کراچی / ممبئی (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) کراچی کے علاقے لیاری کی گینگ وار کے پس منظر میں بنائی گئی بالی ووڈ فلم دھرندھر: دی ریوینج کا دھماکے دار ٹریلر جاری کر دیا گیا ہے جس میں اداکار رنویر سنگھ ایک بار پھر بھرپور ایکشن انداز میں نظر آ رہے ہیں۔
ہدایتکار آدتیہ دھر کی اس فلم میں سنسنی خیز ایکشن، جاسوسی اور گینگ وار کی کہانی کو ایک نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے۔ فلم کو ہندی سمیت تامل، تیلگو، ملیالم اور کنڑ زبانوں میں بھی ریلیز کیا جائے گا۔
ٹریلر میں کیا دکھایا گیا؟
تقریباً 1 منٹ 25 سیکنڈ پر مشتمل ٹریلر کا آغاز ایک سنسنی خیز منظر سے ہوتا ہے جہاں ایک کردار اجے سانیال (جس کا کردار آر مادھون نے ادا کیا ہے) دہشت گردوں کے سامنے کھڑا نظر آتا ہے۔
اسی دوران رنویر سنگھ حمزہ علی مزاری کے کردار میں نمودار ہوتے ہیں اور ایکشن سے بھرپور انداز میں دشمنوں کا مقابلہ کرتے دکھائی دیتے ہیں۔
ٹریلر میں لیاری کی گلیوں میں گینگ وار، دھماکوں اور سنسنی خیز لڑائی کے مناظر دکھائے گئے ہیں جبکہ کہانی میں ایک بڑا سوال بھی اٹھایا گیا ہے کہ رحمان ڈکیت کے قتل کے بعد لیاری کا نیا لیڈر کون ہوگا۔
دو کرداروں میں رنویر سنگھ
فلم کے پروڈیوسرز کے مطابق اس سیکوئل میں رنویر سنگھ دو مختلف کرداروں میں نظر آئیں گے، جو کہانی کو مزید پیچیدہ اور دلچسپ بنائے گا۔
فلم میں جاسوسی اور ایکشن کے ساتھ ساتھ "نامعلوم افراد” کی کہانی کو بھی شامل کیا گیا ہے جسے اس بار ذاتی اور جذباتی رنگ دینے کی کوشش کی گئی ہے۔
کب ریلیز ہوگی؟
فلم 19 مارچ کو عیدالفطر کے موقع پر سینما گھروں میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی۔ اس سے قبل اس کے پہلے حصے کو بھارت اور دیگر ممالک میں کافی کامیابی ملی تھی۔
فلمی ماہرین کی رائے
فلمی تجزیہ کاروں کے مطابق ٹریلر سے اندازہ ہوتا ہے کہ فلم میں بڑے پیمانے پر ایکشن، ڈرامہ اور سیاسی پس منظر کو شامل کیا گیا ہے۔
کچھ ماہرین کا کہنا ہے کہ لیاری جیسے حساس علاقے کو فلمی کہانی میں شامل کرنا ایک متنازع فیصلہ بھی ہو سکتا ہے کیونکہ اس سے علاقے کی تصویر مختلف انداز میں پیش کی جا سکتی ہے۔
سوشل میڈیا ردعمل
ٹریلر جاری ہوتے ہی سوشل میڈیا پر مختلف آرا سامنے آنے لگیں۔
کچھ مداحوں نے رنویر سنگھ کی ایکشن واپسی کو سراہتے ہوئے کہا کہ فلم ایک بڑی بلاک بسٹر ثابت ہو سکتی ہے۔
دوسری جانب بعض پاکستانی صارفین نے فلم کو "پروپیگنڈہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ لیاری کو منفی انداز میں دکھانا مناسب نہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق بالی ووڈ فلموں میں خطے کے حساس موضوعات کو شامل کرنا کوئی نئی بات نہیں، مگر اس کے اثرات اکثر سیاسی اور سماجی بحث کو جنم دیتے ہیں۔
ان کے بقول لیاری جیسے تاریخی اور ثقافتی علاقے کو گینگ وار کے تناظر میں دکھانا ایک فلمی حکمت عملی ہو سکتی ہے، لیکن اس سے مقامی شناخت اور حقیقت کے درمیان فرق پیدا ہونے کا خدشہ بھی رہتا ہے۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ فلم باکس آفس پر کامیاب ہو یا نہ ہو، لیکن ٹریلر کے بعد اس پر ہونے والی بحث پہلے ہی اسے خبروں کا حصہ بنا چکی ہے۔





















