لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف آج صوبے کی پہلی ای ٹیکسی اسکیم کا باقاعدہ افتتاح کریں گی، جسے پاکستان کی تاریخ میں ایک نئی اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
حکومتی تفصیلات کے مطابق پہلے مرحلے میں 1100 الیکٹرک گاڑیاں فراہم کی جائیں گی۔ اسکیم میں خواتین کے لیے 30 فیصد کوٹہ مخصوص رکھا گیا ہے، جبکہ خواتین ڈرائیورز کی گاڑیوں کا رنگ الگ ہوگا تاکہ انہیں نمایاں اور محفوظ شناخت دی جا سکے۔
مالی سہولت کے تحت مرد ڈرائیوروں کے لیے 50 فیصد اور خواتین ڈرائیوروں کے لیے 60 فیصد ڈاؤن پیمنٹ حکومت پنجاب ادا کرے گی۔ اس کے علاوہ گاڑیوں کی رجسٹریشن، فٹنس ٹیسٹ اور ٹوکن ٹیکس کی فیس بھی حکومت برداشت کرے گی۔ باقی واجبات پانچ سالہ آسان اقساط میں ادا کیے جائیں گے تاکہ نوجوانوں اور خواتین کو معاشی طور پر بااختیار بنایا جا سکے۔
حفاظتی اقدامات کے طور پر ہر ای ٹیکسی میں پنک بٹن نصب کیا گیا ہے جو پنجاب سیف سٹی اتھارٹی سے منسلک ہوگا۔ ہنگامی صورتحال میں بٹن دبانے پر فوری مدد فراہم کی جا سکے گی۔
اسکیم کے تحت گاڑیاں رائیڈ ہیلنگ پلیٹ فارمز ان ڈرائیو اور یاننگو کے ساتھ رجسٹرڈ ہوں گی۔ عوامی مقامات پر فاسٹ چارجنگ اسٹیشنز بھی نصب کیے جائیں گے تاکہ گاڑیوں کی بلا تعطل سروس یقینی بنائی جا سکے۔ ڈیجیٹل پیمنٹ کی سہولت بھی فراہم کی جائے گی تاکہ کیش لیس نظام کو فروغ ملے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس منصوبے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ای ٹیکسی اسکیم نہ صرف ماحول دوست اقدام ہے بلکہ یہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گی۔ ان کے مطابق خواتین کے لیے مخصوص کوٹہ اور اضافی مالی معاونت اس بات کی علامت ہے کہ حکومت ٹرانسپورٹ سیکٹر میں خواتین کی شمولیت کو بڑھانا چاہتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر چارجنگ انفراسٹرکچر اور شفاف نگرانی کا نظام مؤثر انداز میں نافذ کیا گیا تو یہ منصوبہ صوبے میں جدید اور محفوظ شہری ٹرانسپورٹ کے لیے سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔





















