سائنس دانوں نے سگریٹ نوشی چھوڑنے کا سب سے مؤثر طریقہ ڈھونڈ نکالا!

روایتی سگریٹ نوشی کینسر، میٹابولک بیماریوں، ذہنی کمزوری اور دیگر سنگین صحت کے مسائل کا باعث بنتی ہے

(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)دنیا بھر میں 2014 سے 2023 تک کیے گئے ایک جامع جائزے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ سگریٹ نوشی ترک کرنے کے لیے نکوٹین والے الیکٹرانک سگریٹس (ویپس) ایک مؤثر طریقہ ثابت ہو سکتے ہیں، تاہم ماہرین نے اس طریقے کے حوالے سے احتیاط برتنے پر بھی زور دیا ہے۔

تحقیق کے مطابق نکوٹین سے بھرپور ویپس، روایتی نکوٹین متبادل طریقوں جیسے پیچز، چیونگ گم، لوزینجز اور رویہ جاتی تھراپی کے مقابلے میں زیادہ مؤثر ثابت ہوئے ہیں، جبکہ یہ نکوٹین سے خالی ای سگریٹس سے بھی بہتر نتائج دیتے ہیں۔

تاہم ماہرین اس بات پر متفق نہیں کہ ایک نکوٹین والی عادت کو چھوڑ کر دوسری نکوٹین پر مبنی چیز اپنانا واقعی صحت کے لیے بہتر حکمت عملی ہے یا نہیں۔

Centers for Disease Control and Prevention کے مطابق اگرچہ ویپس میں روایتی سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ کیمیکلز ہوتے ہیں، لیکن انہیں مکمل طور پر محفوظ قرار نہیں دیا جا سکتا۔

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی سگریٹ نوشی کینسر، میٹابولک بیماریوں، ذہنی کمزوری اور دیگر سنگین صحت کے مسائل کا باعث بنتی ہے، تاہم ویپس کے طویل مدتی اثرات پر تحقیق ابھی جاری ہے اور اس کے مکمل نتائج سامنے نہیں آئے۔

ماہرین کی رائے

ماہرین صحت کے مطابق ویپس سگریٹ چھوڑنے میں ایک عبوری حل (transitional tool) کے طور پر مددگار ہو سکتے ہیں، لیکن انہیں مستقل متبادل کے طور پر اپنانا خطرناک ہو سکتا ہے، کیونکہ نکوٹین کی لت برقرار رہتی ہے۔

عوامی ردعمل

سوشل میڈیا پر اس تحقیق پر ملا جلا ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں کچھ افراد نے اسے مثبت پیش رفت قرار دیا، جبکہ دیگر نے خدشہ ظاہر کیا کہ ویپس نوجوانوں میں نکوٹین کے استعمال کو مزید بڑھا سکتے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق یہ تحقیق سگریٹ نوشی کے خاتمے کے حوالے سے ایک اہم پیش رفت ضرور ہے، لیکن اسے مکمل حل قرار دینا قبل از وقت ہوگا۔ ان کے بقول اصل مقصد نکوٹین کی لت سے مکمل نجات ہونا چاہیے، نہ کہ ایک شکل سے دوسری شکل میں منتقل ہونا۔

انہوں نے کہا کہ حکومتوں کو چاہیے کہ وہ آگاہی مہم کے ذریعے لوگوں کو محفوظ اور مؤثر طریقوں سے سگریٹ نوشی چھوڑنے کی ترغیب دیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین