تہران / تل ابیب / واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات سے متعلق دعوؤں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے واضح پیغام دیا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ یا مفاہمت کے لیے تیار نہیں، جبکہ خطے میں فوجی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔
ایرانی فوج کے مرکزی ہیڈکوارٹر خاتم الانبیاء کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل ابراہیم زلفغاری نے امریکی بیانات پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا اپنی ناکامی کو معاہدے کا نام نہ دے۔
میزائل حملوں کا دعویٰ
ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے مطابق حالیہ کارروائیوں میں اسرائیل کے شمالی شہر صفد میں ایک فوجی اڈے کو نشانہ بنایا گیا۔
بیان کے مطابق تل ابیب، کریات شمونہ اور بنی براک میں بھی مختلف اہداف پر میزائل حملے کیے گئے۔
ایرانی حکام نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں کویت، اردن اور بحرین میں واقع تنصیبات شامل ہیں۔
تاہم ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق سامنے نہیں آئی۔
مذاکرات کے دعوے مسترد
ایرانی ترجمان نے امریکی صدر Donald Trump کے مذاکرات سے متعلق بیانات کو رد کرتے ہوئے کہا:
“کیا امریکا کے اندرونی اختلافات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ وہ خود ہی اپنے ساتھ مذاکرات کر رہا ہے؟”
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کا مؤقف شروع سے واضح ہے اور آئندہ بھی یہی رہے گا کہ امریکا کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت نہیں کی جائے گی۔
تیل اور خطے کے نظام پر اثرات
ایرانی فوجی ترجمان نے خبردار کیا کہ جب تک ایران کی شرائط پوری نہیں ہوتیں، نہ تو تیل کی قیمتیں سابق سطح پر واپس آئیں گی اور نہ ہی خطے میں پہلے جیسا نظام بحال ہو سکے گا۔
انہوں نے امریکا کو سخت الفاظ میں خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کا خیال مکمل طور پر ترک کرنا ہوگا۔
کشیدگی میں مسلسل اضافہ
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ایران، امریکا اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے اور دونوں جانب سے جوابی کارروائیوں کی خبریں سامنے آ رہی ہیں۔
خطے میں بڑھتی ہوئی اس صورتحال نے عالمی سطح پر بھی تشویش پیدا کر دی ہے۔
دفاعی و عالمی ماہرین کی رائے
دفاعی ماہرین کے مطابق ایران کی جانب سے مذاکرات کی سختی سے تردید اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ صورتحال فوری طور پر سفارتی حل کی طرف جاتی نظر نہیں آ رہی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر کشیدگی اسی طرح برقرار رہی تو یہ تنازع مزید پھیل سکتا ہے اور اس کے اثرات عالمی سطح پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔
ان کے مطابق آبنائے ہرمز، تیل کی سپلائی اور خطے کی سیکیورٹی اس کشیدگی کے اہم پہلو ہیں۔
عالمی ردعمل
بین الاقوامی سطح پر اس پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
کئی ممالک نے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور سفارتی راستہ اختیار کرنے کی اپیل کی ہے۔
سوشل میڈیا اور عالمی تجزیہ کار اس صورتحال کو مشرق وسطیٰ میں ایک بڑے تصادم کے خطرے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔
سینئر صحافی غلام مرتضیٰ کے مطابق ایران کا سخت مؤقف ظاہر کرتا ہے کہ وہ کسی بھی دباؤ میں آکر پالیسی تبدیل کرنے کے لیے تیار نہیں۔
ان کے بقول امریکا کی جانب سے مذاکرات کے اشارے اور ایران کی جانب سے ان کی تردید اس بات کا ثبوت ہیں کہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد کا فقدان انتہائی گہرا ہے۔
غلام مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں ناکام رہیں تو یہ تنازع نہ صرف خطے بلکہ عالمی امن اور معیشت کے لیے بھی خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔





















