اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) حکومت نے عالمی مالیاتی ادارے کے مطالبات کو مدنظر رکھتے ہوئے پیٹرولیم لیوی میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی اصل وجہ بھی سامنے آ گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے پیٹرول پر عائد پیٹرولیم ڈویلپمنٹ لیوی میں 20 روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے جس کے بعد یہ لیوی بڑھ کر 105 روپے فی لیٹر تک پہنچ گئی ہے۔
یہ فیصلہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ مالیاتی معاہدے کے تحت کیا گیا ہے، جس کے تحت حکومت کو محصولات بڑھانے کے لیے مختلف اقدامات کرنے تھے۔
پیٹرول کی قیمت میں اضافہ کیوں ہوا؟
وزارت پیٹرولیم کے ذرائع کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کے پیچھے صرف عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں نہیں بلکہ لیوی میں اضافہ بھی شامل ہے۔
ذرائع کے مطابق اگر صرف عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو عوام پر منتقل کیا جاتا تو پیٹرول کی قیمت 32 سے 35 روپے فی لیٹر تک بڑھتی، تاہم لیوی میں اضافے کے باعث مجموعی بوجھ مزید بڑھ گیا۔
حکومت کا مؤقف
حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ ملک کی معاشی صورتحال اور مالیاتی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے ایسے اقدامات ناگزیر ہیں۔ حکام کے مطابق پیٹرولیم لیوی حکومت کے لیے اہم آمدنی کا ذریعہ ہے جس سے بجٹ خسارے کو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔
معاشی ماہرین کی رائے
معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان جیسے درآمدی ایندھن پر انحصار کرنے والے ملک میں عالمی منڈی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کا براہِ راست اثر عوام پر پڑتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام کے تحت حکومت کو ٹیکس اور لیوی بڑھانے جیسے فیصلے کرنا پڑتے ہیں تاکہ مالیاتی خسارہ کم کیا جا سکے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت توانائی کے متبادل ذرائع اور مقامی وسائل پر توجہ نہ دے تو مستقبل میں ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
عوامی ردعمل
پیٹرولیم لیوی میں اضافے کے بعد سوشل میڈیا پر عوام کی جانب سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔
کئی صارفین کا کہنا ہے کہ پیٹرول کی قیمت بڑھنے سے صرف ٹرانسپورٹ ہی نہیں بلکہ اشیائے خورونوش سمیت ہر چیز مہنگی ہو جاتی ہے۔
بعض افراد نے یہ بھی کہا کہ پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ براہِ راست مہنگائی کو بڑھاتا ہے جس کا بوجھ سب سے زیادہ متوسط اور کم آمدنی والے طبقے کو برداشت کرنا پڑتا ہے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پیٹرولیم لیوی میں اضافہ پاکستان کی معاشی پالیسی کا ایک حساس پہلو بن چکا ہے۔ ان کے بقول حکومت کو ایک طرف آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنا ہوتی ہیں جبکہ دوسری جانب عوامی دباؤ اور مہنگائی جیسے مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایندھن کی قیمتیں معیشت کے تقریباً ہر شعبے کو متاثر کرتی ہیں، اس لیے ایسے فیصلوں کے اثرات صرف پٹرول پمپ تک محدود نہیں رہتے بلکہ پورے معاشی نظام میں محسوس کیے جاتے ہیں۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق مستقبل میں توانائی کے مقامی ذرائع، قابل تجدید توانائی اور بہتر معاشی منصوبہ بندی ہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کو ایندھن کی قیمتوں کے بحران سے نکلنے میں مدد دے سکتا ہے۔





















