کوہاٹ میں پولیس وین پر دہشت گرد حملہ، ڈی ایس پی لاچی سمیت 5 اہلکار شہید، سرچ آپریشن شروع

واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے

کوہاٹ (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) خیبر پختونخوا کے ضلع کوہاٹ میں پولیس موبائل پر ہونے والے مہلک حملے میں ڈی ایس پی لاچی سمیت 5 پولیس اہلکار شہید جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ فائرنگ کے تبادلے کے دوران پولیس وین میں موجود دو زیرِ حراست ملزمان بھی ہلاک ہو گئے۔

ڈی پی او کوہاٹ کے مطابق واقعہ نواحی علاقے شکردرہ روڈ پر اس وقت پیش آیا جب پولیس ٹیم ایک زیرِ حراست ملزم کو لے کر جا رہی تھی کہ نامعلوم مسلح افراد نے اچانک حملہ کر دیا۔ حملے کے بعد پولیس اور حملہ آوروں کے درمیان شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔

شہداء میں ڈی ایس پی لاچی، انسپکٹر انارگل خان، ایک گن مین، ریڈر اور ڈرائیور شامل ہیں، جبکہ تین اہلکاروں سمیت چار افراد زخمی ہوئے جنہیں فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔ پولیس حکام کے مطابق حملہ آوروں نے کارروائی کے بعد پولیس موبائل کو آگ لگا دی اور موقع سے فرار ہو گئے۔

واقعے کے بعد علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا جبکہ سیکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے۔ پولیس کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے کر سرچ آپریشن شروع کر دیا ہے، جبکہ کوہاٹ سے اضافی نفری بھی طلب کر لی گئی ہے۔

وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی اور گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے شہداء کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔ وزیر داخلہ نے کہا کہ دکھ کی اس گھڑی میں حکومت شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے۔

وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے بھی واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے آئی جی پولیس سے رپورٹ طلب کر لی۔ انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا پولیس دہشت گردی کے خلاف پہلی دفاعی لکیر ہے اور اس کی قربانیاں ناقابلِ فراموش ہیں۔ ان کے بقول شہداء کا خون رائیگاں نہیں جائے گا۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا ایک بار پھر دہشت گردی کے چیلنج سے دوچار ہے، جہاں پولیس اور سیکیورٹی ادارے مسلسل نشانے پر ہیں۔ ان کے مطابق ایسے حملے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کے حوصلے کو آزمانے کی کوشش ہوتے ہیں بلکہ ریاستی رٹ کو بھی چیلنج کرتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ مستقل امن کے لیے مربوط انٹیلی جنس، سرحدی نگرانی اور مقامی سطح پر مؤثر حکمت عملی ناگزیر ہے، تاکہ ایسے واقعات کی روک تھام ممکن ہو سکے اور شہداء کی قربانیاں حقیقی معنوں میں بارآور ثابت ہوں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین