ریاض میں امریکی سفارتخانے پر ایران کے حملے، آبنائے ہرمز بند، امریکیوں کو مشرق وسطیٰ کے 14 ممالک چھوڑنے کی ہدایت

خصوصی پروازوں کے انتظام کا انتظار کرنے کے بجائے دبئی چھوڑ کر زمینی راستے سے سعودی عرب یا عمان پہنچنے کی کوشش کی جائے:کینیڈاکی شہریوں کو ہدایت

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ایران، امریکا اور اسرائیل کے مابین جاری کشیدگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور خطہ تیزی سے غیر یقینی صورتِ حال کی جانب بڑھ رہا ہے۔

سعودی حکام کے مطابق ریاض میں واقع امریکی سفارتخانے کو دور ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں محدود نوعیت کی آگ بھڑک اٹھی اور عمارت کو جزوی نقصان پہنچا۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیا گیا ہے اور متنبہ کیا ہے کہ اس اہم بحری گزرگاہ سے گزرنے والے کسی بھی جہاز کو ہدف بنایا جا سکتا ہے۔ واضح رہے کہ اس آبی راستے سے دنیا کی تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل عمل میں آتی ہے۔

اسرائیلی افواج کی جانب سے تہران اور بیروت پر حملوں کا سلسلہ بدستور جاری ہے، جن کے دوران ایران کے سرکاری نشریاتی ادارے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایران اور لبنان میں ان کارروائیوں کے نتیجے میں مجموعی ہلاکتوں کی تعداد چھ سو سے تجاوز کر چکی ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بیان دیا ہے کہ ایران کے خلاف عسکری کارروائیاں تقریباً چار ہفتوں تک جاری رہ سکتی ہیں، اور واشنگٹن تہران کے میزائل اور جوہری پروگرام کو ناکارہ بنانے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات اختیار کرے گا۔

ایران نے خلیجی ریاستوں میں توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو بھی ہدف بنایا ہے، جس کے باعث عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ قطر کی سرکاری توانائی کمپنی قطر انرجی نے اپنی دو تنصیبات پر حملوں کے بعد مائع قدرتی گیس کی پیداوار عارضی طور پر معطل کر دی ہے۔

ایران کی جانب سے اسرائیل کے مختلف شہروں پر بھی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیلی فوج کے مطابق مغربی یروشلم، تل ابیب اور ایلات کی فضاؤں میں داغے گئے میزائلوں کو راستے ہی میں تباہ کر دیا گیا، تاہم ہفتے سے اب تک اسرائیل میں کم از کم دس افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔

خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال نے عالمی برادری کو شدید تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، اور متعدد ممالک کی جانب سے فوری سفارتی کوششیں تیز کرنے پر زور دیا جا رہا ہے تاکہ کشیدگی کو مزید پھیلنے سے روکا جا سکے۔

امریکا نے اپنے شہریوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ فوری طور پر مشرقِ وسطیٰ کے چودہ ممالک ترک کر دیں اور اپنی سلامتی کو یقینی بنائیں۔

امریکی محکمۂ خارجہ کی جانب سے جاری کردہ سفری تنبیہ میں کہا گیا ہے کہ بحرین، مصر، ایران، عراق، اسرائیل (بشمول مغربی کنارہ اور غزہ)، اردن، کویت، لبنان، عمان، قطر، سعودی عرب، شام، متحدہ عرب امارات اور یمن میں موجود امریکی شہری سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر بلا تاخیر اپنی مدد آپ کے تحت ان ممالک سے روانہ ہو جائیں۔

امریکی حکام کے مطابق خطے کی سلامتی کی صورتحال نہایت تیزی سے تبدیل ہو رہی ہے اور کسی بھی لمحے میزائل یا بغیر پائلٹ طیاروں کے حملوں کا امکان موجود ہے۔ شہریوں کو عسکری مراکز اور حساس تنصیبات کے قریب جانے سے گریز کرنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔

ادھر کینیڈا کی حکومت نے بھی اپنے شہریوں کو دبئی فوری طور پر چھوڑنے کا مشورہ دیا ہے۔ کینیڈین حکام کا کہنا ہے کہ خصوصی پروازوں کے انتظام کا انتظار کرنے کے بجائے زمینی راستے سے سعودی عرب یا عمان پہنچنے کی کوشش کی جائے۔

عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں متعدد ممالک اپنے شہریوں کو محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایات جاری کر رہے ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے بروقت نمٹا جا سکے۔

علی لاریجانی، جو ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکریٹری ہیں، نے امریکا کے ساتھ ممکنہ مذاکرات سے متعلق گردش کرنے والی خبروں کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تہران واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی قسم کی بات چیت کا ارادہ نہیں رکھتا۔

سماجی رابطے کے پلیٹ فارم X پر جاری اپنے بیان میں انہوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ ایران امریکا کے ساتھ مذاکرات نہیں کرے گا۔

ان کا یہ ردعمل امریکی جریدے The Wall Street Journal کی اس رپورٹ کے بعد سامنے آیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد لاریجانی نے عمانی ثالثوں کے ذریعے امریکا کے ساتھ جوہری مذاکرات کی بحالی کی کوشش کی۔

علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ ان کے غیر حقیقت پسندانہ تصورات نے مشرقِ وسطیٰ کو انتشار اور بدامنی کی کیفیت میں دھکیل دیا ہے، اور اب وہ مزید امریکی جانی نقصان کے خدشات سے پریشان ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ ٹرمپ نے اپنے "امریکا فرسٹ” کے نعرے کو عملاً "اسرائیل فرسٹ” میں تبدیل کر دیا اور امریکی فوجیوں کو اسرائیلی مفادات کے تحفظ کے لیے قربان کیا۔

ان کا مؤقف تھا کہ اس پالیسی کی قیمت امریکی فوجیوں اور ان کے خاندانوں کو ادا کرنا پڑے گی، جبکہ ایران اپنے دفاع کے حق سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

اردن نے حالیہ میزائل حملوں پر سخت احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے ایرانی سفیر کو طلب کر لیا ہے اور علاقائی کشیدگی میں اضافے پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

ایرانی سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ تازہ حملوں کے نتیجے میں اب تک 560 امریکی فوجی ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ایرانی افواج نے امریکی طیارہ بردار بحری جہاز USS Abraham Lincoln کو چار میزائلوں سے نشانہ بنانے کا بھی دعویٰ کیا ہے۔

پاسدارانِ انقلاب کے مطابق تین امریکی اور برطانوی تیل بردار جہازوں کو میزائلوں سے ہدف بنایا گیا، جو خلیج فارس اور آبنائے ہرمز کے علاقے میں آگ کی لپیٹ میں ہیں۔

خبر رساں اداروں کی اطلاعات کے مطابق بحرین میں قائم امریکی فوجی اڈے پر بھی حملے کیے گئے ہیں، تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی۔

دوسری جانب اسرائیل نے ایران کے خلاف فضائی کارروائیوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ تہران میں شدید بمباری کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جہاں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنائی دیں اور فضا دھوئیں سے اَٹ گئی۔

عینی شاہدین کے مطابق فضائی دفاعی توپوں کی گولہ باری سے آسمان روشن ہو گیا اور شہر میں خوف و ہراس کی فضا طاری ہو گئی۔

اسرائیلی حکومت نے ملک بھر میں نافذ ہنگامی حالت میں 12 مارچ تک توسیع کا اعلان کرتے ہوئے سیکیورٹی اداروں کو انتہائی چوکس رہنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین