ز نور محمد جہاں روشن است

(خواجہ نور محمد سئیں عرب کے باسی تھے ہجرت فرما کر افغانستان تشریف لائے اور بعد ازاں وہاں سے پاکستان کے علاقہ ڈیرہ غازیخان کی طرف ہجرت کر کے محمد پور دیوان کو آباد فرمایا )

ز نور محمد جہاں روشن است

تحریر : محمد آصف انقلابی

(خواجہ نور محمد سئیں عرب کے باسی تھے ہجرت فرما کر افغانستان تشریف لائے اور بعد ازاں وہاں سے پاکستان کے علاقہ ڈیرہ غازیخان کی طرف ہجرت کر کے محمد پور دیوان کو آباد فرمایا )

برصغیر کے معروف صوفی بزرگ اور برگزیدہ ہستی سلطان العارفین شیخ الاسلام حضرت خواجہ نور محمد چشتی نظامی (رح) محمد پور ضلع راجن پور آپ رح کا تعلق عرب کے قبیلہ قریش سے تھا آپ کا شجرہ نسب خلیفہ دوم مراد رسول صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے جا ملتا ہے آپ رح عرب سے تبلیغ اسلام اور اشاعت دین متین کی غرض سے افغانستان تشریف لائے۔آپکی قابلیت اور شرعی علوم پر بے پناہ مہارت کی وجہ سے اس وقت کے افغانستان کے حکمران نے آپکو افغانستان میں مزہبی امور کا وزیر مقرر کر دیا۔آپ عرصہ 2 سال تک افغانستان میں مزہبی امور کے وزیر رہے پھر وزارت چھوڑ کر افغانستان سے پاکستان کے علاقہ ڈیرہ غازیخان تشریف لائے اور محمد پور دیوان کو آباد فرمایا

ز نور محمد جہاں روشن است

(خواجہ نور محمد سئیں انتہائی قابل ترین انسان تھے جنکی قابلیت کی وجہ سے برصغیر کی تین ریاستوں کے ہیڈ آف سٹیٹ آپکے عقیدت مند تھے اور ریاستی معاملات چلانے کیلئے آپ سے رہنمائی لیتے تھے)

عرب سے آنے کے بعد آپ عربی زبان بولتے تھے آپ اتنے بڑے مایہ ناز عالم دین محدث مجتہد مفسر قرآن اور دانشور تھے اور اس ہستی کو اس صدی کا مجدد بھی کہا جا سکتا ہے کہ اس وقت آپکی قابلیت کو دیکھ کر برصغیر کی تین ریاستوں ( 1)
ریاست بہاول پور
(2 )ریاست خیر پور سندھ
(3 )ریاست سوات کے سربراہان یعنی وزرائے اعظم امور سلطنت چلانے کیلئے اور شرعی مسائل کے حل کیلئے آپکی خدمت میں حاضر ہوتے تھے ریاست بہاول پور کے نواب محمد بہاول خان عباسی اول آپکے انتہائی عقیدت مند تھے آپکے وصال مبارک کے بعد محمد پور دیوان میں آپ کا روضہ مبارک نواب محمد بہاول خان نے تعمیر کروایا تھا جو آج تک محمد پور دیوان میں اپنی شان و شوکت کیساتھ موجود ہے نواب آف بہاول پور نے آپکے نام ( خواجہ نور محمد ) کی نسبت سے محمد پور دیوان میں دو نہروں 1 نور واہ 2 محمد واہ کی بنیاد رکھی جو آج تک قائم ہیں۔

(خواجہ نور محمد رح کا تعلیمی نظام ایک عظیم الشان مدرسہ (یونیورسٹی ) کا قیام عمل)

آپ نے اس وقت محمد پور دیوان میں مدرسہ اسلامیہ نور محمدیہ قائم فرمایا جہاں قابل ترین علمائے دین سکالرز کو تعینات فرمایا جو طلبہ و طالبات کو دین کی آفاقی تعلیمات سے فیض یاب فرمایا کرتے تھے یہ مدرسہ اس وقت ایک یونیورسٹی کا درجہ رکھتا تھا اور ریاست بہاول پور کی حکومت سے الحاق شدہ تھا جہاں ہزاروں طلبہ دین کی تعلیم سے فیض یاب ہوتے تھے۔

(خواجہ نور محمد رح کے دست پاک پر 122 قوموں کی بعیت اور آپ رح کا گشکوری قوم پر احسان عظیم)

آپ جس وقت محمد پور دیوان میں تشریف فرما تھے اس وقت 122 قوموں کے سربراہان آپکے دست پاک پر بیعت ہوئے آپ نے گشکوری قوم کو دعا فرمائی اور سرداری کی پگ پہنائی دستار بندی کیلئے نواب محمد بہاول خان عباسی کو محمد پور بلوا کر گشکوری قوم کے اس وقت کے سربراہ سردار نبھاو خان گشکوری کی دستار بندی فرمائی

(حضرت خواجہ نور محمد رح کی بچپن اور طالب علمی کے دور کی کرامت)

روایات میں آتا ہے کہ حضرت خواجہ نور محمد سئیں رح خلیفہ و شاگرد تھے( حضرت خواجہ نور محمد نارووال سرکار حاجی پور شریف) ایک دن حضرت خواجہ نارووال سرکار کے ہاں مہمان تشریف لائے تو انہوں نے اپنے شاگردوں کو لکڑیاں چننے کیلئے قریبی جنگل میں بھیجا سب شاگردوں نے لکڑیوں کے گٹھے بنائے لیکن حضرت خواجہ نور محمد سئیں رح نے ان سب کی نسبت سے بڑا گھٹا بنایا اور سب سرکار ناروال سرکار کی طرف چل دیے راستے میں بہت زیادہ طوفانی بارش ہوئی اور سب کے سب شاگردوں کے گھٹے پانی میں بھیگ گئے اور لکڑیاں وہاں چھوڑ آئے لیکن حضرت خواجہ نور محمد سئیں رح اپنا گھٹا لے کر مرشد کریم کی بارگاہ میں حاضر ہو گئے پھر سب نے انکی اکھٹی کی ہوئی لکڑیاں جلا کر مہمانوں کیلئے کھانا تیار کیا گیا بعد میں انکے مرشد کریم نے دریافت فرمایا کہ اے نور محمد راستے میں تو شدید بارش تھی تم کہاں سے لکڑیاں لیکر آئے ہو ؟؟؟ اس پر حضرت خواجہ نور محمد سئیں رح نے جواب دیا کہ حضور جب طوفانی بارش برس رہی تھی تو میں بادلوں کے اوپر سے چل کر آیا ہوں اس وجہ سے مجھے بارش نے متاثر نہیں کیا یہ واقعہ اور کرامت آپ کے بچپن کی ہے

(خواجہ نور محمد کے پوری دنیا میں دین کی سربلندی کیلئے سفر لاکھوں لوگوں کو اسلام کی دولت عطا فرمانا اور مسلمانوں کو زوال سے عروج تک پہنچانا آپکے عظیم کارنامے)

آپ رح تبلیغ اسلام کی غرض سے دہلی اجمیر شریف لکھنو اور بغداد شریف تک تشریف لے گئے اور لاکھوں افراد کو دائرہ اسلام میں داخل فرمایا اور اپنے علوم و فنون کا لوہا منوایا

(خواجہ نور محمد رح کا عظیم کارنامہ سکھوں کا غلبہ ٹوڑ کر مسلمانوں کو غالب کرنا مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر جمع کرنا اور اسلام کے پرچم تلے ایک پہچان عطا فرمانا آپ کا عظیم کارنامہ)

مسلمان اس وقت سیاسی طور پر زوال پزیر تھے مسلمانوں پر اس وقت سکھوں کا غلبہ تھا مسلمان انتشار کا شکار تھے خواجہ نور محمد کی تعلیمات نے مسلمانوں کو اسلام کے ایک پلیٹ فارم پر جمع فرمایا اور اپنی ایک پہچان قائم رکھنے اور اسلام کے پرچم تلے رہنے کیلئے آپکی تعلیمات اور تبلیغ نے مثالی کردار ادا فرمایا

خواجہ نور محمد رح سئیں کی عمر مبارک میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کی خاص نسبت 63 برس کا اعزاز حاصل ہے جو بہت کم اولیا کرام کو عطا کیا جاتا ہے

14 رمضان المبارک 1724 عیسوی میں آپکی ولادت ہوئی جبکہ 14 رمضان المبارک 1787 عیسوی میں آپ رح کا وصال مبارک ہوا اور آپ (63) برس کی عمر مبارک میں ظاہری طور پر اس دنیا سے پردہ (وصال) فرما گئے آپکے وصال مبارک پر پورے برصغیر میں سوگ وار ماحول تھا ایک ولی کامل کا وصال ہوا تھا اہل علاقہ کے ہمراہ نواب محمد بہاول خان عباسی محمد پور دیوان آئے اور آپکی زوجہ محترمہ حضرت بی بی عائشہ کو اظہار افسوس کیا اور اجازت طلب کی کہ آپکے مزار مبارک پر روضہ تعمیر کیا جائے بی بی پاک کی اجازت سے نواب بہاول خان عباسی نے محمد پور دیوان میں آپ کا روضہ مبارک تعمیر کروایا جو آج تک لاکھوں لوگوں کی عقیدت و محبت کا مرکز ہے

(خواجہ نور محمد سئیں کا سالانہ عرس مبارک اور خواجہ نور محمد سیمینار کا انعقاد)

برصغیر کے عظیم صوفی بزرگ سلطان العارفین حضرت خواجہ نور محمد رح سئیں کا عرس مبارک بعنوان خواجہ نور محمد سیمینار رمضان المبارک کے مقدس ماہ کی
(14۔15۔16) تاریخ کو منعقد ہوتا ہے جس میں عرس کے پہلے روز محفل سماع قوالی اور مدح سرائی ہوتی ہے عرس کے دوسرے روز حضور خواجہ نور محمد سئیں کی مزار اقدس کو عرق گلاب سے غسل اور چادر پوشی سجادہ نشین دوئم صاحبزادہ پیر میاں فضل احمد صاحب فرماتے ہیں عرس مبارک کے تیسرے روز محفل نعت و خطابات کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور بعد نماز ظہر ختم شریف و دعا ہوتی ہے عرس کی تقریبات میں صدارت سجادہ نشین اول صاحبزادہ میاں محمد احمد صاحب سجادہ نشین دوئم صاحبزادہ میاں فضل احمد صاحب صاحبزادہ میاں فیاض احمد صاحب اور صاحبزادہ میاں محبوب احمد سئیں (ناظم اعلی آستانہ عالیہ محمد پور شریف) ملک بھر سے ہزاروں مریدین تشریف لاتے ہیں اور اپنی عقیدت کا اظہار کرتے ہیں عرس مبارک کے تیسرے روز ختم شریف اور علمائے دین کے شان اولیا اور شان خواجہ نور محمد سئیں پر خطابات ہوتے ہیں جو آپکی سیرت٫ سوانح عمری اور آپکے کارناموں پر روشنی ڈالتے ہیں اس موقع پر شہر محمد پور دیوان میں عوام کی تفریح کیلئے سہ روزہ تاریخی قدیمی میلہ بھی منعقد کیا جاتا ہے اس سے چند سال قبل میلے والے روز مرحوم سردار شاہ نواز خان گشکوری خواجہ نور محمد سئیں سے محبت و عقیدت کے اظہار کیلئے محمد پور میں تاریخ ساز دنگل کا انعقاد کرتے تھے جس میں ملک بھر سے پہلوان آتے تھے اور اپنی پہلوانی کے جوہر دیکھاتے تھے جو کہ عوام کی تفریح کا رنگ دوبالا کر دیتا تھا سردار شاہ نواز خان گشکوری کے اس دنیا سے چلے جانے کے بعد محمد پور کی عوام اس تفریح سے محروم ہو گئی

متعلقہ خبریں

مقبول ترین