ایران جنگ: اسرائیل کے 800 فضائی حملوں کا دعویٰ، جانی نقصانات پر متضاد اعداد و شمار

ان کارروائیوں میں تقریباً 16 ہزار مختلف ہتھیار استعمال کیے گئے

(خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ میں شدت برقرار ہے، جہاں اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے جنگ کے پہلے مہینے میں ایران کے خلاف 800 سے زائد فضائی حملے کیے اور ہزاروں اہداف کو نشانہ بنایا۔

اسرائیلی فوج کے بیان کے مطابق ان کارروائیوں میں تقریباً 16 ہزار مختلف ہتھیار استعمال کیے گئے جبکہ 4 ہزار سے زائد عسکری اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ مزید دعویٰ کیا گیا کہ ان حملوں میں 2 ہزار سے زائد ایرانی فوجی اہلکاروں اور کمانڈرز کو ہلاک کیا گیا، اور یہ تمام کارروائیاں ایران کی عسکری صلاحیت کو کمزور کرنے کے لیے کی گئیں۔

دوسری جانب ایران کے حکام نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اور اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں اب تک 1937 افراد شہید ہو چکے ہیں، جن میں 240 خواتین اور 212 بچے بھی شامل ہیں، اور ان کے مطابق حملوں میں شہری علاقوں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جس کے باعث جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔

ایرانی مؤقف کے برعکس اسرائیلی فوج کی جانب سے شہری ہلاکتوں کے الزامات پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا، جس سے صورتحال مزید مبہم ہو گئی ہے۔

ماہرین کی رائے

بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق جنگ کے دوران دونوں فریقین کی جانب سے جاری کیے گئے اعداد و شمار میں واضح تضاد پایا جاتا ہے، جس کے باعث زمینی حقائق کا درست اندازہ لگانا مشکل ہو جاتا ہے۔ ان کے مطابق آزاد ذرائع سے تصدیق کے بغیر کسی ایک مؤقف کو مکمل طور پر درست قرار نہیں دیا جا سکتا۔

انسانی بحران کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ مسلسل فضائی حملوں اور جوابی کارروائیوں کے باعث خطے میں انسانی بحران کے خطرات بڑھ رہے ہیں، خاص طور پر شہری آبادی متاثر ہو رہی ہے اور بنیادی سہولیات بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

عالمی و عوامی ردعمل

عالمی سطح پر اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیمیں جنگ بندی اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات کا مطالبہ کر رہی ہیں۔

سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق موجودہ جنگ میں معلوماتی جنگ (information warfare) بھی شدت اختیار کر چکی ہے، جہاں دونوں فریق اپنے اپنے مؤقف کو مضبوط کرنے کے لیے مختلف اعداد و شمار پیش کر رہے ہیں۔ ان کے بقول اصل صورتحال جاننے کے لیے غیر جانبدار ذرائع کی اشد ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر یہ تنازع طویل ہوا تو نہ صرف خطہ بلکہ عالمی سطح پر بھی اس کے سنگین اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، خصوصاً توانائی، معیشت اور انسانی سلامتی کے حوالے سے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین