چینی کمپنی کے مالک نے ملازمین کو نئے انداز میں بونس دے کر دنیا کو حیران کر دیا

تقریب میں تقریباً 7 ہزار افراد کی میزبانی کے لیے 800 میزیں سجائی گئیں

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین) چین کی ایک نجی صنعتی کمپنی نے اپنی سالانہ تقریب کو ایسی یادگار داستان میں بدل دیا جسے سن کر یقین کرنا مشکل ہو جائے۔ تصور کریں کہ ایک وسیع ہال میں میزوں پر نقدی کے بنڈل سجے ہوں، اسٹیج روشن ہو، ہزاروں ملازمین موجود ہوں اور اعلان ہو کہ مخصوص وقت تک جتنی رقم سمیٹ سکتے ہیں، سمیٹ لیں۔ یہ کوئی فلمی منظر نہیں بلکہ چین کی معروف کمپنی ہینان کوانگ شان کرین کو لمیٹڈ کمپنی کی سالانہ تقریب کا حقیقی واقعہ ہے، جس نے سخاوت اور کارپوریٹ کلچر کی نئی مثال قائم کر دی۔

کمپنی کے بانی اور مالک چوئی پی جون نے ملازمین میں مجموعی طور پر 18 کروڑ یوآن، جو پاکستانی کرنسی میں 7 ارب روپے سے زائد بنتے ہیں، تقسیم کر کے سب کو حیران کر دیا۔ یہ رقم کمپنی کے 27 کروڑ یوآن سالانہ منافع کا بڑا حصہ تھی، جسے انتظامیہ نے اپنے ورکرز کے ساتھ بانٹنے کا فیصلہ کیا۔

سالانہ تقریب کا منفرد منظر

سالانہ تقریب کے لیے شاندار انتظامات کیے گئے۔ تقریب میں تقریباً 7 ہزار افراد کی میزبانی کے لیے 800 میزیں سجائی گئیں۔ ہال میں خوشی اور جوش کی فضا تھی۔ اسٹیج پر ایک جانب اعلیٰ کارکردگی دکھانے والے ملازمین کو بلا کر خصوصی انعامات دیے گئے، تو دوسری جانب درجنوں میزوں پر نوٹوں کے بنڈل رکھ دیے گئے۔

اعلان کیا گیا کہ مقررہ وقت کے اندر جو جتنی رقم اٹھا سکتا ہے، وہ اس کی ہوگی۔ ملازمین نے خوشی اور حیرت کے ملے جلے جذبات کے ساتھ اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے کروڑوں یوآن کی رقم ہاتھوں ہاتھ تقسیم ہو گئی۔

اس تقریب میں صرف 6 کروڑ یوآن (2 ارب پاکستانی روپے سے زائد) نقد بونس کے طور پر دیے گئے، جبکہ مجموعی طور پر 18 کروڑ یوآن ملازمین میں بانٹے گئے۔ یہ اقدام نہ صرف مالی انعام تھا بلکہ محنت اور وفاداری کے اعتراف کا عملی اظہار بھی تھا۔

مالک کا حیران کن اعلان

تقریب کے دوران ایک دلچسپ لمحہ اس وقت آیا جب کمپنی کے مالک چوئی پی جون نے فنانس ڈیپارٹمنٹ سے مخاطب ہو کر کہا کہ “ہم واشنگ مشینیں کیوں دے رہے ہیں؟ کیا آپ کو معلوم نہیں کہ سونا کتنا مہنگا ہو چکا ہے؟” اس کے بعد انہوں نے فوری طور پر ہدایت دی کہ مزید نقد رقم لائی جائے اور ہر ملازم کو اضافی 20 ہزار یوآن دیے جائیں۔

یہ اعلان سنتے ہی ہال تالیوں سے گونج اٹھا اور ملازمین کی خوشی دیدنی تھی۔ اس اقدام نے کمپنی کے اندر اعتماد اور وابستگی کے جذبات کو مزید مضبوط کر دیا۔

عالمی سطح پر پھیلا کاروبار

2002 میں قائم ہونے والی یہ کمپنی کرینوں کی تیاری کے شعبے میں ایک نمایاں مقام رکھتی ہے۔ صنعتی آلات اور دیگر مصنوعات تیار کرنے والی اس کمپنی کا کاروبار 130 سے زائد ممالک تک پھیلا ہوا ہے۔ عالمی مارکیٹ میں مضبوط پوزیشن اور مسلسل ترقی اس امر کی دلیل ہے کہ کمپنی نے محنت، جدت اور انتظامی بصیرت کے ذریعے اپنا مقام بنایا ہے۔

چوئی پی جون اس سے قبل بھی اپنے ملازمین کو غیر معمولی بونس دے چکے ہیں۔ 2024 میں بھی انہوں نے 17 کروڑ یوآن ملازمین میں تقسیم کیے تھے۔ اسی طرح مارچ 2025 میں عالمی یومِ خواتین کے موقع پر 2 ہزار خواتین ملازمین میں 16 لاکھ یوآن تقسیم کیے گئے، جسے خواتین کی خدمات کے اعتراف کے طور پر سراہا گیا۔

کارپوریٹ کلچر کی نئی مثال

دنیا بھر میں کمپنیاں منافع کماتی ہیں، مگر ہر کمپنی اپنے کارکنوں کو اس انداز میں شریک نہیں کرتی۔ اس اقدام نے نہ صرف چین بلکہ عالمی سطح پر توجہ حاصل کی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات سے ملازمین کی کارکردگی میں اضافہ، ادارے سے وابستگی میں مضبوطی اور مثبت کارپوریٹ امیج پیدا ہوتی ہے۔

یہ واقعہ اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ جب قیادت اپنے ملازمین کو صرف کارکن نہیں بلکہ شراکت دار سمجھے، تو ادارے کی کامیابی اجتماعی خوشی میں بدل جاتی ہے۔

چین کی اس کمپنی کی سالانہ تقریب محض ایک تقریب نہیں تھی بلکہ یہ اس فلسفے کی عکاسی تھی کہ کامیابی تب ہی مکمل ہوتی ہے جب اس کی خوشیاں سب کے ساتھ بانٹی جائیں۔ کروڑوں یوآن کی یہ تقسیم یقیناً آنے والے برسوں تک کارپوریٹ دنیا میں ایک مثال کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔

 

متعلقہ خبریں

مقبول ترین