اسرائیل کے ایجنڈے میں صیہونی اثر و رسوخ کو پاکستان تک لانا شامل ہے، وزیر دفاع

ایران کی جانب سے معاہدے کی آمادگی کے باوجود اس پر جنگ مسلط کی گئی،خواجہ آصف

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ صیہونیت انسانیت کے لیے خطرہ بن چکی ہے اور فلسطین کی سرزمین پر اسرائیل کے قیام کے بعد سے عالمِ اسلام کو جن تنازعات اور جنگوں کا سامنا رہا، ان میں صہیونی نظریے کا کردار نمایاں دکھائی دیتا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری اپنے بیان میں خواجہ آصف نے مؤقف اختیار کیا کہ صیہونی اثر و رسوخ عالمی معاشی نظام پر طویل عرصے سے غالب رہا ہے اور بڑی طاقتیں بھی بعض اوقات دباؤ کا شکار نظر آتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کی خودمختاری کا تحفظ اللہ تعالیٰ کی مدد اور مسلح افواج کی صلاحیتوں کے باعث ممکن ہوا ہے۔

وزیر دفاع نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ان تمام افراد پر اپنی رحمتیں نازل فرمائے جنہوں نے پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے میں کردار ادا کیا اور ایٹمی تجربات کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ پاکستان ایک مضبوط جوہری ریاست ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے معاہدے کی آمادگی کے باوجود اس پر جنگ مسلط کی گئی اور اسرائیل کے ایجنڈے میں صیہونی اثر و رسوخ کو پاکستان کی سرحدوں تک وسعت دینا شامل ہے۔ ان کے مطابق افغانستان، ایران اور بھارت کے بعض حلقوں کا مشترکہ ایجنڈا پاکستان کو غیر مستحکم کرنا اور سرحدوں کو غیر محفوظ بنانا ہو سکتا ہے۔

خواجہ آصف نے پاکستانی عوام پر زور دیا کہ وہ سیاسی و مذہبی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر قومی مفاد اور سلامتی کے معاملات میں یکجہتی کا مظاہرہ کریں۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ عالمِ اسلام کو اتحاد عطا فرمائے اور پاکستان کو مضبوط و محفوظ رکھے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق وزیر دفاع کا یہ بیان خطے میں جاری کشیدگی کے تناظر میں اہمیت رکھتا ہے۔ ان کے بقول، مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کی بدلتی ہوئی صورتحال میں سفارتی حکمت عملی، علاقائی توازن اور داخلی استحکام پاکستان کے لیے بنیادی اہمیت رکھتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کے بیانیے میں اتحاد، ذمہ دارانہ گفتگو اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششیں ناگزیر ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ تصادم کے اثرات سے بچا جا سکے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین