معاشی دباؤ میں اضافہ؛ پاکستان کی سعودی عرب سے 10 سال کیلئے 5 ارب ڈالر ڈپازٹ اور تیل سہولت کی درخواست

پاکستان نے سعودی حکومت سے مجموعی طور پر 8 معاشی سہولتوں کی درخواست کی ہے

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی اور عالمی معاشی دباؤ کے تناظر میں پاکستان نے سعودی عرب سے طویل مدتی مالی تعاون کے لیے اہم درخواستیں کر دی ہیں۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے سعودی حکومت سے مجموعی طور پر 8 معاشی سہولتوں کی درخواست کی ہے جن میں موجودہ 5 ارب ڈالر کے ڈپازٹ کو 10 سالہ طویل مدتی سہولت میں تبدیل کرنے کی تجویز بھی شامل ہے۔

تیل کی سہولت بڑھانے کی درخواست

پاکستان نے سعودی عرب سے یہ بھی درخواست کی ہے کہ ڈیفرڈ ادائیگی کے تحت فراہم کی جانے والی تیل کی سہولت کو 1.2 ارب ڈالر سے بڑھا کر 5 ارب ڈالر کر دیا جائے۔

یہ سہولت پاکستان کے لیے اس لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے کہ اس کے ذریعے تیل کی درآمدات کی ادائیگی فوری طور پر زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ ڈالے بغیر کی جا سکتی ہے۔

پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان معاشی تعاون کے حوالے سے جاری مذاکرات میں سعودی عرب پہلے ہی اہم کردار ادا کر رہا ہے جبکہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر کے استحکام میں بھی سعودی مالی تعاون اہم رہا ہے۔

دیگر مالی تجاویز

ذرائع کے مطابق پاکستان نے سعودی حکام کو جو تجاویز پیش کی ہیں ان میں شامل ہیں:

  • 5 ارب ڈالر کے موجودہ ڈپازٹ کو 10 سالہ سہولت میں تبدیل کرنا

  • ڈیفرڈ پیمنٹ آئل فیسلٹی کو 5 ارب ڈالر تک بڑھانا

  • بیرون ملک پاکستانیوں کی ترسیلات زر کی 10 ارب ڈالر سکیورٹائزیشن

  • طویل مدتی اقتصادی تعاون کے دیگر منصوبے

آئی ایم ایف پروگرام کا پس منظر

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب پاکستان انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ 7 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلٹی (EFF) پروگرام کے تحت تیسرے جائزے کی تکمیل کے لیے مذاکرات کر رہا ہے۔

معاشی ماہرین کے مطابق پاکستان کے لیے سعودی عرب اور دیگر دوست ممالک کی مالی مدد آئی ایم ایف پروگرام کے تسلسل کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔

معاشی ماہرین کی رائے

معاشی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر اور توانائی درآمدات پر بڑھتے دباؤ کے باعث طویل مدتی مالی تعاون ناگزیر ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر سعودی عرب تیل کی سہولت میں اضافہ اور ڈپازٹ کی مدت میں توسیع پر آمادہ ہو جاتا ہے تو اس سے پاکستان کے بیرونی ادائیگیوں کے دباؤ میں نمایاں کمی آ سکتی ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر اس خبر کے بعد مختلف آرا سامنے آئیں۔

کچھ صارفین نے کہا کہ مشکل معاشی حالات میں دوست ممالک کی مدد ضروری ہے جبکہ بعض افراد نے یہ بھی کہا کہ پاکستان کو بیرونی قرضوں اور امداد پر انحصار کم کرنے کے لیے طویل مدتی معاشی اصلاحات کرنی چاہئیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق پاکستان کی جانب سے سعودی عرب سے طویل مدتی مالی تعاون کی درخواست موجودہ معاشی صورتحال کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہے۔

ان کے بقول عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور خطے میں کشیدگی نے پاکستان جیسے درآمدی معیشت رکھنے والے ملک پر اضافی دباؤ ڈالا ہے۔

غلام مرتضیٰ کے مطابق اگر سعودی عرب پاکستان کی درخواستوں پر مثبت ردعمل دیتا ہے تو اس سے نہ صرف زرمبادلہ ذخائر کو سہارا ملے گا بلکہ پاکستان کو معاشی استحکام کی طرف بڑھنے کے لیے کچھ مہلت بھی مل سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین