لاہور( خصوصی رپورٹ: رمیض حسین)پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں جہاں ایک بڑی آبادی کو بنیادی غذائی ضروریات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے، وہیں ہر سال اربوں روپے مالیت کی خوراک ضائع ہو جانا ایک سنگین قومی اور اخلاقی مسئلہ بن چکا ہے۔ سرکاری و عالمی رپورٹس کے مطابق خوراک کا یہ ضیاع نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچا رہا ہے بلکہ ماحولیاتی دباؤ میں اضافے اور غذائی عدم تحفظ کے بحران کو بھی مزید گہرا کر رہا ہے۔
وزارتِ خوراک کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اپنی سالانہ غذائی پیداوار کا تقریباً 26 فیصد حصہ ضائع کر دیتا ہے، جو کہ مقدار کے لحاظ سے 2 کروڑ ٹن خوراک بنتی ہے۔ اس ضائع ہونے والی خوراک کی مالیت تقریباً 4 ارب ڈالر کے قریب ہے، جو ملکی معیشت کے لیے ایک بڑا دھچکا تصور کی جاتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر اس ضیاع کو کم کیا جائے تو نہ صرف غذائی ضروریات کو بہتر طور پر پورا کیا جا سکتا ہے بلکہ درآمدات پر انحصار بھی کم ہو سکتا ہے۔
دوسری جانب، اقوامِ متحدہ کے ذیلی ادارے کی جانب سے جاری کردہ فوڈ ویسٹ انڈیکس رپورٹ 2024 میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پاکستان میں فی کس سالانہ خوراک کا ضیاع 212 کلوگرام تک پہنچ چکا ہے، جو دنیا میں بلند ترین شرحوں میں شمار ہوتا ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ مسئلہ صرف پیداوار تک محدود نہیں بلکہ ذخیرہ اندوزی، ترسیل، اور صارفین کے رویوں میں بھی سنگین خامیاں موجود ہیں۔
ماہرین ماحولیات کے مطابق خوراک کا ضیاع درحقیقت قدرتی وسائل کے بے دریغ استعمال کا باعث بھی بنتا ہے۔ ایک کلو خوراک کی پیداوار میں پانی، زمین اور توانائی کے جو وسائل استعمال ہوتے ہیں، ان کا ضائع ہونا ماحولیاتی بوجھ کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔ اس کے نتیجے میں گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے، جو ماحولیاتی تبدیلیوں کو مزید تیز کرتا ہے۔
ادھر جنوبی ایشیا میں پاکستان کی صورتحال مزید تشویشناک ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق ملک میں غذائی قلت کی شرح 2004-06 کے دوران 17 فیصد تھی، جو بڑھ کر 2021-23 میں 21 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ اس اضافے سے ظاہر ہوتا ہے کہ غذائی تحفظ کے حوالے سے پاکستان کو شدید چیلنجز کا سامنا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ایک طرف لاکھوں ٹن کھانے کے قابل خوراک روزانہ کی بنیاد پر ضائع ہو رہی ہے، جبکہ دوسری طرف ملک میں لاکھوں افراد بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں۔ عالمی سطح پر بھی صورتحال مختلف نہیں، جہاں 2025 میں تقریباً 2.3 ارب افراد کو درمیانی سے شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ خوراک کے ضیاع میں کمی لانے کے لیے ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے، جس میں بہتر سپلائی چین مینجمنٹ، جدید ذخیرہ کاری کے نظام، عوامی آگاہی مہمات اور مؤثر پالیسی سازی شامل ہو۔ خاص طور پر شادی ہالز، ہوٹلز اور گھریلو سطح پر خوراک کے غیر ضروری ضیاع کو روکنے کے لیے سخت اقدامات ناگزیر ہیں۔
حکومت، نجی شعبے اور سول سوسائٹی کو مل کر اس مسئلے کے حل کے لیے عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق اگر بروقت اور مؤثر اقدامات نہ کیے گئے تو یہ مسئلہ نہ صرف غذائی بحران کو مزید سنگین بنا دے گا بلکہ معیشت اور ماحولیات پر اس کے منفی اثرات بھی بڑھتے جائیں گے۔
موجودہ حالات میں خوراک کے ضیاع میں کمی صرف ایک معاشی ضرورت نہیں بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی بن چکی ہے، جس پر فوری توجہ دینا وقت کا تقاضا ہے۔
روزنامہ تحریک کے صحافی نے تجزیہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں خوراک کے ضیاع کا مسئلہ ایک سنجیدہ معاشی، سماجی اور ماحولیاتی چیلنج بن چکا ہے۔ وزارتِ خوراک کے 2024 کے اعداد و شمار کے مطابق ملک اپنی سالانہ غذائی پیداوار کا تقریباً 26 فیصد حصہ ضائع کر دیتا ہے، جو مقدار کے لحاظ سے تقریباً 2 کروڑ ٹن اور مالی طور پر 4 ارب ڈالر کے برابر ہے۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ پیدا شدہ خوراک کا ایک بڑا حصہ ضائع ہو رہا ہے، جس سے نہ صرف معیشت کو نقصان پہنچتا ہے بلکہ غذائی قلت اور بھوک کے بحران میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
خوراک کے ضیاع کی وجوہات متعدد ہیں۔ زرعی پیداوار کے بعد مناسب ذخیرہ اندوزی کے نظام کی کمی، ناقص ٹرانسپورٹ اور لاجسٹک سہولیات، اور صارفین کی غیر ضروری ضائع کرنے کی عادتیں اس مسئلے کے بنیادی اسباب ہیں۔ یو این ای پی کے فوڈ ویسٹ انڈیکس 2024 کے مطابق پاکستان میں فی کس سالانہ خوراک کا ضیاع 212 کلوگرام ہے، جو عالمی سطح پر بلند ترین شرح میں شامل ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ضیاع صرف پیداوار تک محدود نہیں بلکہ مارکیٹ اور صارفین کے رویوں میں بھی خامیاں موجود ہیں۔
غذائی قلت اور بھوک کے مسائل پاکستان میں شدت اختیار کر چکے ہیں۔ جنوبی ایشیا میں پاکستان واحد ملک ہے جہاں غذائی قلت کی شرح 2004-06 کے 17 فیصد سے بڑھ کر 2021-23 میں 21 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔ لاکھوں افراد، خاص طور پر دیہی علاقوں میں، اپنی بنیادی غذائی ضروریات پوری کرنے میں ناکام ہیں۔ عالمی اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 2.3 ارب افراد کو درمیانی سے شدید درجے کے غذائی عدم تحفظ کا سامنا رہا، اور ایسے حالات میں پاکستان میں خوراک کے ضیاع کو کم کرنا نہ صرف معیشتی بلکہ اخلاقی ضرورت بھی ہے۔
معیشت پر اس مسئلے کے اثرات بھی سنگین ہیں۔ اربوں ڈالر کی ضائع شدہ خوراک ملک کی زرعی پیداوار اور برآمدات کے لیے نقصان دہ ہے، جبکہ درآمدات پر انحصار بڑھتا ہے۔ مزید برآں، خوراک کی پیداوار میں استعمال ہونے والے پانی، زمین اور توانائی کے وسائل بھی ضائع ہوتے ہیں، جس سے ماحولیاتی دباؤ اور گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں اضافہ ہوتا ہے۔
اس بحران کا حل جامع حکمت عملی میں پوشیدہ ہے۔ جدید ذخیرہ اندوزی اور ٹرانسپورٹ کے نظام کی ترقی، عوامی آگاہی مہمات، مؤثر پالیسی سازی، زائد خوراک کی منصفانہ تقسیم اور پرائیویٹ و سول سوسائٹی کی شراکت داری ضیاع کم کرنے کے بنیادی اقدامات ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر حکومت اور عوام بروقت اقدامات کریں تو یہ مسئلہ کم کیا جا سکتا ہے، بصورت دیگر نہ صرف انسانی زندگیوں اور معیشت کو نقصان پہنچے گا بلکہ ماحولیاتی دباؤ بھی بڑھتا جائے گا۔
پاکستان میں خوراک کے ضیاع میں کمی نہ صرف ایک اقتصادی ضرورت ہے بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری بھی بن چکی ہے، اور اس پر فوری توجہ دینا وقت کی اہم ضرورت ہے۔





















