لاہور(تحریک سپیشل ) پاکستان کے سپوت محمد نعیم چودھری نے پیرس درانسی میونسپل میں ایک نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے نہ صرف بطور جنرل کونسل کامیابی حاصل کی بلکہ وہ پہلے پاکستانی ہیں جو پہلی الیکٹورل اکاونٹنگ میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے، یہ کامیابی پیرس میں آباد پاکستانی کمیونٹی کے لیے باعث فخر ہے، محمد نعیم چودھری نے مدینہ منورہ میں نائب صدر عوامی تحریک راجہ زاہد محمود سے بھی تفصیلی ملاقات کی، راجہ زاہد محمود نے انہیں تاریخی کامیابی پر مبارکباد دی۔
محمد نعیم چودھری نے روزنامہ تحریک سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پیرس سے ملحقہ علاقہ درانسی میونسپل کمیٹی سے پہلی اکاؤنٹنگ میں 64 فیصد سے ووٹ لے کر کامیاب ہوا جو اللہ کا کرم ہے، میں نے انسانیت کی بے لوث خدمت سے یہ مقام حاصل کیا، اور انسانیت کی خدمت کا جذبہ مجھے شیخ الاسلام ڈاکٹر محمد طاہر القادری اور ادارہ منہاج القرآن سے ملا، کیونکہ میں طویل عرصہ فرانس میں عوامی تحریک کا جنرل سیکرٹری بھی رہا ہوں، ۔روزنامہ تحریک سے اپنی خصوصی گفتگو میں نعیم چودھری نے اس کامیابی کو محض ایک ذاتی فتح نہیں بلکہ پوری پاکستانی اور مسلم کمیونٹی کی کامیابی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں پاکستان عوامی تحریک کے پلیٹ فارم سے کی گئی سیاسی جدوجہد اور عوامی خدمت کے تجربات نے انہیں عملی میدان میں مضبوط بنایا، اور یہی تجربہ پیرس کے انتخابات میں ان کی کامیابی کی بنیاد بنا۔انہوں نے بتایا کہ وہ گزشتہ دو دہائیوں سے یونین آف ڈیموکریٹس اینڈ انڈیپنڈنٹس (UDI) کے ساتھ وابستہ ہیں، اور پارٹی کی جانب سے کونسلر کے لیے مجھے نامزد کیا،

انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں عزت دی اور عوام نے اعتماد کا اظہار کیا۔انہوں نے بتایا کہ 49 رکنی اسمبلی میں 41 ممبران کا تعلق یو ڈی آئی سے ہے، یو ڈی آئی تیزی سے مقبول ہوتی ہوئی قومی پارٹی ہے، یو ڈی آئی اپنے بہترین عوامی منشور کی وجہ سے مقبول ہو رہی ہے ۔ محمد نعیم چودھری نے بتایا کہ فرانس میں مسلم ووٹ ایک فیصلہ کن حیثیت اختیار کر چکا ہے ان کے مطابق، فرانس کی تعمیر و ترقی میں مسلم کمیونٹی کا کردار نہایت اہم اور قابلِ تقلید ہے۔ یہاں آباد مسلمان نہ صرف قانون کی پاسداری کرتے ہیں بلکہ معاشرتی بہبود، فلاحی کاموں اور قومی استحکام میں بھی پیش پیش رہتے ہیں۔

انہوں نے فرانسیسی نظامِ حکومت کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ وہاں کے سرکاری ادارے سیاست سے بالاتر ہو کر کام کرتے ہیں۔ کامیاب اور ناکام دونوں طرف کے منتخب نمائندوں کو سرکاری اداروں کی طرف سے یکساں عزت دی جاتی ہے، اور انتقامی سیاست کا تصور فرانس کی سیاسی لغت میں موجود نہیں ہے ۔ منتخب نمائندے خواہ حکومت سے ہوں یا اپوزیشن سے ان کی عوامی بہبود کی تجاویز کو سنجیدگی سے لیا جاتا ہے، جس سے عوام کا جمہوریت پر اعتماد ہے ۔انہوں نے بتایا کہ درانسی شہر میں بین المذاہب ہم آہنگی کا مثالی ماحول ہے انہوں نے بتایا کہ شہر کے میئر نے مسلم کمیونٹی کے لیے مسجد کی تعمیر میں کردار ادا کیا، جس سے اسلام مخالف جذبات میں نمایاں کمی آئی ہے۔ یہ عمل اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ فرانس میں بلدیاتی سیاست کا محور انسانیت کی خدمت اور سماجی ہم آہنگی ہے۔ محمد نعیم چودھری نے ایک سوال کے جواب میں نہایت جامع اور فکر انگیز گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستان واقعی ترقی کی راہ پر گامزن ہونا چاہتا ہے اور عوام کا جمہوریت پر اعتماد بحال کرنا مقصود ہے، تو سب سے پہلے بلدیاتی اداروں کو مضبوط، بااختیار اور خودمختار بنانا ہوگا۔

انہوں نے زور دیا کہ ان اداروں کو اس قدر مستحکم کیا جائے کہ کوئی بھی صوبائی یا قومی حکومت انہیں اپنے زیرِ اثر نہ لا سکے، نہ ہی ان کے مالی وسائل پر قابض ہو سکے، اور نہ ہی کسی کو یہ اختیار ہو کہ بلدیاتی انتخابات کو مؤخر کرے یا ان اداروں کو معطل کرے۔ان کا کہنا تھا کہ عوام کو یہ یقین ہونا چاہیے کہ وہ جس نمائندے کو ووٹ دے رہے ہیں، وہی ان کی دہلیز سے منتخب ہو کر ان کے مسائل حل کرے گا۔ جب یہ اعتماد بحال ہو جائے گا تو نہ صرف عوام خود کو قومی ترقی کا حقیقی حصہ سمجھیں گے بلکہ جمہوریت بھی اس ملک میں مضبوط بنیادوں پر پروان چڑھے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ عوام کی خدمت وہی منتخب نمائندے بہتر انداز میں کر سکتے ہیں جنہیں عوام نے براہِ راست منتخب کیا ہو، سرکاری ادارے اس خلا کو پُر نہیں کر سکتے۔ اس لیے ضروری ہے کہ سرکاری اداروں کو ہرگز سیاست میں ملوث نہ ہونے دیا جائے۔ صوبائی اور قومی حکومتوں کو یہ اصول طے کرنا ہوگا کہ سرکاری ادارے اپنی انتظامی ذمہ داریاں ادا کریں، جبکہ پالیسی سازی کا اختیار منتخب نمائندوں کے پاس ہو۔محمد نعیم چودھری کے مطابق ہر ادارے کے سربراہ کو اپنی ٹیم منتخب کرنے کے حوالے سے مکمل خودمختاری دی جانی چاہیے تاکہ وہ میرٹ کی بنیاد پر فیصلے کر سکے۔ اسی طرح چیف سیکرٹری کو یہ اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ وہ سیکرٹریز کی تقرری کرے، جبکہ اسمبلیوں کا کام جواب طلبی ہونا چاہیے، نہ کہ انتظامی معاملات میں مداخلت کرنا۔انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پسند و ناپسند کی بنیاد پر تقرریاں اور اداروں کے ذریعے انتقامی کارروائیاں اس ملک کو شدید نقصان پہنچا چکی ہیں۔ یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کے باعث پاکستان میں جمہوریت مضبوط نہیں ہو سکی، کیونکہ سرکاری اداروں کو سیاست کو کنٹرول کرنے کے لیے استعمال کیا جاتا رہا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہونی چاہیے—
سیاست کو اداروں کی رہنمائی کرنی چاہیے، نہ کہ ادارے سیاست کو کنٹرول کریں۔آخر میں انہوں نے کہا کہ جب ہم اس بنیادی فرق کو سمجھ لیں گے اور اس پر عمل درآمد کریں گے تو پاکستان نہ صرف ترقی کرے گا بلکہ عوام کا جمہوریت پر اعتماد بھی بحال ہو جائے گا، جو ایک مستحکم اور خوشحال معاشرے کی بنیاد ہے۔محمد نعیم چودھری کا تعلق تحصیل گوجر خان کے علاقے منکیالہ سے ہے، آج نہ صرف اپنے آبائی علاقے بلکہ پورے پاکستان کے لیے باعثِ فخر بن چکے ہیں۔ ان کی کامیابی اس حقیقت کی گواہ ہے کہ اگر نیت صاف ہو، مقصد خدمت ہو اور محنت مسلسل ہو تو دنیا کے کسی بھی کونے میں کامیابی حاصل کی جا سکتی ہے۔






















