے بعد ایک مقامی رپورٹر نے نوبیاہتا جوڑے سے ملاقات کی اور ان کا مؤقف جاننے کی کوشش کی۔ انٹرویو کے دوران 60 سالہ بزرگ نے واضح کیا کہ ان کی شادی محض روایتی بندھن نہیں بلکہ باہمی پسند اور رضامندی کا نتیجہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ “ہماری شادی کو آپ ارینج میرج بھی کہہ سکتے ہیں اور لو میرج بھی۔ پہلے ہم ایک دوسرے کو پسند کرنے لگے، محبت ہوئی اور پھر باقاعدہ نکاح کیا گیا۔”

انہوں نے مزید کہا کہ عمر محض ایک عدد ہے، اصل چیز انسان کا دل اور نیت ہوتی ہے۔ “دل جوان ہونا چاہیے، عمر میں کیا رکھا ہے۔ اگر دو افراد ایک دوسرے کو پسند کریں اور شرعی طریقے سے نکاح کرلیں تو اس میں برائی کی کوئی گنجائش نہیں”، بزرگ کا کہنا تھا۔

حکیم صاحب نے اس بات کی بھی وضاحت کی کہ ان کی اہلیہ طلاق یافتہ تھیں اور دونوں نے باہمی رضا مندی سے نکاح کا فیصلہ کیا۔ ان کے مطابق انہوں نے کسی غیر شرعی عمل کے بجائے نکاح کو ترجیح دی، جو اسلامی تعلیمات کے مطابق ایک جائز اور پسندیدہ عمل ہے۔ “میں نے کوئی غلط کام نہیں کیا، نکاح کیا ہے۔ اگر ہم شریعت کے مطابق رشتہ قائم کریں تو اس پر منفی تبصرے کیوں کیے جائیں؟” انہوں نے سوال اٹھایا۔

دوسری جانب ان کی اہلیہ نے بھی شوہر کے مؤقف کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ محبت میں عمر کی قید نہیں ہوتی۔ “جب انسان دل سے کسی کو پسند کرلے تو پھر تاخیر نہیں کرنی چاہیے۔ ہم نے سوچ سمجھ کر فیصلہ کیا اور نکاح کرلیا، ہمیں اپنے فیصلے پر خوشی ہے”، انہوں نے کہا۔

ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ دلہن نہ صرف مطمئن دکھائی دے رہی ہیں بلکہ خوشی کا اظہار بھی کررہی ہیں۔ اہلِ خانہ کی موجودگی اور حمایت بھی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ یہ رشتہ باہمی رضامندی اور خاندانی اتفاق سے طے پایا۔

سوشل میڈیا پر اس واقعے کو لے کر دو مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔ ایک طبقہ عمر کے نمایاں فرق کو تنقید کا نشانہ بنا رہا ہے اور اسے غیر معمولی قرار دے رہا ہے، جبکہ دوسرا طبقہ اس بات پر زور دے رہا ہے کہ اگر نکاح باہمی رضا مندی اور قانونی و شرعی تقاضوں کے مطابق ہو تو اسے تنقید کا نشانہ بنانا مناسب نہیں۔

کئی صارفین نے اپنے تبصروں میں لکھا کہ معاشرے میں اگر نکاح کو آسان بنایا جائے تو بہت سی سماجی برائیاں خود بخود ختم ہوسکتی ہیں۔ بعض نے یہ مؤقف بھی اختیار کیا کہ کسی کے ذاتی اور قانونی فیصلے پر غیر ضروری تنقید معاشرتی رویوں کی عکاسی کرتی ہے۔

سماجی ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا کے دور میں کسی بھی غیر معمولی یا روایتی ڈھانچے سے ہٹ کر ہونے والے واقعے پر فوری ردعمل سامنے آتا ہے۔ تاہم ایسے معاملات میں بنیادی اہمیت اس بات کو حاصل ہوتی ہے کہ کیا رشتہ قانونی، اخلاقی اور باہمی رضامندی پر مبنی ہے یا نہیں۔ اگر تمام تقاضے پورے ہوں تو محض عمر کے فرق کو بنیاد بنا کر کردار کشی کرنا مناسب رویہ نہیں سمجھا جاتا۔

یہ واقعہ ایک بار پھر اس سوال کو جنم دیتا ہے کہ کیا معاشرہ اب بھی عمر کے فرق پر مبنی شادیوں کو قبول کرنے میں تذبذب کا شکار ہے، یا پھر سوشل میڈیا کا فوری اور جذباتی ردعمل اصل مسئلے سے توجہ ہٹا دیتا ہے۔

بہرحال، وائرل ہونے والی اس شادی نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے، جہاں ایک جانب روایتی سوچ کارفرما ہے تو دوسری جانب ذاتی آزادی اور شرعی و قانونی حدود میں کیے گئے فیصلوں کی حمایت بھی سامنے آرہی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین