طورخم و تیراہ میں سرحدی کشیدگی، پاک فوج کا بھرپور جواب، افغان چیک پوسٹ تباہ

جھڑپیں سرحد کے تین مختلف مقامات پر ہوئیں اور تقریباً ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) پاک افغان سرحد پر طورخم اور تیراہ سیکٹر میں اس وقت کشیدگی بڑھ گئی جب افغان جانب سے مبینہ طور پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی، جس پر پاکستانی سیکیورٹی فورسز نے فوری اور مؤثر جوابی کارروائی کرتے ہوئے صورتحال کو قابو میں کر لیا۔

وزیراعظم شہباز شریف کے ترجمان برائے غیر ملکی میڈیا مشرف زیدی کے مطابق فائرنگ کے واقعات ضلع خیبر کے سرحدی علاقوں طورخم اور تیراہ میں پیش آئے، جہاں افغان فورسز کی جانب سے اچانک گولہ باری کی گئی۔

سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ جھڑپیں سرحد کے تین مختلف مقامات پر ہوئیں اور تقریباً ایک گھنٹے تک فائرنگ کا تبادلہ جاری رہا۔ پاکستانی فورسز نے پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کرتے ہوئے نہ صرف اپنی پوزیشنیں محفوظ رکھیں بلکہ مؤثر جوابی کارروائی بھی کی۔

ذرائع کے مطابق پاکستانی فورسز کے تمام اہلکار محفوظ رہے، جبکہ جوابی کارروائی میں افغان فورسز کی ایک چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا گیا جو مکمل طور پر تباہ ہو گئی۔

حکومتی مؤقف کے مطابق پاکستان اپنی سرحدی خودمختاری اور شہریوں کے تحفظ پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ کسی بھی اشتعال انگیزی کا فوری اور بھرپور جواب دیا جائے گا۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ پاک افغان سرحد پر وقتاً فوقتاً پیش آنے والے ایسے واقعات خطے کی مجموعی سیکیورٹی صورتحال پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ ان کے مطابق سرحدی نظم و ضبط اور مؤثر سفارتی رابطے دونوں ممالک کے مفاد میں ہیں تاکہ کشیدگی کو بڑھنے سے روکا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ سرحدی علاقوں میں پائیدار امن کے لیے عسکری چوکسی کے ساتھ ساتھ سیاسی اور سفارتی سطح پر بھی مؤثر حکمت عملی ناگزیر ہے، کیونکہ کسی بھی غیر متوقع جھڑپ کے اثرات وسیع تر علاقائی استحکام پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین