رمضان میں معدے کے مسائل سے بچاؤ کیسے ممکن؟ لیموں اور اناردانہ کا مفید نسخہ سامنے آگیا

رمضان میں صرف خوراک کا انتخاب ہی نہیں بلکہ کھانے کا انداز بھی اہمیت رکھتا ہے۔ماہرین

کراچی (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) ماہِ رمضان میں روزمرہ خوراک کے معمولات میں اچانک تبدیلی کے باعث گیس، تیزابیت، بدہضمی، قبض اور پیٹ کے اپھارے جیسی شکایات عام ہو جاتی ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق ان مسائل کی بڑی وجوہات میں افطار کے وقت حد سے زیادہ کھانا، مرغن و تلی ہوئی اشیا کا استعمال اور سحری یا افطار کے فوراً بعد لیٹ جانا شامل ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ رمضان میں صرف خوراک کا انتخاب ہی نہیں بلکہ کھانے کا انداز بھی اہمیت رکھتا ہے۔ کھانا اچھی طرح چبا کر اور اعتدال کے ساتھ کھایا جائے، جبکہ سحری میں ضرورت سے زیادہ پیٹ بھرنے سے گریز کیا جائے تاکہ معدے پر غیر ضروری دباؤ نہ پڑے۔ کھانے کے فوراً بعد آرام یا لیٹ جانے کی عادت ہاضمے کے مسائل کو بڑھا دیتی ہے۔

معدے کی خرابیوں کے لیے ماہرین طب ایک سادہ گھریلو نسخہ بھی تجویز کرتے ہیں۔ اس کے مطابق سوکھا لیموں، انار دانہ، دیسی پودینہ اور سونف ہم وزن یعنی 50، 50 گرام لے کر باریک پیس کر پاؤڈر بنا لیا جائے۔ اس مرکب کا ایک چائے کا چمچ سحری اور افطار کے بعد پانی کے ساتھ استعمال کرنے سے تیزابیت، گیس، منہ کا کڑوا پن، بدہضمی اور پیٹ کے پھولنے جیسی شکایات میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

ماہرین صحت نے اس تاثر کی بھی تردید کی ہے کہ بدہضمی یا سینے کی جلن کی صورت میں سافٹ ڈرنکس فائدہ دیتی ہیں۔ ان کے مطابق کاربونیٹیڈ مشروبات معدے کی تیزابیت کو مزید بڑھا سکتے ہیں، جو نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اسی طرح افطار کے فوراً بعد چائے یا کافی پینے سے بھی گریز کا مشورہ دیا جاتا ہے، کیونکہ کیفین معدے کی کارکردگی کو متاثر کر سکتی ہے اور جلن یا بھاری پن کی شکایت برقرار رہ سکتی ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ نے اس حوالے سے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ رمضان میں صحت مند رہنے کا راز سادہ خوراک، اعتدال اور نظم و ضبط میں پوشیدہ ہے۔ ان کے مطابق معمولی احتیاطی تدابیر اور قدرتی نسخوں کے ذریعے روزے کے دوران پیش آنے والے بیشتر معدے کے مسائل سے بچا جا سکتا ہے، بشرطیکہ غیر ضروری کھانے پینے کی عادات سے اجتناب کیا جائے

متعلقہ خبریں

مقبول ترین