لاہور (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) اُبھرتی ہوئی نوجوان اداکارہ عینا آصف نے اپنی عمر سے متعلق گردش کرتی افواہوں پر کھل کر بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ابھی کم عمر ہیں اور ان کا قومی شناختی کارڈ بننے میں تقریباً نو ماہ باقی ہیں۔
عینا آصف حال ہی میں ایک نجی چینل کی رمضان نشریات میں شریک ہوئیں جہاں میزبان فیصل قریشی نے ان سے براہِ راست عمر سے متعلق سوال کیا۔ اس موقع پر انہوں نے واضح کیا کہ وہ قانونی طور پر ابھی شناختی کارڈ کے مرحلے تک نہیں پہنچی ہیں اور اپنی اصل عمر کے حوالے سے سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی باتیں درست نہیں ہیں۔
اداکارہ نے اس بات پر بھی اظہارِ خیال کیا کہ انہیں اکثر مشورہ دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی عمر کے مطابق کردار ادا کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ جب وہ اپنی عمر سے مطابقت رکھنے والے کردار کرتی تھیں تو تب بھی ناقدین کہتے تھے کہ وہ بڑی لگتی ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے اپنے کام کے ذریعے ثابت کیا ہے کہ وہ مشکل اور سنجیدہ کردار بھی ادا کر سکتی ہیں۔
سوشل میڈیا پر بعض صارفین کا دعویٰ ہے کہ عینا آصف کی عمر 21 یا 22 سال ہے، جبکہ کچھ افراد نے یہ سوال بھی اٹھایا کہ اگر وہ 18 سال سے کم عمر ہیں تو ان کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں چائلڈ لیبر قوانین کے تحت آتی ہیں یا نہیں۔ تاہم اس حوالے سے کوئی باضابطہ قانونی یا سرکاری بیان سامنے نہیں آیا۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس معاملے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سوشل میڈیا کے دور میں نوجوان فنکاروں کی ذاتی زندگی اور عمر جیسے معاملات بھی بحث کا موضوع بن جاتے ہیں۔ ان کے مطابق اصل پیمانہ فنکار کی کارکردگی اور پیشہ ورانہ صلاحیت ہے، جبکہ قانونی امور متعلقہ اداروں کی ذمہ داری ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ عینا آصف کم عمری میں نمایاں مقام حاصل کرنے والی اداکاراؤں میں شامل ہیں اور اگر وہ اسی تسلسل اور سنجیدگی کے ساتھ کام کرتی رہیں تو مستقبل میں بھی ان کا کیریئر مستحکم رہ سکتا ہے۔





















