لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد خان آفریدی نے کہا ہے کہ انہوں نے جان بوجھ کر شاہین شاہ آفریدی کو اپنی ٹیم میں شامل نہیں کیا تاکہ انہیں غصہ آئے اور وہ بہتر کارکردگی دکھائیں۔
نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے شاہد آفریدی نے بتایا کہ شاہین ان کی پلیئنگ الیون میں شامل نہیں تھے، تاہم انہیں معلوم تھا کہ اس کھلاڑی سے بہترین کارکردگی کیسے لی جا سکتی ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات کھلاڑی کی نفسیات کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔
شاہد آفریدی نے کہا کہ انہوں نے شاہین کو اس انداز میں چھیڑا کہ اسے غصہ آئے، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس کی شخصیت میں مقابلہ کرنے کا جذبہ بہت مضبوط ہے۔ ان کے بقول کچھ لوگوں کی انا کو اسی انداز میں متحرک کرنا پڑتا ہے تاکہ وہ میدان میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کریں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اگر ان سے اگلے میچ کے بارے میں پوچھا جائے تو وہ شاید اس میں بھی شاہین کو اپنی ٹیم میں شامل نہ کریں، کیونکہ وہ اس کی ذہنی کیفیت کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔
سابق کپتان نے کہا کہ انہوں نے اپنی بیٹی کو بھی پہلے ہی بتا دیا تھا کہ میچ میں شاہین بہتر کارکردگی دکھائے گا۔ ان کے مطابق شاہین ایک فائٹر ہے اور اسے چیلنج دینا اس کی کارکردگی کو مزید نکھارتا ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جدید کرکٹ میں کھلاڑیوں کی نفسیات اور موٹیویشن کا کردار انتہائی اہم ہو چکا ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات کوچز اور سینئر کھلاڑی جان بوجھ کر دباؤ یا چیلنج پیدا کرتے ہیں تاکہ کھلاڑی اپنی بہترین صلاحیت سامنے لا سکے۔
انہوں نے کہا کہ شاہین شاہ آفریدی جیسے جارحانہ مزاج کے باؤلر کے لیے اعتماد اور جذباتی توانائی دونوں اہم عناصر ہیں، اور اگر انہیں درست انداز میں استعمال کیا جائے تو وہ میچ کا رخ بدلنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔





















