ایران جنگ پر وائٹ ہاؤس میں اختلاف، ٹرمپ کو ایران سے نکلنے کا مشورہ

امریکا اپنے بنیادی اہداف حاصل کر چکا ہے، اس لیے مزید جنگ سے گریز کیا جانا چاہیے۔

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگی صورتحال کے درمیان امریکی صدر Donald Trump کو ان کے قریبی مشیر نے اہم مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا ایران میں اپنی کارروائی کو کامیابی قرار دے کر وہاں سے نکل جائے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق وائٹ ہاؤس کے ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے مشیر David Sacks نے صدر ٹرمپ کو مشورہ دیا ہے کہ امریکا کو جنگ کو مزید طول دینے کے بجائے اپنی کامیابی کا اعلان کر کے ایران سے فوجی موجودگی ختم کر دینی چاہیے۔

وائٹ ہاؤس میں ایران جنگ پر اختلافات

رپورٹس کے مطابق ایران کے خلاف جاری کارروائیوں کے معاملے پر White House کے اندر واضح اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔

امریکی حکومت کے بعض اعلیٰ حکام کا مؤقف ہے کہ ایران کی فوجی صلاحیت کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے کارروائیاں جاری رکھی جائیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر اس موقع پر دباؤ کم کیا گیا تو ایران مستقبل میں دوبارہ خطے کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکی انتظامیہ کے کچھ مشیر اور تجزیہ کار اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ امریکا اپنے بنیادی اہداف حاصل کر چکا ہے، اس لیے مزید جنگ سے گریز کیا جانا چاہیے۔

جنگ طویل ہونے کا خدشہ

ڈیوڈ سیکس کا کہنا ہے کہ اگر امریکا ایران کے ساتھ جنگ کو مزید بڑھاتا ہے تو یہ ایک طویل اور پیچیدہ تنازع میں تبدیل ہو سکتی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ ایسی صورتحال امریکا کو ایک لمبی جنگ میں پھنسا سکتی ہے جس کے نہ صرف عسکری بلکہ معاشی اور سیاسی اثرات بھی پڑ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق امریکا کو چاہیے کہ وہ موجودہ کارروائی کو اپنی کامیابی قرار دے اور سفارتی راستہ اختیار کرے۔

ٹرمپ کا مؤقف

دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ یا کشیدگی کا اختتام اسی وقت ہوگا جب انہیں مناسب محسوس ہوگا۔

ٹرمپ کا کہنا ہے کہ امریکا اپنے مفادات کے تحفظ اور خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔

ان کے مطابق ایران کو کسی صورت جوہری طاقت بننے کی اجازت نہیں دی جا سکتی اور امریکا اس معاملے پر سخت مؤقف برقرار رکھے گا۔

عالمی امور کے ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایران کے ساتھ جنگ کے حوالے سے امریکی حکومت کے اندر اختلافات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ صورتحال انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر جنگ مزید پھیلتی ہے تو اس کے اثرات صرف امریکا اور ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پورا مشرق وسطیٰ اس سے متاثر ہو سکتا ہے۔

کچھ ماہرین کے مطابق امریکا کے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ وہ فوجی کارروائی اور سفارتی حکمت عملی کے درمیان توازن برقرار رکھے۔

عوامی ردعمل

امریکا اور دنیا بھر میں اس صورتحال پر مختلف ردعمل سامنے آ رہے ہیں۔

کچھ حلقوں کا کہنا ہے کہ امریکا کو مزید جنگ سے گریز کرتے ہوئے سفارتی حل تلاش کرنا چاہیے، کیونکہ مسلسل فوجی کارروائیوں سے خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے۔

دوسری جانب بعض حلقے یہ بھی سمجھتے ہیں کہ ایران پر دباؤ برقرار رکھنا ضروری ہے تاکہ وہ اپنی فوجی اور جوہری سرگرمیوں کو محدود کرے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران کے ساتھ جاری کشیدگی نے امریکی سیاست کے اندر بھی واضح تقسیم پیدا کر دی ہے۔

ان کے بقول ایک طبقہ ایران کے خلاف مکمل فوجی دباؤ جاری رکھنے کا حامی ہے جبکہ دوسرا طبقہ سمجھتا ہے کہ امریکا کو طویل جنگ سے بچنا چاہیے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اگر امریکا نے جنگ کو مزید وسعت دی تو یہ خطے میں ایک بڑے تنازع کی شکل اختیار کر سکتی ہے، جس کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سیاست پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

ان کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ امریکا ایران کے خلاف اپنی حکمت عملی کو مزید سخت کرتا ہے یا سفارتی راستہ اختیار کر کے کشیدگی کم کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین