واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) سائنس دانوں نے دعویٰ کیا ہے کہ نزلہ، فلو، کووڈ اور الرجی سمیت متعدد سانس کی بیماریوں سے بیک وقت تحفظ فراہم کرنے والی ایک ممکنہ یونیورسل ویکسین کی تیاری حقیقت کے قریب پہنچ چکی ہے، جو مستقبل میں ویکسینیشن کے نظام کو یکسر تبدیل کر سکتی ہے۔
امریکا میں اسٹینفورڈ میڈیسن کے محققین نے چوہوں پر ایک ایسے ویکسین فارمولے کا تجربہ کیا ہے جو مختلف سانس کی وائرل بیماریوں، سیپسس پیدا کرنے والے بیکٹیریا اور حتیٰ کہ گھریلو گرد کے ذرات (ہاؤس ڈسٹ مائٹس) کے خلاف بھی حفاظتی ردعمل پیدا کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ ویکسین ناک کے ذریعے اسپرے کی صورت میں دی جاتی ہے، جس کے بعد یہ پھیپھڑوں میں کئی ماہ تک مؤثر مدافعتی اثر برقرار رکھتی ہے۔ اس طریقہ کار کا مقصد جسم کے اس حصے میں براہِ راست مدافعت پیدا کرنا ہے جہاں سانس کی بیماریاں سب سے پہلے حملہ آور ہوتی ہیں۔
تحقیق کے مرکزی مصنف اور اسٹینفورڈ میڈیسن میں انسٹی ٹیوٹ فار امیونٹی، ٹرانسپلانٹیشن اینڈ انفیکشن کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مالی پولیندران کے مطابق یہ مختلف النوع سانس کی بیماریوں کے خلاف ایک حقیقی یونیورسل ویکسین ثابت ہو سکتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر انسانی آزمائشوں میں بھی یہی نتائج سامنے آئے تو ہر سال لگنے والے متعدد حفاظتی ٹیکوں کی ضرورت کم ہو سکتی ہے۔
سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ اس ویکسین کی خاص بات یہ ہے کہ یہ مدافعتی نظام کو مخصوص وائرس تک محدود نہیں رکھتی بلکہ ایک وسیع اور ہمہ گیر دفاعی نظام کو متحرک کرتی ہے، جو نئی اور ابھرتی ہوئی وباؤں کے خلاف بھی مؤثر ثابت ہو سکتا ہے۔
اگر یہ ویکسین انسانوں کے لیے محفوظ اور مؤثر ثابت ہو گئی تو سردیوں میں عام نزلہ زکام اور فلو کے ساتھ ساتھ کووڈ جیسی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ایک ہی اسپرے کافی ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت نہ صرف صحتِ عامہ کے لیے بڑی خبر ہے بلکہ عالمی سطح پر وبائی امراض سے نمٹنے کی حکمت عملی کو بھی نئی سمت دے سکتی ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وبا کے بعد دنیا میں جامع اور دیرپا مدافعت فراہم کرنے والی ویکسین کی ضرورت شدت سے محسوس کی جا رہی تھی۔ ان کے مطابق اگر یہ تحقیق کامیاب ہوتی ہے تو یہ نہ صرف طبی میدان میں انقلاب برپا کرے گی بلکہ صحت کے اخراجات اور سالانہ ویکسین مہمات پر بھی نمایاں اثر ڈالے گی





















