از: ڈاکٹر سید حیدر علی بخاری

[email protected]، 03344053239
حضرت سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ تعالی عنہا، رسولِ خدا ﷺ کی لختِ جگر ہیں۔ آپ کا نام فاطمہ ہے اور القابات زہرا، سیدۃ نساء العالمین، الطاہرہ، الزکیہ اور بتول ہیں۔ آپ کی مشہور کنیتیں امُّ الائمہ، امُّ السبطین اور امُّ الحسنین ہیں
ولادتِ باسعادت
آپ رضی اللہ عنہا کا سن ولادت سیرت نگاروں کے نزدیک بعثت نبوی ﷺ کے قریب قریب ہے کہ جب نبی کریم ﷺ کی عمر مبارک اکتالیس برس تھی ۔جبکہ ابن سعد ، ابن حجر عسقلانی اور زیادہ تر مورخین نے لکھا ہے کہ جب قریشِ مکہ خانہ کعبہ کی تعمیر کر رہے تھے، اس زمانہ میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی ولادت باسعادت ام المومنین سیدہ خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ عنہا کے بطن مبارک سے ہوئی اور اس وقت نبی کریم ﷺکی عمر مبارک پینتیس سال کو پہنچ چکی تھی ۔ یہ واقعہ نبوت سے قریباً پانچ برس پہلے کا ہے ۔
فضائل ومناقب
صحاح ستہ اور دیگر معتبر بڑی کتب حدیث میں آپ کے بے شمار فضائل و مناقب بیان ہوئے ہیں، جن میں سے چند ایک کا تذکرہ ہی مختصر اس مختصر تحریر میں کیا جا سکتا ہے۔ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ آیتِ تطہیر پانچ اشخاص کے بارے میں نازل ہوئی، جن میں رسول اللہ ﷺ، حضرت علی، حضرت فاطمہ، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہم شامل ہیں۔ اسی طرح ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے ہی مروی ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ فاطمہ تمام جہانوں کی عورتوں، میری اس امت کی تمام عورتوں اور مومنین کی تمام عورتوں کی سردار ہے۔ امام طبرانی کی روایت کے مطابق، جو حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، رسول اللہ ﷺنے سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اللہ تعالی تمہیں اور تمہاری اولاد کو آگ کا عذاب نہیں دے گا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺنے سیدہ فاطمۃ الزہرا سلام اللہ علیھا سے فرمایا: فداک ابی وامی، کہ فاطمہ میرے ماں باپ تجھ پر قربان ہوں۔ حضرت مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ فاطمہ میری جان کا حصہ ہے، جس نے فاطمہ کو ناراض کیا اس نے مجھے ناراض کیا۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺجب فاطمہ رضی اللہ عنہا کو آتے ہوئے دیکھتے تو خوش آمدید کہتے، پھر ان کی خاطر کھڑے ہو جاتے، انہیں بوسہ دیتے، ان کا ہاتھ پکڑ کر لاتے اور انہیں اپنی نشست پر بٹھاتے، اور جب سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا رسول اللہ ﷺکو اپنی طرف تشریف لاتے ہوئے دیکھتیں تو خوش آمدید کہتیں، کھڑی ہو جاتیں اور آپ کو بوسہ دیتیں۔ حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ، جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آزاد کردہ غلام ہیں، فرماتے ہیں کہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سفر کا ارادہ فرماتے تو اپنے اہل و عیال میں سب سے آخر میں جس سے گفتگو فرما کر سفر پر روانہ ہوتے وہ حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا ہی ہوتیں، اور سفر سے واپسی پر سب سے پہلے جس کے پاس تشریف لاتے وہ بھی سیدہ فاطمۃ الزہرا ہی ہوتیں۔ ام المومنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہی روایت کرتی ہیں کہ میں نے حضور اکرم ﷺکی صاحبزادی سیدہ فاطمۃ الزہرا رضی اللہ عنہا سے بڑھ کر کسی کو عادات و اطوار، سیرت و کردار اور نشست و برخاست میں آپ ﷺسے مشابہت رکھنے والا نہیں دیکھا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ اللہ تعالی نے مجھے حکم فرمایا کہ میں فاطمہ کا نکاح علی سے کر دوں۔ آپ ہی کے بارے میں نبی اکرم ﷺنے فرمایا کہ ہر ماں کی اولاد اپنے باپ کی طرف منسوب ہوتی ہے، سوائے فاطمہ کی اولاد کے، بس میں ہی ان کا ولی ہوں اور میں ہی ان کا نسب ہوں۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے ہوئے سنا کہ میرے نسب اور رشتہ کے سوا قیامت کے دن ہر نسب اور رشتہ منقطع ہو جائے گا۔ حضور نبی اکرم ﷺنے آپ رضی اللہ عنہا کے وصال کے بارے میں پہلے ہی خبر دے دی تھی اور فرمایا تھا کہ میری وفات کے بعد سب سے پہلے فاطمہ ہی مجھ سے ملیں گی، یعنی ان کا وصال ہوگا۔
سیرتِ مبارکہ
آپ رضی اللہ عنھا، اپنے فضائل ومناقب کی طرح سیرت وکردار اور حسن اخلاق میں بھی یکتا تھیں۔حضرت علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ سے آپ کا نکاح یکم ذی الحجہ 2ھ کو نہایت سادگی کے ساتھ ہوا۔ آپ کا جہیز بھی بہت مختصر تھا، جس میں ایک چادر، چمڑے کا تکیہ جس میں کھجور کے ریشے بھرے ہوئے تھے، اور چند سادہ گھریلو اشیاء شامل تھیں، یہ دیکھ کر رسول اللہ کی آنکھوں میں آنسو آ گئے اور آپ علیہ الصلاۃ ،السلام نے اللہ سبحانہ وتعالی سے ان کے لیے برکت کی دعا فرمائی۔ یہ جہیز اسی رقم سے خریدا گیا تھا جو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی زرہ بیچ کر حاصل کی تھی۔
آپ کی سیرت رہتی دنیا تک مسلم خواتین کے لیے مشعل راہ ہے۔ ام المومنین حضرت ام سلمیٰ رضی اللہ عنہا نے فرماتی ہیں کہ فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جب میرے سپرد کیا گیا، تو میں نے انہیں ادب سکھانا چاہا مگر خدا کی قسم فاطمہ تو مجھ سے زیادہ مودب تھیں اور تمام باتیں مجھ سے بہتر جانتی تھیں۔
آپ رضی اللہ عنہا نے کئی جنگیں دیکھیں جن میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نمایاں کردار ادا کیا، جنگ احد میں جب رسول اللہ ﷺکا چہرہ مبارک بھی زخمی ہوا اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کئی زخم کھائے، مگر آپ نے کسی خوف کا مظاہرہ نہیں کیا ، بلکہ بہادری کے ساتھ مرہم پٹی، علاج اور تلواروں کی صفائی کے فرائض سرانجام دیتی رہیں۔
آپ کی شادی کے بعد زندگی بھی طبقہ نسواں کے لیے ایک مثال ہے۔ آپ رضی اللہ عنھا گھر کا تمام کام کاج خود کرتیں، خود چکی پیستی تھیں یہاں تک کہ اس کا اثر آپ کے ہاتھوں پر پڑ گیا، اور پانی بھر کر لاتیں تو اس کے نشان آپ کے کندھوں پر پڑ جاتے۔ آپ نے سید دوعالم ﷺسے ایک خادمہ کے لیے گزارش کی تو رسول اللہ ﷺنے فرمایا “کیا میں تم دونوں کو ایسی چیز نہ بتاؤں جو تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے؟ جب تم بستر پر جاؤ تو تینتیس مرتبہ سبحان اﷲ، تینتیس مرتبہ الحمد ﷲ، اور چونتیس مرتبہ اﷲ اکبر پڑھ لیا کرو، یہ تمہارے لیے خادم سے بہتر ہے۔ اسی نسبت سے اس وظیفے کو تسبیح فاطمہ کہا جاتا ہے۔
جب 7ھ میں رسول اللہ ﷺنے آپ کو فضہ نامی ایک کنیز عنایت فرمائیں تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کام کی انجام دہی کے لیے ان کے ساتھ باری مقرر کی ، یعنی ایک دن آپ خود کام کرتی تھیں اور ایک دن حضرت فضہ رضی اللہ عنہا کام کرتیں۔ ایک مرتبہ رسول اللہ ﷺان کے گھر تشریف لائے اور دیکھا کہ آپ رضی اللہ عنہا بچے کو گود میں لیے چکی پیس رہی ہیں۔ آپ ﷺنے فرمایا کہ ایک کام فضہ رضی اللہ عنہا کے حوالے کر دیتیں؟ آپ نے جواب دیا کہ بابا جان آج فضہ کی باری کا دن نہیں ہے۔ یہ آپ کا کنیز کے ساتھ حسن سلوک تھا۔
وصال
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کا وصال صحیح روایت کے مطابق نبی رحمت ﷺکے اس دنیا سے تشریف لے جانے کے چھ ماہ بعد ۳ رمضان ۱۱ہجری کو ہوا، اس وقت آپ رضی اللہ عنہا کی عمر ۲۹سال یا اس سے کچھ کم تھی۔ مغرب و عشاء کے درمیان آپ کا وصال ہوا اور دیگر صحابہ کرام کے ساتھ ساتھ حضرت ابوبکر صدیق، حضرت عمر فاروق، حضرت عثمان غنی اور حضرت زبیر وعبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہم حاضر ہوئے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو جنازہ پڑھانے کیلئے آگے کیا تو انہوں نمازجنازہ پڑھائی اور رات ہی کو آپ کی تدفین کی گئی۔





















