بیجنگ / عالمی خبررساں ادارے (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ) چین کے معروف نجومی اور محقق ژوچن جیانگ کی ایران جنگ سے متعلق نئی پیشگوئی نے عالمی حلقوں میں بحث چھیڑ دی ہے۔
پروفیسر ژوچن جیانگ، جنہیں بعض میڈیا رپورٹس میں "چین کا نوسترادامس” کہا جاتا ہے، کا کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں ایران کے ساتھ جاری جنگ امریکا کے لیے انتہائی مشکل ثابت ہو سکتی ہے اور امکان ہے کہ امریکا کو اس میں ناکامی یا پسپائی کا سامنا کرنا پڑے۔
ماضی کی پیشگوئیوں کا حوالہ
میڈیا رپورٹس کے مطابق ژوچن جیانگ اس سے قبل بھی کچھ سیاسی پیشگوئیوں کی وجہ سے خبروں میں رہ چکے ہیں۔
انہوں نے 2024 میں ڈونلڈ ٹرمپ کی دوبارہ صدارت اور ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کشیدگی کی پیشگوئی کی تھی، جسے بعض حلقے جزوی طور پر درست قرار دیتے ہیں۔
ایران جنگ کے بارے میں تجزیہ
پروفیسر جیانگ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ نے ایران پر دباؤ ڈالنے اور اس کی جوہری صلاحیتوں کو محدود کرنے کے مقصد سے فوجی کارروائیاں شروع کیں۔
تاہم ان کا کہنا ہے کہ ایران نے اس جنگ میں اپنے اتحادی گروپوں اور پراکسی فورسز کے ذریعے سخت ردعمل دیا ہے جس سے صورتحال مزید پیچیدہ ہو گئی ہے۔
ان کے مطابق یہ جنگ روایتی فوجی تصادم تک محدود نہیں بلکہ خطے میں مختلف طاقتوں اور اتحادیوں کی شمولیت کے باعث ایک طویل اور مشکل تنازع بن سکتی ہے۔
عالمی ماہرین کی رائے
بین الاقوامی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کسی بھی بڑی جنگ کے نتائج کا اندازہ لگانا مشکل ہوتا ہے کیونکہ یہاں مختلف علاقائی اور عالمی طاقتیں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہو سکتی ہیں۔
ماہرین کے مطابق ایران کے پاس علاقائی اتحادیوں اور غیر روایتی جنگی حکمت عملی کی وجہ سے طویل مزاحمت کی صلاحیت موجود ہے، جس سے کسی بھی فوجی کارروائی کے نتائج غیر یقینی ہو سکتے ہیں۔
سوشل میڈیا ردعمل
سوشل میڈیا پر اس پیشگوئی کے بعد مختلف آرا سامنے آئی ہیں۔
کچھ صارفین نے اسے محض نجومی تجزیہ قرار دیا جبکہ بعض نے کہا کہ موجودہ جنگی صورتحال واقعی پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے اور کسی واضح نتیجے تک پہنچنا آسان نہیں۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق جنگوں کے بارے میں پیشگوئیاں ہمیشہ سے عوامی دلچسپی کا باعث رہی ہیں، مگر حقیقی نتائج اکثر میدانِ جنگ اور سفارت کاری میں ہونے والے فیصلوں سے طے ہوتے ہیں۔
ان کے بقول ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی محض دو ممالک کا تنازع نہیں بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کے طاقت کے توازن سے جڑی ہوئی ہے۔
غلام مرتضیٰ کے مطابق اگر یہ کشیدگی طویل جنگ میں تبدیل ہوتی ہے تو اس کے اثرات عالمی سیاست، توانائی منڈیوں اور خطے کے استحکام پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔





















