امریکی فوجی قیادت میں بڑی تبدیلی، آرمی چیف آف اسٹاف جنرل کو عہدے سے ہٹا دیا گیا

جنرل جارج کو ہٹانے کا فیصلہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک وسیع پالیسی کا حصہ ہے،زرائع

واشنگٹن (خصوصی رپورٹ: غلام مرتضیٰ)امریکی افواج میں بڑی سطح پر ہلچل مچ گئی ہے، جہاں امریکی وزیر دفاع Pete Hegseth نے آرمی چیف آف اسٹاف Randy George کو عہدہ چھوڑنے اور فوری ریٹائرمنٹ لینے کی ہدایت کر دی ہے، جس کے بعد فوجی قیادت میں اہم تبدیلیاں شروع ہو گئی ہیں۔

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ فیصلہ ایک وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کے تحت فوجی قیادت کو ازسرنو ترتیب دیا جا رہا ہے تاکہ وہ امریکی صدر Donald Trump کی دفاعی پالیسی اور وژن کے مطابق کام کر سکے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل رینڈی جارج ایک تجربہ کار انفنٹری افسر رہے ہیں اور انہوں نے پہلی خلیجی جنگ، عراق اور افغانستان کی جنگوں میں اہم کردار ادا کیا، جبکہ انہیں 2023 میں سابق صدر Joe Biden کی جانب سے اس عہدے کے لیے نامزد کیا گیا تھا اور ان کی مدت 2027 تک متوقع تھی۔

ایک سینئر دفاعی عہدیدار کے مطابق جنرل جارج کی خدمات قابلِ قدر ہیں، تاہم موجودہ حالات میں قیادت کی تبدیلی کو ضروری سمجھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق آرمی کے موجودہ وائس چیف آف اسٹاف Christopher LaNeve کو عبوری طور پر نیا چیف مقرر کیا جا رہا ہے، جبکہ پینٹاگون کے ترجمان نے انہیں ایک تجربہ کار اور قابلِ اعتماد رہنما قرار دیا ہے۔

یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب وزیر دفاع پیٹ ہیگسیٹھ پہلے ہی متعدد سینئر فوجی افسران کو عہدوں سے ہٹا چکے ہیں، جن میں جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کے چیئرمین CQ Brown اور نیول آپریشنز کی سربراہ Lisa Franchetti سمیت دیگر اعلیٰ عہدیدار شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق جنرل جارج کو ہٹانے کا فیصلہ کسی ایک واقعے کا نتیجہ نہیں بلکہ ایک وسیع پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت امریکی فوجی ڈھانچے میں بڑی سطح پر تبدیلیاں متوقع ہیں۔

ماہرین کی رائے

دفاعی ماہرین کے مطابق امریکی فوجی قیادت میں اس نوعیت کی بڑی تبدیلیاں عام طور پر پالیسی اور حکمت عملی میں اہم تبدیلیوں کی نشاندہی کرتی ہیں، اور اس کے اثرات عالمی سطح پر بھی محسوس کیے جا سکتے ہیں۔

عالمی ردعمل

بین الاقوامی سطح پر اس فیصلے کو امریکی دفاعی پالیسی میں ممکنہ تبدیلی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جبکہ مختلف تجزیہ کار اس اقدام کو سیاسی اور عسکری حکمت عملی کا حصہ قرار دے رہے ہیں۔

سینئر تجزیہ کار غلام مرتضیٰ کے مطابق امریکی فوج میں قیادت کی یہ تبدیلی دراصل پالیسی ری الائنمنٹ (دوبارہ ترتیب) کی علامت ہے، جس کا مقصد فوجی اداروں کو موجودہ سیاسی قیادت کے وژن کے مطابق ڈھالنا ہے۔ ان کے بقول اس کے اثرات نہ صرف امریکا بلکہ عالمی سیکیورٹی صورتحال پر بھی پڑ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں مزید تبدیلیاں سامنے آ سکتی ہیں، جو امریکی فوجی حکمت عملی کو نئی سمت دے سکتی ہیں۔

متعلقہ خبریں

مقبول ترین