2040 تک کتنے کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہوں گے؟ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی رپورٹ نے ہوش اڑادئیے

2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 18 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار تھے، جس سے یہ مسئلہ تیزی سے بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)دنیا کے بچے موٹاپے کے خطرناک جال میں پھنسنے لگے ہیں۔ ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی تازہ رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ہم نے ابھی قدم نہ اٹھائے تو 2040 تک تقریباً 22 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہو جائیں گے، اور ان میں دل کے امراض اور ذیابیطس جیسی مہلک بیماریوں کے آثار ظاہر ہونے لگیں گے۔ یہ صرف اعداد و شمار نہیں، بلکہ آنے والی نسلوں کی صحت، توانائی اور خوشیوں پر ایک چھایا ہوا سیاہ بادل ہے، جس کا اثر ہر گھر اور ہر اسکول تک پہنچنے والا ہے۔

رپورٹ کے مطابق 2040 تک تقریباً 12 کروڑ اسکول جانے والے بچوں میں مستقل اور دائمی بیماریوں کی ابتدائی علامات ظاہر ہوں گی، جن میں دل کے امراض، ذیابیطس اور دیگر متعدی بیماریوں کا خطرہ شامل ہے۔ موجودہ صورتحال کے مطابق 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 18 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار تھے، جس سے یہ مسئلہ تیزی سے بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

علاقائی جائزے کے مطابق چین سب سے زیادہ متاثرہ ملک ہے، جہاں 6.2 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار ہیں۔ بھارت میں یہ تعداد 4.1 کروڑ اور امریکہ میں 2.7 کروڑ ہے۔ یورپ میں سب سے زیادہ خطرہ برطانیہ میں دیکھا گیا ہے، جہاں تقریباً 38 لاکھ بچوں کا باڈی ماس انڈیکس (BMI) خطرناک حد تک بلند ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اعداد و شمار مستقبل میں عالمی صحت کے نظام پر اضافی دباؤ ڈالیں گے اور بچوں کی مجموعی فلاح و بہبود کے لیے سنگین چیلنج پیدا کریں گے۔

ماہرین کی رائے

ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی سربراہ جوہانا رالسٹن نے کہا کہ "ایک پوری نسل کو موٹاپے اور مہلک بیماریوں کے حوالے کرنا درست نہیں۔” انہوں نے زور دیا کہ بچوں کی صحت کے تحفظ کے لیے عالمی سطح پر فوری اور مربوط اقدامات کی ضرورت ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے ماہر ڈاکٹر کریملن وکرما سنگھے نے کہا کہ زیادہ تر حکومتیں فوڈ انڈسٹری کو بچوں کو نشانہ بنانے سے روکنے میں ناکام رہ رہی ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ اس مسئلے کے حل کے لیے سیاسی عزم، سخت پالیسی اقدامات اور معاشرتی شراکت داری ضروری ہے تاکہ موٹاپے کے اس بڑھتے ہوئے بحران کو قابو میں کیا جا سکے۔

نتیجہ اور عالمی خطرات

رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں موٹاپے کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں، جس کا تعلق زیادہ تر غیر صحتمند خوراک، کم جسمانی سرگرمی اور بچوں کی غذائی عادات سے ہے۔ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں نہ صرف شدید صحت کے بحران کا سامنا کریں گی بلکہ عالمی اقتصادی نظام پر بھی اس کے منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

ماہرین نے والدین، اساتذہ اور حکومتوں پر زور دیا ہے کہ بچوں کے غذائی معمولات، کھیل کود اور صحت مند طرز زندگی کو ترجیح دی جائے، اور بچوں کے موٹاپے کے خطرات سے بچانے کے لیے تعلیمی اور معاشرتی مہمات کو فروغ دیا جائے۔

یہ رپورٹ ایک انتباہ ہے کہ اگر دنیا بھر میں فوری اور مربوط اقدامات نہیں کیے گئے تو بچوں میں موٹاپے کا عالمی بحران آنے والے دہائیوں میں انسانی صحت کے لیے ایک بڑے چیلنج کا باعث بنے گا۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تمام صورتحال پر تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ اوبیسٹی فیڈریشن کی تازہ رپورٹ بچوں میں بڑھتے ہوئے موٹاپے کے بحران کی سنگینی کو اجاگر کرتی ہے، جو نہ صرف صحت کے شعبے بلکہ عالمی معیشت اور سماجی ڈھانچے پر بھی اثر ڈال سکتا ہے۔ رپورٹ میں پیش کیے گئے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2025 میں دنیا بھر میں تقریباً 18 کروڑ بچے موٹاپے کا شکار تھے، اور 2040 تک یہ تعداد بڑھ کر 22 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ یہ رجحان بچوں میں دل کے امراض، ذیابیطس اور دیگر دائمی بیماریوں کے امکانات کو بڑھا رہا ہے، جس سے مستقبل میں صحت کی دیکھ بھال کے نظام پر بے پناہ دباؤ پڑنے کا خدشہ ہے۔

علاقائی تجزیے کے مطابق چین، بھارت اور امریکہ سب سے زیادہ متاثرہ ممالک میں شامل ہیں، جبکہ یورپ میں برطانیہ میں بچوں میں BMI کی خطرناک سطح سب سے زیادہ ہے۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ موٹاپے کا مسئلہ صرف ایک ملک یا خطے تک محدود نہیں بلکہ عالمی سطح پر پھیلا ہوا ہے، اور ہر معاشرے میں اس کے مختلف سماجی، اقتصادی اور طرز زندگی کے عوامل شامل ہیں۔ کم اور درمیانی آمدنی والے ممالک میں موٹاپے کے کیسز کی تیزی سے بڑھتی ہوئی شرح اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشرتی اور اقتصادی ترقی کے ساتھ ساتھ صحت مند غذائی عادات اور جسمانی سرگرمی کے مواقع کی کمی ایک بڑا عنصر ہیں۔

ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال میں حکومتوں کی ناکافی پالیسی مداخلت اور فوڈ انڈسٹری کے بچوں کو نشانہ بنانے والے اقدامات اس بحران کو مزید بڑھا رہے ہیں۔ سیاسی عزم، سخت قوانین اور موثر مہمات کے بغیر موٹاپے کے اس بحران کا حل ممکن نہیں، اور اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو آنے والی نسلیں شدید صحت کے مسائل اور بیماریوں کے ساتھ زندگی گزارنے پر مجبور ہوں گی۔ والدین، اساتذہ اور سماجی اداروں کو بھی بچوں میں صحت مند طرز زندگی، متوازن خوراک اور جسمانی سرگرمی کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرنا ہوگا تاکہ اس عالمی بحران کے اثرات کم کیے جا سکیں۔

مجموعی طور پر یہ رپورٹ ایک انتباہ ہے کہ بچوں میں موٹاپے کی بڑھتی ہوئی شرح عالمی صحت کے لیے ایک بڑے چیلنج کا باعث بن رہی ہے، اور اس مسئلے کے حل کے لیے فوری، مربوط اور عملی اقدامات کی اشد ضرورت ہے تاکہ آنے والی نسلیں صحت مند اور فعال رہ سکیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین