ایران کی بڑی پیشکش، پابندیاں ختم ہوں تو جوہری ہتھیار نہ بنانے کی ضمانت دینے پر آمادگی

زیر غور تجاویز صرف جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع معاہدے تک جا سکتی ہیں

تہران / واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے عندیہ دیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار نہ بنانے کے لیے ضمانت دینے پر آمادہ ہے، تاہم اس کے بدلے میں اس پر عائد بین الاقوامی پابندیوں کے خاتمے کو لازمی شرط قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے واضح کیا ہے کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال کے اپنے حق سے دستبردار نہیں ہوگا اور کسی بھی ممکنہ معاہدے میں اس حق کا تحفظ یقینی بنایا جانا ضروری ہے۔

ایران اور امریکا کے درمیان رابطے

ذرائع کے مطابق حالیہ دنوں میں ایران اور امریکا کے درمیان بالواسطہ رابطے ہوئے ہیں، تاہم یہ ابھی باضابطہ مذاکرات کی سطح تک نہیں پہنچ سکے۔

ایرانی ذرائع کا کہنا ہے کہ مختلف ثالثوں کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ جاری ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے امکانات پر غور کیا جا رہا ہے۔

جنگ کے خاتمے کے لیے آمادگی

ایران نے اس بات کا بھی اشارہ دیا ہے کہ وہ جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے خاتمے کے لیے سنجیدہ اور پائیدار تجاویز سننے کے لیے تیار ہے۔

ذرائع کے مطابق زیر غور تجاویز صرف جنگ بندی تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع معاہدے تک جا سکتی ہیں جس کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان تنازع کا مستقل حل نکالا جا سکے۔

پابندیوں کا خاتمہ بنیادی شرط

ایرانی حکام نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی معاہدے میں پابندیوں کا خاتمہ بنیادی شرط ہوگا۔

ان کا کہنا ہے کہ ایران کے قومی مفادات کا تحفظ کیے بغیر کسی بھی معاہدے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔

ایرانی ذرائع کے مطابق اب تک امریکا کے ساتھ براہ راست مذاکرات کی کوئی باضابطہ درخواست نہیں دی گئی، تاہم اگر مناسب شرائط سامنے آئیں تو ایران ممکنہ معاہدے پر غور کر سکتا ہے۔

عالمی امور کے ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق ایران کا یہ مؤقف اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ تہران مکمل محاذ آرائی کے بجائے سفارتی حل کی طرف جھکاؤ رکھتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پابندیوں کا خاتمہ ایران کے لیے سب سے اہم مسئلہ ہے، جبکہ امریکا کے لیے جوہری پروگرام پر کنٹرول بنیادی ترجیح ہے۔

ان کے مطابق اگر دونوں فریق اپنی شرائط میں لچک دکھائیں تو کسی ممکنہ معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

عوامی و عالمی ردعمل

عالمی سطح پر اس پیش رفت کو محتاط امید کے ساتھ دیکھا جا رہا ہے۔

کچھ مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران کی جانب سے ضمانت دینے کی پیشکش کشیدگی کم کرنے کی طرف ایک مثبت قدم ہو سکتا ہے، جبکہ بعض حلقے اسے صرف سفارتی حکمت عملی بھی قرار دے رہے ہیں۔

سوشل میڈیا اور عالمی تجزیہ کاروں کے درمیان اس بات پر بحث جاری ہے کہ آیا یہ پیشکش واقعی کسی بڑے معاہدے کا پیش خیمہ بن سکتی ہے یا نہیں۔

سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران کا حالیہ مؤقف ایک متوازن حکمت عملی کی عکاسی کرتا ہے جس میں وہ اپنے بنیادی مفادات کو برقرار رکھتے ہوئے سفارتی راستہ کھلا رکھنا چاہتا ہے۔

ان کے بقول پابندیوں کے خاتمے کو شرط بنانا ایران کی دیرینہ پالیسی کا حصہ ہے، جبکہ امریکا کے لیے جوہری پروگرام کی نگرانی اولین ترجیح رہے گی۔

غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں اگر دونوں فریقوں کے درمیان باضابطہ مذاکرات شروع ہوتے ہیں تو یہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین