ٹوکیو (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) سوشل میڈیا کی دنیا میں کبھی کبھار کوئی ایسی کہانی سامنے آتی ہے جو محض وائرل نہیں ہوتی بلکہ دلوں کو چھو لیتی ہے۔ جاپان کے شہر اچیکاوا کے ایک چڑیا گھر میں پیدا ہونے والے ننھے جاپانی مکاک بندر ’’پنچ‘‘ کی ویڈیوز نے حالیہ دنوں کچھ ایسا ہی اثر چھوڑا۔
شدید گرمی کی لہر کے دوران ایک پیچیدہ پیدائش کے بعد دنیا میں آنے والے پنچ کو ابتدا ہی سے مشکلات کا سامنا رہا۔ پیدائش کے بعد اس کی ماں نے اسے قبول نہیں کیا، جبکہ بندروں کی دنیا میں ماں نہ صرف خوراک بلکہ سماجی تربیت کا بنیادی ذریعہ بھی ہوتی ہے۔ ابتدائی مہینوں میں اس کا زیادہ تر رابطہ انسانوں سے رہا، جس کے بعد جنوری میں اسے احتیاط کے ساتھ ’’مونکی ماؤنٹین‘‘ کے احاطے میں دیگر بندروں کے ساتھ شامل کیا گیا۔
چونکہ جاپانی مکاک ایک سخت سماجی نظام رکھتے ہیں اور بچے اپنی ماؤں سے رویے سیکھتے ہیں، اس لیے پنچ کو ابتدا میں نظرانداز کیے جانے اور بعض اوقات جھڑک کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ اس تنہائی کو کم کرنے کے لیے چڑیا گھر کے عملے نے اسے سویڈش کمپنی IKEA کا ایک اورنگوٹان نما نرم کھلونا دیا، جسے پنچ نے فوراً اپنا لیا اور اسے ’’اورا-ماما‘‘ کا نام دیا۔ وہ اسے ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا، گلے لگاتا اور جیسے اس سے تسلی حاصل کرتا۔
یہ مناظر ٹک ٹاک اور انسٹاگرام پر کروڑوں بار دیکھے گئے۔ بعض ویڈیوز نے 30 ملین سے زائد ویوز حاصل کیے جبکہ مداحوں نے فین آرٹ بنا کر اس کی کہانی کو مزید مقبول بنایا۔ امریکی ٹی وی میزبان اسٹیفن کولبرٹ نے بھی اپنے پروگرام میں اس واقعے کا ذکر کیا اور اسے موجودہ دور میں جذباتی تسلی کی علامت قرار دیا۔
چڑیا گھر انتظامیہ کے مطابق سماجی تربیت ایک قدرتی عمل ہے اور اگرچہ پنچ کو ابتدا میں مشکلات کا سامنا رہا، وہ ذہنی طور پر مضبوط ہے اور تیزی سے حالات کے مطابق خود کو ڈھال رہا ہے۔ حالیہ ویڈیوز میں اسے ہم عمر بندروں کے ساتھ کھیلتے اور ایک ساتھی سے پیار بھرے انداز میں صفائی کرواتے دیکھا گیا، جو سماجی قبولیت کی اہم علامت سمجھی جاتی ہے۔
Today, Punch-kun received a lot of care. One monkey spent time with him and groomed him, and he even made a new friend. I’m really happy to see that.
Stay strong, little Punch! pic.twitter.com/sE9afi7RqX
— Weather Monitor (@WeatherMonitors) February 20, 2026
پنچ کی مقبولیت نے مارکیٹ پر بھی اثر ڈالا۔ آسٹریلیا میں ایک ہفتے کے اندر متعلقہ کھلونے کی فروخت میں 200 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ امریکا، جاپان اور جنوبی کوریا میں کئی اسٹورز میں یہ عارضی طور پر نایاب ہو گیا۔ آن لائن پلیٹ فارمز پر اس کی قیمت اصل سے کئی گنا زیادہ دیکھی گئی، جس پر کمپنی نے مثبت ردعمل دیتے ہوئے چڑیا گھر کو درجنوں نرم کھلونے عطیہ کیے۔
ویڈیوز کے وائرل ہونے کے بعد چڑیا گھر میں حفاظتی اقدامات بھی بڑھا دیے گئے۔ مخصوص علاقوں میں نو انٹری زون قائم کیا گیا اور ناظرین کو شور اور غیر ضروری ہجوم سے گریز کی ہدایات دی گئیں تاکہ جانوروں پر دباؤ کم رکھا جا سکے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس واقعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پنچ کی کہانی محض ایک جانور کی کہانی نہیں بلکہ انسانی جذبات کی عکاسی بھی ہے۔ ان کے مطابق تنہائی، مسترد کیے جانے اور پھر قبولیت کی یہ داستان اس بات کی یاد دہانی ہے کہ استقامت اور نرم جذبات کبھی کبھی سب سے بڑی طاقت بن جاتے ہیں۔ پنچ کی خاموش جدوجہد نے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ تعلق اور اپنائیت کی خواہش ہر مخلوق میں مشترک ہے۔





















