نوازالدین صدیقی کا بالی ووڈ پر سخت تبصرہ، فلمی صنعت میں “جعلی کہانیوں” پر نئی بحث چھڑ گئی

لوگ جانتے ہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کون سا بیانیہ کس مقصد کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔نوازالدین صدیقی

ممبئی (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)بالی ووڈ کے معروف اداکار Nawazuddin Siddiqui نے موجودہ ہندی فلم انڈسٹری کے بارے میں کھل کر بات کرتے ہوئے ایسی رائے دی ہے جس نے فلمی دنیا میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

ایک بھارتی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کے دوران نوازالدین صدیقی نے کہا کہ آج کل بننے والی بہت سی فلمیں حقیقت سے دور اور “جعلی بیانیوں” پر مبنی ہوتی ہیں، جو نہ صرف سینما کے معیار کو متاثر کر رہی ہیں بلکہ معاشرتی سوچ پر بھی اثر ڈال رہی ہیں۔

موجودہ فلموں پر سخت تنقید

اداکار کا کہنا تھا کہ ہندی سینما کی موجودہ سمت ایسی فلموں کی طرف جا رہی ہے جو حقیقی مسائل اور سچائی سے دور ہیں۔

ان کے مطابق آج کے ناظرین پہلے کی نسبت زیادہ باشعور ہیں اور وہ فلموں میں دکھائی جانے والی کہانیوں کے پیچھے چھپی حقیقت کو آسانی سے سمجھ سکتے ہیں۔

نوازالدین صدیقی نے کہا کہ
“لوگ جانتے ہیں کہ دنیا میں کیا ہو رہا ہے اور کون سا بیانیہ کس مقصد کے لیے پیش کیا جا رہا ہے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ سچائی کو چھپانے کے بجائے اسے سامنے لانا چاہیے کیونکہ آج کے دور میں ہر شخص معلومات تک آسان رسائی رکھتا ہے۔

سینما کا کردار کیا ہونا چاہیے؟

پروگرام کے دوران اداکار سے یہ سوال بھی پوچھا گیا کہ موجودہ عالمی کشیدگی اور سماجی مسائل کے دور میں کیا فلم سازوں کو سینما کے ذریعے معاشرے کی رہنمائی کرنی چاہیے۔

اس سوال کے جواب میں نوازالدین صدیقی نے کہا کہ سینما ایک طاقتور ذریعہ ہے جو لوگوں کے خیالات اور سوچ کو متاثر کر سکتا ہے، اس لیے فلم سازوں کو ذمہ داری کے ساتھ کہانیاں پیش کرنی چاہئیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے واقعات اور سیاسی و سماجی حالات پر عوام کی گہری نظر ہوتی ہے اور لوگ اب یہ بھی سمجھتے ہیں کہ مختلف بیانیے کس طرح تشکیل دیے جاتے ہیں۔

فلمی دنیا میں نئی بحث

نوازالدین صدیقی کے اس بیان کے بعد بھارتی فلمی حلقوں اور سوشل میڈیا پر بحث شروع ہو گئی ہے کہ کیا واقعی بالی ووڈ میں ایسی فلمیں زیادہ بن رہی ہیں جو حقیقت سے دور یا کسی خاص بیانیے کو فروغ دیتی ہیں۔

کچھ حلقے اداکار کے مؤقف کی حمایت کر رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ سینما کو معاشرتی حقیقت کے قریب ہونا چاہیے، جبکہ کچھ افراد کا کہنا ہے کہ فلمیں بنیادی طور پر تفریح کا ذریعہ ہوتی ہیں۔

فلمی ناقدین کی رائے

فلمی ناقدین کے مطابق بالی ووڈ میں گزشتہ چند برسوں سے ایسی فلموں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جو سیاسی یا سماجی بیانیوں کے گرد گھومتی ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اس رجحان نے سینما کے کردار کے بارے میں نئی بحث کو جنم دیا ہے کہ آیا فلمیں صرف تفریح کے لیے ہونی چاہئیں یا انہیں سماجی حقیقت کو بھی بیان کرنا چاہیے۔

ناقدین کے مطابق نوازالدین صدیقی جیسے اداکار اس بحث کو مزید اہم بنا دیتے ہیں کیونکہ وہ اپنے منفرد اداکاری کے انداز اور سنجیدہ کرداروں کے لیے جانے جاتے ہیں۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد نے نوازالدین صدیقی کے بیان پر مختلف آراء کا اظہار کیا ہے۔

کچھ صارفین کا کہنا ہے کہ اداکار نے بالی ووڈ کی حقیقت بیان کر دی ہے جبکہ کچھ افراد کا خیال ہے کہ فلمی صنعت میں مختلف موضوعات پر فلمیں بننا ایک فطری عمل ہے۔

کئی مداحوں نے یہ بھی کہا کہ سینما میں حقیقت اور تفریح دونوں کا توازن برقرار رہنا چاہیے۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق نوازالدین صدیقی کا بیان بالی ووڈ میں ایک پرانی مگر اہم بحث کو دوبارہ زندہ کر رہا ہے۔

ان کے بقول ہندی سینما ہمیشہ سے صرف تفریح تک محدود نہیں رہا بلکہ اس نے مختلف ادوار میں معاشرتی اور سیاسی موضوعات کو بھی پیش کیا ہے۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ موجودہ دور میں جب ناظرین عالمی خبروں اور معلومات تک آسان رسائی رکھتے ہیں تو فلم سازوں کے لیے بھی ضروری ہو گیا ہے کہ وہ اپنی کہانیوں میں حقیقت اور ذمہ داری کا عنصر شامل کریں۔

ان کے مطابق آنے والے وقت میں یہ بحث مزید شدت اختیار کر سکتی ہے کہ سینما کا اصل مقصد کیا ہونا چاہیے — محض تفریح یا معاشرتی شعور کی تشکیل۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین