طلبہ کی موجیں، سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں 9 سے 21مارچ تک چھٹیاں 

متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ملک کی موجودہ صورتحال اور علاقائی سلامتی کے پیشِ نظر اسکولوں اور جامعات کی اسپرنگ بریک مقررہ وقت سے ایک ہفتہ پہلے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں 9 مارچ سے تعطیلات کا اعلان کر دیا گیا ہے جو 22 مارچ تک جاری رہیں گی۔

تفصیلات کے مطابق متحدہ عرب امارات کی حکومت نے ملک کی موجودہ صورتحال اور علاقائی سلامتی کے پیشِ نظر اسکولوں اور جامعات کی اسپرنگ بریک مقررہ وقت سے ایک ہفتہ پہلے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

وزارتِ تعلیم اور وزارتِ ہائر ایجوکیشن کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں بتایا گیا ہے کہ تمام سرکاری اور نجی اسکولوں میں 9 مارچ سے تعطیلات شروع ہوں گی اور یہ سلسلہ 22 مارچ تک جاری رہے گا۔

حکام کے مطابق یہ اہم فیصلہ خطے میں پیدا ہونے والی کشیدہ صورتحال اور ایران کی جانب سے جاری حالیہ جارحانہ بیانات کے تناظر میں کیا گیا ہے۔

اس سے قبل حکام نے احتیاطی تدابیر کے طور پر تمام تعلیمی اداروں میں 6 مارچ (جمعہ) تک فاصلاتی تعلیم جاری رکھنے کی ہدایت دی تھی۔

اب طلبہ اس ہفتے کے اختتام پر اپنی آن لائن کلاسز مکمل کرنے کے بعد باقاعدہ طور پر اسپرنگ بریک پر چلے جائیں گے۔

اماراتی محکمہ تعلیم نے اس فیصلے کے فوری نفاذ کے لیے تمام تعلیمی اداروں کو باضابطہ ہدایات جاری کر دی ہیں۔

یہ اسپرنگ بریک صرف اسکولوں تک محدود نہیں ہوگی بلکہ متحدہ عرب امارات کی جامعات بھی ان تعطیلات میں شامل ہوں گی۔

تعلیمی اداروں میں تدریسی سرگرمیاں اور کلاسز دوبارہ پیر 23 مارچ سے باقاعدہ طور پر شروع ہوں گی۔

نیشنل کرائسز اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ اتھارٹی کے ترجمان ڈاکٹر سیف الظاہری نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح طلبہ کو محفوظ اور پُرسکون تعلیمی ماحول فراہم کرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنا رہی ہے کہ موجودہ حالات میں بھی طلبہ کی تعلیم متاثر نہ ہو، اسی مقصد کے تحت پہلے فاصلاتی تعلیم اور اب قبل از وقت تعطیلات کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ تعلیمی سال 2025-2026 کے سرکاری تعلیمی کیلنڈر کے مطابق اسپرنگ بریک کا آغاز 16 مارچ سے ہونا تھا، تاہم ہنگامی حالات کے باعث اسے ایک ہفتہ پہلے شروع کر دیا گیا ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہاکہ متحدہ عرب امارات میں تعلیمی اداروں کی تعطیلات کو ایک ہفتہ قبل شروع کرنے کا فیصلہ دراصل حکومت کی پیشگی حکمتِ عملی اور حفاظتی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔ موجودہ علاقائی صورتحال، بالخصوص مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور ایران کی جانب سے سامنے آنے والے سخت بیانات نے خطے کے کئی ممالک کو محتاط اقدامات پر مجبور کر دیا ہے۔ ایسے حالات میں اماراتی حکومت نے طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی عملے کی سلامتی کو ترجیح دیتے ہوئے اسپرنگ بریک کو قبل از وقت شروع کرنے کا فیصلہ کیا، جو اس بات کی علامت ہے کہ ریاستی ادارے کسی بھی ممکنہ ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات کو اہم سمجھتے ہیں۔

اس فیصلے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ حکومت نے تعلیمی سلسلے کو مکمل طور پر متاثر ہونے سے بچانے کے لیے مرحلہ وار حکمت عملی اختیار کی۔ پہلے مرحلے میں تعلیمی اداروں کو فاصلاتی تعلیم (ریموٹ لرننگ) کی ہدایت دی گئی تاکہ طلبہ کی تعلیم کا تسلسل برقرار رہے، جبکہ دوسرے مرحلے میں اسپرنگ بریک کو پہلے شروع کر کے تعلیمی دباؤ کو وقتی طور پر کم کر دیا گیا۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ اماراتی تعلیمی نظام نہ صرف جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے ہم آہنگ ہے بلکہ ہنگامی حالات میں بھی تعلیمی سرگرمیوں کو منظم انداز میں جاری رکھنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

تعلیم کے شعبے کے ماہرین کے مطابق ایسے فیصلے صرف حفاظتی اقدامات تک محدود نہیں ہوتے بلکہ ان کا مقصد معاشرتی استحکام کو بھی برقرار رکھنا ہوتا ہے۔ جب حکومت بروقت اور واضح فیصلے کرتی ہے تو اس سے عوام میں اعتماد پیدا ہوتا ہے اور غیر یقینی صورتحال میں بھی نظم و ضبط قائم رہتا ہے۔ طلبہ کو ایک محفوظ ماحول فراہم کرنا کسی بھی ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اماراتی حکام کی جانب سے یہ فیصلہ اسی سوچ کا عملی اظہار ہے۔

مزید برآں، اسپرنگ بریک کو پہلے شروع کرنے سے طلبہ اور ان کے اہلِ خانہ کو بھی حالات کا بہتر انداز میں جائزہ لینے اور اپنی روزمرہ سرگرمیوں کو منظم کرنے کا موقع مل جاتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدام تعلیمی اداروں کو بھی وقت فراہم کرتا ہے کہ وہ آئندہ تعلیمی سرگرمیوں کے لیے مناسب منصوبہ بندی کر سکیں۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت نے واضح کر دیا ہے کہ تعطیلات کے بعد 23 مارچ سے تمام تعلیمی اداروں میں تعلیمی سرگرمیاں معمول کے مطابق دوبارہ شروع ہو جائیں گی۔

مجموعی طور پر دیکھا جائے تو متحدہ عرب امارات کی حکومت کا یہ فیصلہ ایک ذمہ دارانہ اور دور اندیش حکمت عملی کا مظہر ہے۔ خطے میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے باوجود تعلیمی نظام کو منظم انداز میں چلانا اور طلبہ کی سلامتی کو اولین ترجیح دینا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ریاست اپنے شہریوں کے تحفظ اور تعلیمی تسلسل دونوں کو یکساں اہمیت دیتی ہے۔ یہی متوازن پالیسی کسی بھی جدید اور مستحکم معاشرے کی بنیاد سمجھی جاتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین