پنجاب میں چھوٹی صنعتوں کے فروغ کے لیے تاریخی منصوبہ،کمیٹی تشکیل

اس کمیٹی کی سربراہی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کریں گی جبکہ سیکرٹری فنانس کمیٹی کے سیکرٹری کمیٹی کے دیگر اہم رکن ہوں گے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین) وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز نے صوبے میں چھوٹی اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے فروغ کے لیے ایک وسیع اور جامع پلان کا اعلان کیا ہے، جس کا مقصد مقامی پیداوار، مہارت اور صنعتی ضروریات کے مطابق ہر ضلع میں خصوصی انڈسٹریل ہبز قائم کرنا ہے۔ اس اقدام کے ذریعے پنجاب میں صنعتی ترقی کے مواقع بڑھانے، مقامی ہنر کو فروغ دینے اور معاشی ترقی کو تیز کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

وزیراعلیٰ نے اس منصوبے کے نفاذ کے لیے پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن کمیٹی تشکیل دی ہے، جو 11 ارکان پر مشتمل ہوگی۔ اس کمیٹی کی سربراہی سینئر وزیر مریم اورنگزیب کریں گی جبکہ سیکرٹری فنانس کمیٹی کے سیکرٹری کمیٹی کے دیگر اہم رکن ہوں گے۔ کمیٹی کا بنیادی مقصد ڈسٹرکٹ لیول پر اقتصادی میپنگ کے ذریعے ہر ضلع کی صنعتی اور تجارتی صلاحیتوں کی نشاندہی کرنا ہے۔

کمیٹی کے دائرہ کار میں صوبے کے مختلف اضلاع میں انڈسٹری کلسٹر بنانے کے لیے سیکٹر وائز ترجیحات کا تعین، قابل عمل اشاریے مرتب کرنا اور قلیل المدتی و وسیع المدتی ٹائم لائنز کی تیاری شامل ہے۔ کمیٹی پرائیویٹ سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد ہر سیکٹر کے لیے عملی منصوبہ تیار کرے گی تاکہ صنعتی ترقی کے منصوبے حقیقت پسندانہ اور قابل عمل ہوں۔

اسے بھی پڑھیں: خیبر پختونخوا حکومت کا موٹر سائیکل سواروں کو بڑا ریلیف دینے کا فیصلہ

مزید برآں، کمیٹی اسکل ڈویلپمنٹ پروگرامز کے ذریعے متعلقہ صنعت کی ضروریات کے مطابق انسانی وسائل کی تیاری پر توجہ دے گی۔ اس کے علاوہ، مقامی طور پر تیار کردہ ویلیو ایڈڈ پروڈکٹس کو عالمی مارکیٹ کے ویلیو چین سے منسلک کرنے کے اقدامات بھی کمیٹی کے ایجنڈے میں شامل ہیں، تاکہ نہ صرف مقامی معیشت مضبوط ہو بلکہ برآمدات میں اضافہ بھی ممکن ہو۔ کمیٹی پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے ایک مستحکم اکو سسٹم کی تشکیل پر بھی کام کرے گی۔

صوبے کے مختلف اضلاع میں منصوبے کی نوعیت کے حوالے سے جائزہ بھی لیا جا رہا ہے: ساہیوال میں ڈیری پروڈکٹس، لاہور میں آئی ٹی سافٹ ویئر اور گارمنٹ سٹی، فیصل آباد میں ٹیکنیکل ٹیکسٹائل، فرنیچر سٹی اور ڈیری پراسیسنگ، گجرانوالہ میں سرجیکل اور اسپورٹس سیکٹر، اور گجرات میں فین، رائس ایکسپورٹ اور اپلائنسز کے کلسٹرز کے قیام کی تجویز زیر غور ہے۔ یہ اقدامات صوبے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے فروغ، مقامی ہنر کی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے ایک تاریخی قدم ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف صنعتی پیداوار کو بڑھائے گا بلکہ پنجاب کی معیشت میں توازن پیدا کرے گا، مقامی مہارت کو عالمی مارکیٹ کے ساتھ مربوط کرے گا اور ہر ضلع میں روزگار کے نئے مواقع فراہم کرے گا۔ اس منصوبے سے صوبے کے صنعتی منظرنامے میں مثبت تبدیلیاں آنے کی توقع ہے اور یہ اقدام معاشی ترقی کے لیے ایک مضبوط بنیاد کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا چھوٹی صنعتوں کے فروغ کے لیے منصوبہ صوبے کی معیشت میں نئی جہتیں فراہم کرنے والا ہے۔ یہ پلان مقامی پیداوار، ہنر اور صنعتی ضروریات کے مطابق ہر ضلع میں انڈسٹریل ہب بنانے پر مرکوز ہے، جس سے نہ صرف صوبے کے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار کو تقویت ملے گی بلکہ روزگار کے مواقع بھی بڑھے گے۔ اس اقدام کے ذریعے صوبائی حکومت نے صنعتی ترقی کو ڈسٹرکٹ لیول پر منظم کرنے کی سمت میں ایک واضح اور قابل عمل حکمت عملی اپنائی ہے۔

پنجاب اکنامک ٹرانسفارمیشن کمیٹی کی تشکیل اس منصوبے کا مرکزی ستون ہے، جو صوبے کے صنعتی اور اقتصادی ڈیٹا کی بنیاد پر ہر ضلع کی صلاحیتوں کی نشاندہی کرے گی۔ کمیٹی کے دائرہ کار میں سیکٹر وائز ترجیحات کا تعین، قابل عمل اشاریے مرتب کرنا اور قلیل المدتی و وسیع المدتی منصوبہ بندی شامل ہے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف صنعتی ترقی کے منصوبوں کو عملی شکل دے گی بلکہ مقامی اور پرائیویٹ سیکٹر کے اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورت کے ذریعے سب کو شامل کرنے کی صورت میں پائیدار ماڈل قائم کرے گی۔

اسکِل ڈویلپمنٹ پروگرامز کے ذریعے انسانی وسائل کی تربیت پر توجہ دینا اس منصوبے کی ایک اہم خصوصیت ہے، کیونکہ کسی بھی صنعتی ہب کی کامیابی اس کی متعلقہ ہنر مند لیبر فورس سے جڑی ہوتی ہے۔ مزید برآں، مقامی طور پر تیار کردہ ویلیو ایڈڈ پروڈکٹس کو عالمی مارکیٹ کے ویلیو چین کے ساتھ مربوط کرنے کی حکمت عملی سے پنجاب کے برآمدی شعبے کو بھی فروغ ملے گا، جس سے صوبے کی معیشت میں مضبوطی اور تجارتی توازن پیدا ہوگا۔

صوبے کے مختلف اضلاع میں انڈسٹری کلسٹر کے قیام کی تجاویز صنعتی تنوع اور علاقائی خصوصیات کے عین مطابق ہیں: ساہیوال میں ڈیری پروڈکٹس، لاہور میں آئی ٹی اور گارمنٹ سٹی، فیصل آباد میں ٹیکنیکل ٹیکسٹائل اور فرنیچر، گجرانوالہ میں سرجیکل اور اسپورٹس، جبکہ گجرات میں رائس ایکسپورٹ، فین اور اپلائنسز کے شعبے شامل ہیں۔ یہ منصوبہ نہ صرف مقامی معیشت کو مضبوط کرے گا بلکہ ہر ضلع کی صنعتی پہچان اور مقامی مہارت کی نشونما میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

ماہرین کے مطابق یہ اقدام صوبے میں پائیدار اقتصادی ایکو سسٹم کے قیام کی بنیاد فراہم کرے گا، جس سے چھوٹے اور درمیانے کاروبار ترقی کریں گے، صنعتی پیداوار میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ مجموعی طور پر یہ منصوبہ پنجاب کی معیشت میں متوازن ترقی، صنعتی تنوع، مقامی مہارت کی عالمی سطح پر شناخت اور صوبے کی مجموعی اقتصادی طاقت میں اضافے کی ایک جامع حکمت عملی کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین