اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے پاکستان تحریک انصاف کے اندرونی اختلافات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ پارٹی کے مختلف گروپوں میں ہزاروں اختلافات موجود ہیں، تاہم ایک معاملے پر سب متفق ہیں کہ عمران خان جیل میں ہی رہیں۔
سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی حکومت عمران خان کی رہائی کے لیے فورس بنانے کا اعلان تو کر رہی ہے، لیکن دہشت گردی کے خلاف واضح مؤقف اختیار نہیں کر رہی۔ ان کے مطابق صوبے میں روزانہ پولیس اہلکار شہید ہو رہے ہیں اور سیکیورٹی صورتحال سنگین ہے، مگر ترجیح صرف ایک شخصیت تک محدود ہے۔
وزیر دفاع نے کہا کہ خیبر پختونخوا حکومت مبینہ طور پر شہداء کے جنازوں میں شرکت سے بھی گریز کر رہی ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے۔ انہوں نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کو ترجیحِ اول و آخر بنایا جا رہا ہے اور دیگر قومی معاملات پس منظر میں چلے گئے ہیں۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ پارٹی کے اندر مختلف دھڑوں کے درمیان شدید اختلافات پائے جاتے ہیں اور ایک دوسرے پر تنقید بھی کی جا رہی ہے، مگر عمران خان کے جیل میں رہنے کے معاملے پر مکمل اتفاق پایا جاتا ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی ماحول میں بیانات اور جوابی بیانات نے فضا کو مزید کشیدہ بنا دیا ہے۔ ان کے مطابق سیاسی جماعتوں کے اندرونی اختلافات اور قومی سلامتی کے معاملات ایک ساتھ زیر بحث آ رہے ہیں، جو سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی چیلنجز اپنی جگہ اہم ہیں، جبکہ عمران خان کی گرفتاری اور رہائی کا معاملہ بھی سیاسی منظرنامے کا مرکزی موضوع بنا ہوا ہے۔ ایسے حالات میں سیاسی قیادت کے بیانات ملکی سیاست کی سمت پر نمایاں اثر ڈال سکتے ہیں۔





















