مہنگائی میں مزید اضافہ، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں آسمان پر پہنچ گئیں

موٹر سائیکل سواروں کو 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی

اسلام آباد (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)حکومت نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے اور International Monetary Fund سے کیے گئے وعدوں کے تحت پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کر دیا ہے، جس کے بعد ملک بھر میں نئی قیمتیں نافذ کر دی گئی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق پیٹرول کی قیمت میں 137 روپے 23 پیسے فی لیٹر جبکہ ڈیزل کی قیمت میں 184 روپے 49 پیسے فی لیٹر اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 458 روپے 40 پیسے اور ڈیزل کی قیمت 520 روپے 35 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے۔ نئی قیمتوں کا اطلاق رات 12 بجے سے کر دیا گیا ہے۔

وفاقی وزیر پیٹرولیم Ali Pervaiz Malik اور وزیر خزانہ Muhammad Aurangzeb نے مشترکہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ خلیجی خطے میں جنگی صورتحال کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ آیا ہے، جس کے اثرات پاکستان پر بھی براہِ راست پڑ رہے ہیں۔

وزیر پیٹرولیم نے کہا کہ پاکستان اپنی 90 فیصد تیل کی ضروریات دبئی اور عمان سے پوری کرتا ہے، جہاں قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جبکہ ڈیزل کی عالمی قیمت 250 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے کفایت شعاری، ترقیاتی اخراجات میں کمی اور دیگر اقدامات کے ذریعے عوام پر بوجھ کم کرنے کی کوشش کی، تاہم موجودہ عالمی حالات کے باعث قیمتوں میں اضافہ ناگزیر ہو گیا۔

حکومت کا سبسڈی پلان

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کے مطابق حکومت نے ہدفی سبسڈی دینے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کم آمدن طبقے کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

موٹر سائیکل سواروں کو 100 روپے فی لیٹر سبسڈی دی جائے گی اور ماہانہ 20 لیٹر پیٹرول رعایتی نرخوں پر فراہم کیا جائے گا، جس سے تقریباً 2000 روپے ماہانہ ریلیف ملے گا، جبکہ یہ سہولت ابتدائی طور پر تین ماہ کے لیے ہوگی۔

اس کے علاوہ چھوٹے کسانوں کو فصل کی کٹائی کے دوران 1500 روپے امداد دی جائے گی، مال بردار گاڑیوں اور ٹرکوں کے لیے ماہانہ 70 ہزار سے 80 ہزار روپے جبکہ مسافر بسوں کے لیے ایک لاکھ روپے تک سبسڈی مقرر کی گئی ہے، جبکہ ریلوے کو بھی سبسڈی فراہم کی جائے گی تاکہ عوام کو سفری سہولت میں ریلیف مل سکے۔

اضافی حکومتی اقدامات

حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے مارکیٹوں کے اوقات کار میں تبدیلی کا بھی فیصلہ کیا ہے، جس کے تحت دکانیں دن کے وقت کھولی جائیں گی، اس حوالے سے صوبوں سے مشاورت کے بعد حتمی شیڈول جاری کیا جائے گا۔

ماہرین کی رائے

معاشی ماہرین کے مطابق یہ فیصلہ عالمی حالات کے تناظر میں کیا گیا ہے، تاہم اس کے نتیجے میں مہنگائی میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے، البتہ ہدفی سبسڈی سے محدود سطح پر عوام کو ریلیف مل سکتا ہے۔

عوامی ردعمل

عوام کی جانب سے اس فیصلے پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے، جہاں شہریوں کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی کے ساتھ یہ اضافہ مزید مشکلات پیدا کرے گا، جبکہ کچھ حلقوں نے سبسڈی کو ایک مثبت مگر ناکافی اقدام قرار دیا۔

سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق حکومت کا یہ فیصلہ معاشی دباؤ اور عالمی حالات کا نتیجہ ہے، تاہم اس کے اثرات براہِ راست عام شہری پر پڑیں گے۔ ان کے بقول ہدفی سبسڈی وقتی سہارا ضرور دے سکتی ہے لیکن طویل المدتی حل کے لیے توانائی کے متبادل ذرائع اور مقامی پیداوار میں اضافہ ناگزیر ہے۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں اگر عالمی حالات بہتر نہ ہوئے تو مزید سخت فیصلوں کا امکان بھی موجود ہے۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین