ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت ختم کرنا ہمارا مشن ہے، امریکی وزیر خارجہ

امریکا پیشگی کارروائی نہ کرتا تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔مارکو روبیو

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے تناظر میں سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا کا واضح مشن ایران کی بیلسٹک میزائل صلاحیت کو تباہ کرنا ہے تاکہ وہ خطے اور عالمی سلامتی کے لیے خطرہ نہ بن سکے۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران نے خلیجی ممالک میں فوجی اور غیر فوجی اہداف کو نشانہ بنایا، ہوٹلوں اور رہائشی عمارتوں پر حملے کیے اور 100 سے زائد میزائل فائر کیے۔ ان کے مطابق ایران کے ابتدائی حملوں میں بڑے پیمانے پر جانی نقصان ہوا۔

مارکو روبیو کا کہنا تھا کہ اگر امریکا پیشگی کارروائی نہ کرتا تو نقصان کہیں زیادہ ہو سکتا تھا۔ انہوں نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ ایران کو کسی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرنے دیے جائیں گے، کیونکہ اگر میزائل پروگرام کے ساتھ ایٹمی صلاحیت بھی شامل ہو گئی تو ایران عالمی سلامتی کے لیے بڑا خطرہ بن سکتا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کے خلاف فوجی آپریشن تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور تمام اقدامات بین الاقوامی قوانین کے مطابق کیے جا رہے ہیں۔ امریکی وزیر خارجہ کے مطابق کانگریس کو مکمل طور پر اعتماد میں لیا جا رہا ہے اور اہم اراکین کو مسلسل بریفنگ دی جا رہی ہے۔

ایک اور بیان میں انہوں نے موجودہ ایرانی حکومت کو عوام کی نمائندہ قرار دینے سے انکار کیا اور کہا کہ امریکا ایک ایسے ایران کا خواہاں ہے جو موجودہ نظام سے مختلف ہو۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ ایرانی عوام خود اپنی حکومت میں تبدیلی لائیں گے، تاہم اگر انہیں امریکا کی مدد درکار ہو تو واشنگٹن اس کے لیے تیار ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق امریکی وزیر خارجہ کا یہ بیان مشرقِ وسطیٰ میں پہلے سے جاری کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے۔ ان کے بقول، ایران کے میزائل پروگرام اور جوہری سرگرمیوں کا معاملہ عالمی طاقتوں کے لیے ایک حساس موضوع ہے، اور سخت بیانات سفارتی عمل کو مزید پیچیدہ بنا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر کشیدگی میں اضافہ ہوا تو اس کے اثرات نہ صرف خطے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست پر بھی مرتب ہو سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین