ایران کو مکمل طور پر کمزور کرنے کی جنگ لڑ رہے ہیں، ٹرمپ

ایران کی فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور ایرانی طیارے بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ٹرمپ

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے خلاف جاری فوجی کارروائیوں کے حوالے سے انتہائی سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اس جنگ میں سنجیدہ ہے اور اس کا مقصد ایران کی عسکری طاقت کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے۔

وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ امریکا کے پاس ایران پر حملے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ ان کے مطابق امریکی کارروائیوں کے نتیجے میں ایرانی بحریہ کو شدید نقصان پہنچا ہے اور ایران کی میزائل و ڈرون صلاحیتوں کو تیزی سے کم کیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ایران کی فضائیہ اور فضائی دفاعی نظام تقریباً ختم ہو چکے ہیں اور ایرانی طیارے بھی تباہ ہو گئے ہیں۔ ان کے بقول امریکی افواج ہر گھنٹے ایران کی عسکری صلاحیتوں کو کم کر رہی ہیں۔

ایرانی قیادت کے حوالے سے سخت پیغام

امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اس بات کو یقینی بنائے گا کہ مستقبل میں ایران کی جو بھی قیادت ہو وہ امریکا اور اسرائیل کو دھمکی دینے کی پوزیشن میں نہ ہو۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکا سے معاہدے کے لیے رابطہ کیا تھا، تاہم امریکا نے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ اب بہت دیر ہو چکی ہے۔

پاسداران انقلاب کو پیغام

ٹرمپ نے پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈرز اور بیرونِ ملک تعینات ایرانی سفارتکاروں سے حکومت سے علیحدگی اختیار کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر پاسداران انقلاب کے کمانڈرز اپنے عہدے چھوڑ دیں تو انہیں مکمل استثنیٰ دیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر انہیں نشانہ بنایا جائے گا۔

امریکی صدر نے بیرونِ ملک موجود ایرانی سفارتکاروں سے بھی کہا کہ وہ اپنے سفارت خانوں سے علیحدگی اختیار کریں اور ایک "نئے اور بہتر ایران” کی تشکیل میں امریکا کی مدد کریں۔

تیل کی قیمتوں سے متعلق اعلان

ٹرمپ نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ امریکا عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں کے دباؤ کو کم کرنے کے لیے جلد اقدامات کرے گا تاکہ عالمی معیشت پر اس جنگ کے اثرات کم کیے جا سکیں۔

عالمی ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کا یہ بیان مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ امریکا ایران کی عسکری صلاحیتوں کو محدود کرنے کی بات کر رہا ہے، تاہم اس قسم کے سخت بیانات سفارتی مذاکرات کے امکانات کو کمزور بھی کر سکتے ہیں۔

بعض ماہرین کے مطابق اگر جنگ طویل ہوئی تو اس کے اثرات عالمی توانائی منڈیوں اور خطے کے سیاسی توازن پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے بیان کے بعد شدید ردعمل دیکھنے میں آیا۔

کچھ صارفین نے امریکا کے مؤقف کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو روکنا ضروری ہے، جبکہ دیگر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح کے بیانات جنگ کو مزید وسعت دے سکتے ہیں۔

کئی تجزیہ کاروں نے یہ بھی کہا کہ مشرقِ وسطیٰ میں ایک بڑی جنگ کے امکانات سے عالمی معیشت اور سفارت کاری دونوں متاثر ہو سکتے ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق امریکی صدر کے بیانات ظاہر کرتے ہیں کہ موجودہ بحران صرف ایک محدود فوجی کارروائی نہیں بلکہ خطے میں طاقت کے توازن کی بڑی جنگ بن سکتا ہے۔

ان کے بقول اگر امریکا واقعی ایران کی عسکری صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم کرنے کی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ پر مرتب ہوں گے۔

غلام مرتضیٰ کے مطابق اس صورتحال میں عالمی طاقتوں کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ کشیدگی کو ایک وسیع علاقائی جنگ میں تبدیل ہونے سے روکا جائے، کیونکہ اس کے اثرات صرف خطے تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کو بھی متاثر کر سکتے ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین