لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) اداکارہ و میزبان فضا علی کے رمضان ٹرانسمیشن سے متعلق ایک مبینہ آڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد پروگرام کی ساکھ پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ صارفین کی جانب سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ڈاکٹر نبیہا علی خان کی شرکت والا مکمل پروگرام پہلے سے طے شدہ اور ’اسکرپٹڈ‘ تھا۔
وائرل آڈیو میں مبینہ طور پر پروگرام کے اختتام کے فوراً بعد کی گفتگو سنائی دیتی ہے۔ آڈیو میں ایک آواز، جسے سوشل میڈیا صارفین فضا علی کی قرار دے رہے ہیں، یہ کہتے ہوئے سنی جا سکتی ہے کہ ’ہنٹ مجھے بولنے نہیں دے رہے اور مسلسل آگے آ رہے ہیں، تاہم آج کی یہ بھی وائرل ہی نکلی‘۔
اسی آڈیو میں موضوع کے انتخاب پر بھی گفتگو ہوتی سنائی دیتی ہے، جہاں فضا علی کہتی ہیں کہ ’ماں کا موضوع بہت جلدی رکھ دیا‘۔ کسی مردانہ آواز کی جانب سے تجویز دی جاتی ہے کہ پہلے ’ابا والا‘ موضوع کر لیا جائے، تاہم جواب میں کہا جاتا ہے کہ ’ماں کا موضوع بہت رونق والا ہوتا ہے‘۔ ایک اور آواز میں کہا جاتا ہے کہ ’کل ساس کا کیا تھا، آج ماں کا کرنا بنتا ہے‘۔
فضا علی کا ڈاکٹر نبیحہ کیساتھ پروگرام Scripted نکلا، فضا علی کی پروگرام کے بعد خفیہ Chat لیک ہو pic.twitter.com/3uGvlljulh
— Makhdoom Shahab-ud-Din (@ShahabSpeaks) February 24, 2026
مبینہ آڈیو میں ایک موقع پر یہ جملہ بھی سنائی دیتا ہے کہ ’سب سے مزے کی بات نبیہا سے کل ان کی پہلی ملاقات تھی اور یہ نہیں جانتے تھے‘، جس نے پروگرام کی سچائی پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سوشل میڈیا پر اس آڈیو کو بنیاد بنا کر پروگرام کو ’پلانٹڈ‘ اور ’اوور ایکٹنگ‘ قرار دیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر نبیہا علی خان نے حال ہی میں اپنے دیرینہ دوست حارث کھوکھر سے شادی کی تھی، جسے میڈیا نے بھرپور کوریج دی۔ تاہم بعد ازاں دونوں کے درمیان اختلافات کی خبریں سامنے آئیں اور اس وقت وہ علیحدہ رہ رہے ہیں۔ دونوں شخصیات میڈیا پر ایک دوسرے کے خلاف بیانات بھی دے چکی ہیں۔
ڈاکٹر نبیہا نے فضا علی کے رمضان پروگرام میں شرکت کے دوران اپنے ازدواجی مسائل پر گفتگو کی تھی اور کہا تھا کہ ان کا رشتہ شدید مشکلات کا شکار ہے اور معاملات طلاق تک جا سکتے ہیں۔ اس دوران فضا علی بھی جذباتی ہو گئیں اور کئی مواقعوں پر آبدیدہ نظر آئیں، جس پر سوشل میڈیا پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا تھا۔
وائرل آڈیو کے بعد صارفین کا کہنا ہے کہ پروگرام کے جذباتی مناظر قدرتی نہیں بلکہ پہلے سے طے شدہ تھے۔ تاہم فضا علی یا متعلقہ چینل کی جانب سے تاحال اس آڈیو کی تصدیق یا تردید نہیں کی گئی ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں کسی بھی پروگرام کی شفافیت اور صداقت سب سے اہم عنصر بن چکی ہے۔ ان کے مطابق اگر آڈیو مستند ثابت ہوتی ہے تو یہ ناظرین کے اعتماد پر اثر انداز ہو سکتی ہے، تاہم حتمی رائے قائم کرنے سے قبل باضابطہ وضاحت کا انتظار ضروری ہے۔





















