لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہِ راست چیلنج دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا میں ہمت ہے تو وہ آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کے تحفظ کے لیے اپنے بحری جنگی جہاز تعینات کر کے دکھائے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق پاسدارانِ انقلاب کے ایک ترجمان نے اپنے بیان میں کہا کہ اگر امریکا واقعی اپنے جنگی جہاز بھیجنا چاہتا ہے تو وہ عملی طور پر انہیں تعینات کر کے آئل ٹینکرز کو آبنائے ہرمز سے بحفاظت گزار کر دکھائے۔
ایران کی مسلح افواج کی جانب سے بھی اس معاملے پر ردِعمل دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز اس وقت بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے کھلی ہے، تاہم اگر کوئی امریکی یا اسرائیلی جہاز اس راستے سے گزرنے کی کوشش کرے گا تو اسے نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔
ایرانی حکام کے یہ بیانات ایک ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا تھا کہ ضرورت پیش آنے کی صورت میں امریکی بحریہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تیل بردار تجارتی جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرنے کے لیے متحرک ہو سکتی ہے۔
امریکی صدر نے مزید کہا تھا کہ اگر حالات نے تقاضا کیا تو امریکی نیوی کمرشل جہازوں کے ساتھ آبنائے ہرمز سے گزرے گی، جبکہ ان جہازوں کے انشورنس معاملات میں امریکی مالیاتی ادارے بھی معاونت فراہم کریں گے۔
واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کے سب سے اہم اور مصروف تیل بردار سمندری راستوں میں شمار ہوتی ہے، کیونکہ مشرقِ وسطیٰ کے متعدد بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک، جن میں سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں، اپنی تیل برآمدات کا بڑا حصہ اسی اہم بحری گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔
سب سے پہلے یہ سمجھنا ضروری ہے کہ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کے لیے ایک انتہائی اہم سمندری راستہ ہے۔ یہ نہ صرف مشرق وسطیٰ کے بڑے تیل پیدا کرنے والے ممالک جیسے سعودی عرب، ایران، عراق، کویت، بحرین، قطر اور متحدہ عرب امارات کے تیل کی برآمدات کے لیے مرکزی گزرگاہ ہے بلکہ عالمی تیل کی ترسیل میں بھی اس کا کردار بہت اہم ہے۔ اس کی بندش یا کسی قسم کی رکاوٹ عالمی تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ کر سکتی ہے اور عالمی توانائی مارکیٹ میں غیر یقینی صورتحال پیدا کر سکتی ہے۔
ایران کی پاسدارانِ انقلاب کا امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو براہِ راست چیلنج کرنا ایک واضح عسکری اور سیاسی اشارہ ہے۔ اس بیان کا مقصد صرف امریکا کو دھمکی دینا نہیں بلکہ عالمی برادری کے سامنے ایران کی طاقت اور آبنائے ہرمز پر اپنا اثر و رسوخ ظاہر کرنا بھی ہے۔ اس میں پوشیدہ پیغام یہ ہے کہ ایران کسی بھی بیرونی فوجی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا اور اپنے علاقائی مفادات کا دفاع کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
امریکا کی جانب سے جو اعلان کیا گیا کہ ضرورت پڑنے پر امریکی نیوی تجارتی جہازوں کو سکیورٹی فراہم کرے گی، اس سے کشیدگی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکی بیان میں یہ بھی شامل تھا کہ انشورنس معاملات میں امریکی مالیاتی ادارے مدد فراہم کریں گے، جو ایک اقتصادی اور مالیاتی اقدام ہے۔ یہ نہ صرف امریکی اثر و رسوخ کو بڑھاتا ہے بلکہ ایران کے لیے ایک سیاسی دباؤ بھی پیدا کرتا ہے۔
تجزیہ کرنے پر یہ بات سامنے آتی ہے کہ موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کی عسکری، سیاسی اور اقتصادی حکمت عملی ایک دوسرے کے متوازی چل رہی ہے۔ ایران کی دھمکی اور امریکا کی ممکنہ مداخلت عالمی برادری اور توانائی مارکیٹ کے لیے سنجیدہ خطرہ ہیں۔ اس صورتحال میں خطے کے دیگر ممالک کی اقتصادی اور سیاسی ترجیحات بھی متاثر ہو سکتی ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز کے ذریعے روزانہ لاکھوں بیرل تیل کی ترسیل ہوتی ہے۔
عالمی منظرنامے میں، اس کشیدگی کا اثر صرف ایران اور امریکا تک محدود نہیں بلکہ عالمی توانائی مارکیٹ، تیل کی قیمتیں اور سمندری تجارتی راستوں کی حفاظت میں بھی نمایاں تبدیلیاں آ سکتی ہیں۔ خطے میں استحکام کے لیے ضروری ہے کہ دونوں فریقین تحمل اور سفارتی مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا حل تلاش کریں تاکہ عالمی مارکیٹ اور تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات سے بچا جا سکے۔
مختصراً، ایران اور امریکا کے بیانات ایک واضح عسکری و سیاسی ڈرامہ پیش کر رہے ہیں، جہاں آبنائے ہرمز کی اہمیت عالمی توانائی کی سیکیورٹی کے تناظر میں غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔ عالمی برادری، تیل کی مارکیٹ اور علاقائی ممالک کی حکمت عملی کے لیے یہ صورتحال ایک سنگین امتحان بن چکی ہے۔





















