ایران کے خلاف جنگ امریکی خزانے پر بوجھ بننے لگی، اب تک کتنے ارب ڈالرز خرچ ہو چکے؟ اہم انکشاف

28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی کارروائیوں پر اب تک امریکا تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)ایران کے خلاف جاری عسکری کارروائیاں امریکا کے لیے مالی اعتبار سے تیزی سے بوجھ بنتی جا رہی ہیں۔ ابتدائی اندازوں کے مطابق اب تک اس جنگ پر تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کیے جا چکے ہیں، جبکہ امریکی حکام نے واضح اشارہ دیا ہے کہ آنے والے دنوں میں حملوں کی شدت مزید بڑھ سکتی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی نیشنل اکنامک کونسل کے ڈائریکٹر کیون ہیسیٹ نے امریکی ٹی وی پروگرام "فیس دی نیشن” میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 28 فروری سے ایران کے خلاف شروع ہونے والی کارروائیوں پر اب تک امریکا تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، جو اس تنازع کی بڑھتی ہوئی لاگت کی نشاندہی کرتا ہے۔

پروگرام کی میزبان مارگریٹ برینن نے نشاندہی کی کہ جنگ کے آغاز کے صرف پہلے ہفتے میں ہی ہتھیاروں کے استعمال اور عسکری کارروائیوں پر 5 ارب ڈالر سے زائد خرچ ہو گئے تھے۔ تاہم اس حوالے سے مزید تفصیلات طلب کیے جانے پر کیون ہیسیٹ کوئی واضح اور حتمی جواب دینے سے گریزاں دکھائی دیے۔

دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے ایران کے خلاف کارروائیوں کے حوالے سے سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ آئندہ دنوں میں ایران پر بمباری میں نمایاں اور ڈرامائی اضافہ متوقع ہے، جس کے نتیجے میں جنگی اخراجات میں مزید تیزی سے اضافہ ہونے کا امکان ہے۔

ادھر ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو بند کرنے کی ممکنہ دھمکی نے عالمی معیشت اور توانائی کی منڈیوں میں بے چینی پیدا کر دی ہے، کیونکہ دنیا بھر میں استعمال ہونے والے تیل کا تقریباً 20 فیصد اسی اہم سمندری گزرگاہ کے ذریعے عالمی منڈیوں تک پہنچتا ہے۔

اس کے باوجود امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ موجودہ دور میں امریکا خود بھی تیل پیدا کرنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے، لہٰذا ایران کی کسی ممکنہ کارروائی کے باوجود امریکی معیشت کو ماضی کی طرح شدید جھٹکا لگنے کا خدشہ نسبتاً کم ہے۔

دوسری طرف اس جنگ کے بنیادی مقاصد بھی زیرِ بحث آ گئے ہیں۔ ابتدا میں ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنے کو اس کارروائی کا بنیادی ہدف قرار دے رہی تھی، بعد ازاں ایران کی میزائل صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کی بات سامنے آئی، جبکہ اب ایرانی تیل کی تنصیبات کو ہدف بنانے کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں، جس سے جنگ کی حکمتِ عملی اور اصل مقاصد پر مزید سوالات جنم لے رہے ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی ایک مرتبہ پھر عالمی سیاست، معیشت اور سلامتی کے منظرنامے پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ ابتدائی رپورٹس کے مطابق امریکا اس جنگی مہم پر اب تک تقریباً 12 ارب ڈالر خرچ کر چکا ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ جدید دور کی جنگیں صرف عسکری محاذ تک محدود نہیں رہتیں بلکہ ان کے اثرات معیشت، توانائی کی منڈیوں اور عالمی سفارت کاری تک پھیل جاتے ہیں۔ اگر یہ صورتحال مزید طول پکڑتی ہے تو اس کے اثرات نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

جنگی اخراجات کا بڑھنا دراصل کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن جاتا ہے۔ امریکا اگرچہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے، لیکن گزشتہ دو دہائیوں میں افغانستان اور عراق کی جنگوں نے بھی امریکی معیشت پر بھاری بوجھ ڈالا تھا۔ اب ایران کے خلاف کارروائیوں پر تیزی سے بڑھتے اخراجات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کے مالی اثرات امریکی بجٹ، ٹیکس دہندگان اور دفاعی اخراجات کی ترجیحات پر بھی نمایاں ہو سکتے ہیں۔

ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ جنگ کے مقاصد کے حوالے سے ابہام پایا جا رہا ہے۔ ابتدا میں کہا گیا کہ ایران کے جوہری پروگرام کو ختم کرنا اس کارروائی کا بنیادی ہدف ہے۔ بعد ازاں ایران کی میزائل صلاحیتوں کو نشانہ بنانے کی بات سامنے آئی، اور اب ایرانی تیل کی تنصیبات کو ممکنہ ہدف قرار دیا جا رہا ہے۔ اس بدلتی ہوئی حکمتِ عملی نے مبصرین کے ذہنوں میں یہ سوال پیدا کر دیا ہے کہ آیا اس جنگ کا کوئی واضح اور طے شدہ مقصد بھی موجود ہے یا نہیں۔ کسی بھی عسکری مہم کی کامیابی کے لیے واضح حکمتِ عملی اور اہداف انتہائی اہم ہوتے ہیں، بصورتِ دیگر جنگ طویل اور پیچیدہ شکل اختیار کر سکتی ہے۔

اس تنازع کا ایک نہایت حساس پہلو آبنائے ہرمز بھی ہے۔ یہ تنگ سمندری راستہ عالمی توانائی کی سپلائی کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ دنیا کے تقریباً بیس فیصد تیل کی ترسیل اسی راستے سے ہوتی ہے۔ اگر ایران واقعی اس گزرگاہ کو بند کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا براہِ راست اثر عالمی تیل کی قیمتوں پر پڑے گا، جس سے دنیا بھر میں مہنگائی میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ خاص طور پر ترقی پذیر ممالک، جو پہلے ہی معاشی دباؤ کا شکار ہیں، اس صورتحال سے زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ امریکا اب خود بھی بڑے پیمانے پر تیل پیدا کرنے والا ملک بن چکا ہے، تاہم حقیقت یہ ہے کہ عالمی توانائی کی منڈی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے۔ کسی ایک اہم راستے یا خطے میں خلل پوری دنیا میں قیمتوں اور رسد کو متاثر کر سکتا ہے۔ اسی لیے ماہرین کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی معیشت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔

سیاسی طور پر بھی یہ تنازع اہم اثرات رکھتا ہے۔ امریکی داخلی سیاست میں اکثر دیکھا گیا ہے کہ جنگی حالات حکومتوں کے لیے ایک بڑا سیاسی امتحان بن جاتے ہیں۔ جنگ کے بڑھتے اخراجات اور ممکنہ انسانی و معاشی نقصانات امریکی عوام اور کانگریس میں بحث کو جنم دے سکتے ہیں۔ اگر جنگ طویل ہوتی ہے تو اس کے سیاسی اثرات آنے والے انتخابات اور امریکی خارجہ پالیسی پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

دوسری جانب ایران کے لیے بھی یہ صورتحال ایک بڑی آزمائش ہے۔ ایران طویل عرصے سے اقتصادی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی معیشت پہلے ہی دباؤ میں ہے۔ اگر جنگی کشیدگی بڑھتی ہے تو اس کے اثرات ایرانی معیشت اور عوامی زندگی پر مزید گہرے ہو سکتے ہیں۔ تاہم ایران ماضی میں یہ دکھا چکا ہے کہ وہ خطے میں غیر روایتی حکمتِ عملی اور علاقائی اتحادیوں کے ذریعے اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

اس پورے تنازع کا سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ یہ ایک وسیع علاقائی جنگ کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی کئی سیاسی اور عسکری تنازعات کا مرکز ہے۔ اگر امریکا اور ایران کے درمیان براہِ راست تصادم شدت اختیار کرتا ہے تو اس میں دیگر علاقائی قوتوں کے شامل ہونے کا خدشہ بھی پیدا ہو سکتا ہے، جو صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔

آخرکار یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی صرف دو ممالک کا مسئلہ نہیں بلکہ عالمی سیاست اور معیشت کا ایک اہم معاملہ بن چکی ہے۔ جنگی اخراجات، توانائی کی عالمی سپلائی، علاقائی سلامتی اور عالمی سفارت کاری—یہ تمام عوامل اس بحران سے جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کی نظریں اس صورتحال پر مرکوز ہیں اور امید کی جا رہی ہے کہ کشیدگی کو سفارتی ذرائع سے کم کرنے کی کوششیں کی جائیں گی، کیونکہ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جنگیں اکثر مسائل کو حل کرنے کے بجائے مزید پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین