برطانوی وزیراعظم کا ایران کیخلاف جنگ کا حصہ بننے سے صاف انکار

خطے میں سمندری آمدورفت کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ تعاون جاری ہے

لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین)برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے کہا ہے کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں حصہ نہیں لے گا، تاہم خطے میں سمندری آمدورفت کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ تعاون جاری ہے۔

پریس کانفرنس سے خطاب میں کیئر اسٹارمر نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا آسان نہیں، مگر اس کی بحالی جلد از جلد ضروری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس مقصد کے لیے اتحادیوں کے ساتھ مشترکہ اقدامات کیے جا رہے ہیں اور اس حوالے سے بات چیت بھی جاری ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ آبنائے ہرمز کے معاملے پر ایک مستند اور قابل عمل منصوبے کی ضرورت ہے، تاہم ابھی اس پر کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ نیٹو کا مشن نہیں بنے گا۔

اسٹارمر نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے، کیونکہ اس کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے اور عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ اب تک 92 ہزار برطانوی شہری مشرق وسطیٰ سے واپس آ چکے ہیں اور حکومت صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔

برطانوی وزیراعظم نے کہا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ کسی نہ کسی معاہدے کے لیے مذاکرات کرنا ہوں گے۔

کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ اس تنازع کے جلد از جلد حل کے لیے کام جاری رکھے گا اور وقت ہی بتائے گا کہ اس جنگ کے بارے میں برطانیہ کا مؤقف درست تھا یا نہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ برطانیہ کے تعلقات بہت اچھے ہیں اور تعاون کے سلسلے جاری ہیں۔

روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ برطانوی وزیراعظم سر کیئر اسٹارمر نے حالیہ پریس کانفرنس میں مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے حوالے سے اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے واضح کیا کہ برطانیہ ایران کے خلاف جاری جنگ میں حصہ نہیں لے گا، لیکن خطے میں سمندری آمدورفت کی بحالی اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے اتحادی ممالک کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔

ان کے بیان کا پہلا اہم پہلو یہ ہے کہ برطانیہ جنگی محاذ پر براہِ راست مداخلت سے گریز کرے گا، جس سے عالمی سطح پر اس کے غیر جانبدار اور متوازن موقف کی عکاسی ہوتی ہے۔ اسٹارمر نے واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کو کھولنا آسان نہیں، مگر یہ اقدام خطے اور عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ناگزیر ہے۔ ان کی یہ پالیسی اس بات کا مظہر ہے کہ برطانیہ خطرناک تنازعات میں حصہ لینے کے بجائے سفارتی اور مشترکہ اقدامات کے ذریعے حل تلاش کرنا چاہتا ہے۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ آبنائے ہرمز کا معاملہ نیٹو کے مشن کا حصہ نہیں بنے گا، جو برطانیہ کی پالیسی میں خودمختاری اور عالمی فوجی اتحاد پر غیر مشروط انحصار سے گریز کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ مؤقف برطانیہ کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں اپنے مفادات کے تحفظ کے ساتھ ساتھ خطے میں تنازع کے محدود رہنے کی خواہش کو بھی نمایاں کرتا ہے۔

اسٹارمر نے جنگ کے فوری خاتمے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جاری کشیدگی کے باعث پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھ رہی ہیں اور عالمی معیشت متاثر ہو رہی ہے۔ یہ بیان برطانیہ کے عالمی اقتصادی مفادات اور توانائی کے تحفظ کی فکر کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک 92 ہزار برطانوی شہری مشرق وسطیٰ سے واپس آ چکے ہیں، جس سے حکومت کی عوامی حفاظت اور داخلی ذمہ داری کی ترجیح واضح ہوتی ہے۔

مزید برآں، اسٹارمر نے اس بات پر زور دیا کہ جنگ کے خاتمے کے بعد ایران کے ساتھ مذاکرات ضروری ہوں گے تاکہ تنازع کا پرامن اور قابل عمل حل تلاش کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانیہ اس تنازع کے جلد از جلد حل کے لیے مستقل کوششیں جاری رکھے گا اور وقت ہی بتائے گا کہ اس کا موقف درست تھا یا نہیں۔

سر کیئر اسٹارمر کا بیان مجموعی طور پر سفارت کاری، اقتصادی تحفظ اور عالمی ذمہ داری کے توازن پر مبنی ہے۔ برطانیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ فوجی مداخلت سے گریز کرے گا، مگر عالمی توانائی کی ترسیل اور سمندری راستوں کی حفاظت کے لیے دیگر اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ مؤقف نہ صرف برطانیہ کی غیر جانبداری کو اجاگر کرتا ہے بلکہ خطے میں تنازعات کے محدود رہنے اور عالمی اقتصادی استحکام کے فروغ کے لیے بھی مؤثر سمجھا جا سکتا ہے۔

آخر میں، اسٹارمر کی پالیسی سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ برطانیہ عالمی تعلقات میں مفاد اور ذمہ داری کا توازن برقرار رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔ جنگ میں غیر ضروری شمولیت سے اجتناب، عوامی تحفظ، اور عالمی توانائی کے تحفظ پر زور دینے کا یہ امتزاج برطانیہ کی موجودہ عالمی حکمت عملی کی نمائندگی کرتا ہے اور خطے میں امن کے لیے مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین