لاہور(خصوصی رپورٹ:رمیض حسین) عیدالفطر کے چاند کے اعلان کے طریقۂ کار سے متعلق ایک شہری نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں منفرد نوعیت کی درخواست دائر کر دی ہے جس میں چاند نظر آنے کے بعد فوری اعلان کو یقینی بنانے کی استدعا کی گئی ہے۔
درخواست گزار عبد اللہ شفیق جان نے ذاتی حیثیت میں عدالت سے رجوع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ رویت ہلال کمیٹی کو پابند کیا جائے کہ چاند کی رویت کی تصدیق ہوتے ہی بلا تاخیر اس کا اعلان کیا جائے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ چاند کے اعلان میں تاخیر کے باعث شہریوں کو غیر یقینی صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کئی لوگ لاعلمی میں معمول کے مطابق تراویح ادا کر لیتے ہیں۔
مزید کہا گیا ہے کہ رات گئے چاند کے اعلان کے بعد بازاروں اور مارکیٹوں میں اچانک رش بڑھ جاتا ہے جس سے انتظامیہ کو نظم و نسق برقرار رکھنے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔
درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ممکنہ لا اینڈ آرڈر مسائل سے بچنے کے لیے انتظامیہ کو مناسب انتظامات کرنے کی ہدایت دی جائے۔
ساتھ ہی یہ بھی مطالبہ کیا گیا ہے کہ عید شاپنگ سے متعلق دکانوں کے علاوہ دیگر مارکیٹوں کو بند رکھنے کے احکامات جاری کیے جائیں اور رویت ہلال کمیٹی کو ہدایت دی جائے کہ چاند نظر آتے ہی فوری طور پر اس کا اعلان کیا جائے۔
روزنامہ تحریک کے سینئر صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ عیدالفطر کے چاند کے اعلان کے حوالے سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر کی جانے والی یہ درخواست بظاہر ایک منفرد اور غیر معمولی قدم محسوس ہوتی ہے، تاہم اس کے پس منظر میں موجود سماجی اور انتظامی مسائل کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ پاکستان میں ہر سال رمضان المبارک کے آخری ایام میں عید کے چاند کے اعلان کا معاملہ نہ صرف عوامی دلچسپی کا باعث بنتا ہے بلکہ اس کے ساتھ معاشرتی، معاشی اور انتظامی پہلو بھی جڑے ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شہری کی جانب سے اس معاملے کو عدالت کے سامنے اٹھانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ چاند کے اعلان کے طریقہ کار اور وقت سے متعلق عوام کے ایک طبقے میں تشویش پائی جاتی ہے۔
پاکستان میں عید کے چاند کا اعلان مرکزی رویت ہلال کمیٹی کرتی ہے جو مختلف شہروں سے موصول ہونے والی شہادتوں اور سائنسی معلومات کی بنیاد پر فیصلہ کرتی ہے۔ یہ عمل بظاہر سادہ نظر آتا ہے مگر حقیقت میں اس میں مختلف مراحل شامل ہوتے ہیں، جن میں شہادتوں کی تصدیق، موسمی حالات کا جائزہ اور دیگر تکنیکی پہلو شامل ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر اوقات چاند نظر آنے کی اطلاعات آنے کے باوجود اعلان میں کچھ وقت لگ جاتا ہے۔ تاہم عوام کے لیے یہ تاخیر بعض اوقات بے چینی کا سبب بن جاتی ہے کیونکہ لوگ عید کی تیاریوں، خریداری اور عبادات کے حوالے سے بروقت فیصلہ کرنا چاہتے ہیں۔
درخواست گزار کا مؤقف اس نقطہ نظر کی عکاسی کرتا ہے کہ چاند کے اعلان میں تاخیر سے شہریوں کو عملی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خاص طور پر بڑے شہروں میں جب رات گئے اچانک عید کے چاند کا اعلان ہوتا ہے تو مارکیٹوں میں رش بڑھ جاتا ہے، جس سے نہ صرف ٹریفک کے مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ انتظامیہ کے لیے امن و امان برقرار رکھنا بھی ایک چیلنج بن جاتا ہے۔ عید سے قبل خریداری کے لیے عوام کی بڑی تعداد بازاروں کا رخ کرتی ہے اور اگر اعلان تاخیر سے ہو تو یہ رش اچانک بڑھ جاتا ہے جس سے بد نظمی کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے کا ایک مذہبی پہلو بھی ہے۔ رمضان المبارک کی آخری رات عبادات اور تراویح کے حوالے سے اہمیت رکھتی ہے۔ اگر چاند کے اعلان میں غیر یقینی صورتحال ہو تو بعض افراد احتیاطاً تراویح ادا کر لیتے ہیں جبکہ بعد میں اعلان ہونے پر انہیں احساس ہوتا ہے کہ دراصل عید ہو چکی ہے۔ اس طرح کی صورتحال بعض افراد کے لیے الجھن کا باعث بنتی ہے، جس کا ذکر درخواست میں بھی کیا گیا ہے۔
تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ چاند کے اعلان کے عمل کو مکمل طور پر جلد بازی میں انجام دینا بھی ممکن نہیں ہوتا۔ رویت ہلال کمیٹی کو مختلف شہروں سے آنے والی شہادتوں کی تصدیق کرنی ہوتی ہے اور بعض اوقات غلط اطلاعات بھی موصول ہو جاتی ہیں۔ اگر اعلان بغیر مکمل تصدیق کے کر دیا جائے تو اس سے مزید پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔ اسی لیے کمیٹی عام طور پر احتیاط اور مکمل اطمینان کے بعد ہی حتمی اعلان کرتی ہے۔
یہ درخواست ایک اور اہم پہلو کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ پاکستان میں چاند دیکھنے کے نظام کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنانے کی ضرورت پر وقتاً فوقتاً بحث ہوتی رہی ہے۔ کئی ماہرین کا خیال ہے کہ سائنسی ٹیکنالوجی، فلکیاتی ڈیٹا اور جدید آلات کو زیادہ مؤثر انداز میں استعمال کر کے چاند کے بارے میں پیشگی معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں جس سے اعلان کے عمل کو زیادہ منظم اور تیز بنایا جا سکتا ہے۔ تاہم اس حوالے سے مذہبی اور سائنسی نقطہ نظر کے درمیان توازن قائم کرنا بھی ایک حساس معاملہ ہے۔
مجموعی طور پر دیکھا جائے تو اسلام آباد ہائیکورٹ میں دائر ہونے والی یہ درخواست صرف ایک شہری کا ذاتی اقدام نہیں بلکہ اس بحث کی عکاسی بھی کرتی ہے جو ہر سال رمضان کے اختتام پر سامنے آتی ہے۔ یہ معاملہ صرف چاند دیکھنے تک محدود نہیں بلکہ اس کے ساتھ عوامی سہولت، انتظامی نظم و نسق اور مذہبی روایات جیسے کئی پہلو جڑے ہوئے ہیں۔
اگرچہ عدالت اس درخواست پر کیا فیصلہ دیتی ہے یہ تو وقت ہی بتائے گا، لیکن اس واقعے نے ایک بار پھر اس بات کی طرف توجہ مبذول کرائی ہے کہ چاند کے اعلان کے نظام کو مزید مؤثر اور عوامی سہولت کے مطابق بنانے پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت موجود ہے۔ ایسی بہتری نہ صرف عوامی مشکلات کو کم کر سکتی ہے بلکہ عید جیسے خوشی کے موقع کو زیادہ منظم اور پرسکون انداز میں منانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔





















